July 15, 2020

مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں!

مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں!

 

اسدالرحمن تیمی
آج ساری دنیا میں مسلمان ہر قسم کی پریشانیوں سے دوچار ہیں، کون سی ایسی مصیبت ہے جس سے مسلمانوں کا سامنا نہیں، ان کی بے بسی بے کلی اور تکلیف دیکھ کر ہر صاحب ایمان کا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ایک طرف وہ خود د داخلی طور پر پر غربت ناخواندگی جہالات نعت معاشی تنگی باہمی کھراب سیاسی کمزوری کے شکار ہیں تو دوسری طرف آغیار نے بھی ان پر ظلم و ستم کا شکنجہ کس رکھا ہے۔ مسلمانوں کے تعلق سے کہیں سے بھی کوئی امید افزا خبر نہیں آتی ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے گویا مایوسی کے کہرے نے سارے عالم اسلام کو اپنی زد میں لے رکھا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ حالات بدلیں گے نہیں بلکہ ہمیشہ یوں ہی رہیں گے۔ اور یہی سوچ کر بہت سارے مسلمان ان سخت حالات کے سامنے اپنی لاچاری اور بیچارگی کا کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنی طاقت بھر حالات بدلنے کے لیے کوشش نہیں کرتے بلکہ کہ سستی و کاہلی ان کا رویہ بن جاتا ہے اور واسط بس ظاہری اسباب اور اور مادی امور پر نگاہ مرکوز کیے ہوئے ہوتے ہیں۔
لیکن یا ایک سچے اور پکے مسلمان کے شایان شان نہیں کیونکہ وہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا ہے وہ ہمیشہ اللہ کی کرم فرمائیوں اور نوازشوں کے تعین پر امید ہوتا ہے کیونکہ حالات کی کبھی یکساں نہیں رہ سکتے۔۔ بقول اقبال۔۔۔
“ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں”
عربی زبان میں عثمانہ کو اس طرح تعبیر کیا گیا ہے کہ: “دوام الحال من المحال” یعنی کسی حالت کا ہمیشہ ایک جیسا ہونا ناممکن ہے۔ انگریزی کا محاورہ ہے۔ there is nothing permanent except changing.
اس لئے ایک سچا مسلمان ہمیشہ اپنی بساط ورک حالات کو بدلنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔واہ اسباب اور مادی امور پر پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ خالق کائنات سے بھی حالات کی تبدیلی کے لیے دعاگو رہتا ہے۔اسے اللہ سے یہ کامل یقین اور بھروسہ رہتا ہے کہ واہ ارحم الراحمین پر یشانی کے بعد آسانی اور تنگی کے بعد کشیدگی عطا فرمائے گا۔ جب بھی حالات تیرہ و تاریک ہوں اقبال کا یہ شعر مومن کے لیے مشعل راہ کا کام کرتا ہے۔
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہے  یہ مردوں کی شمشیریں۔
جب کبھی مسلمانوں کے موجودہ حالات سے مایوسی کا خیال آئے آئے تو ہمیشہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی مثال سامنے رکھنی چاہیے۔ ان کے زمانے میں مسلمان ان آج سے بھی زیادہ بدترین بکھراؤ اور انتشار کے شکار تھے۔ ان کے مابین انتشار اور باہمی ٹکراؤ کا تصور نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ صرف شام میں جو چھوٹا سا ملک ہے ہے وہاں جتنے شہر تھے اتنی حکومتیں بھی تھی اور ہر حکومت خودمختار اور ہر ایک کا اپنا بادشاہ اور امیر دوسری طرف صلح بھی اپنی طاقت و سیاست کے کے شباب پر تھے لیکن ایسے حالات میں صلاح الدین ایوبی نے مسلمانوں کو کو متحد کیا اور ساری عیسائی دنیا کو کو شکست و ریخت سے دوچار کیا ہے۔ زمانے کے حالات آج کے زمانے سے بدرجہا بدتر تھے۔اس زمانے کے حالات بدل سکتے ہیں تو پھر آج کیوں نہیں۔ بس ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر معنوی ایمانی اور مادی صلاحیتیں پیدا کریں۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔

Post source : Asad ur rahman