July 15, 2020

ناراین پیٹ میں سڑک کی توسیع کے نام پر 200 سالہ عاشور خانہ منہدم

ناراین پیٹ میں سڑک کی توسیع کے نام پر 200 سالہ عاشور خانہ منہدم

نارائن پیٹ: یکم جون (اردو لیکس) نارائن پیٹ ضلع مستقر پر محکمہ آر اینڈ بی اور بلدیہ کی جانب سے بلا کسی پیشگی نوٹس و اطلاع کے روڈ پر واقع دو سو سالہ قدیم عاشور خانہ کو روڈ کی کشادگی کے نام پر بلڈوزر کے ذریعہ انہدام سے نارائن پیٹ کے مسلمانوں میں بے چینی و تشویش پائی جاتی ہے محکمہ بلدیہ کی جانب سے متبادل جگہ یا معاوضہ کے بغیر اچانک انہدامی کارروائی کو سرکاری شرپسندی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران جبکہ لوگ گھروں میں بند تھے۔ اسطرح کی من مانی کاروائی قانون اختیارات کا غلط استعمال اور ڈکیٹرانہ رویہ سے نارائن نے کے مسلم عوام اور قائدین سخت برہم ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کا ایک نمائندہ وفد آج ضلع کلکٹر شریمتی ہری چندنا دساری آئی اے ایس سے انکے چیمبر میں ملاقات کی اور کہا کہ نارائن پیٹ کا یہ ایک قدیم عاشور خانہ ہے جسکا ہندو مسلم سب زائرین عقیدت و احترام کرتے ہیں اور مذہبی وابستگی رکھتے ہیں اسطرح کی اچانک کارروائی سے عوام حیران ہے۔ ان قائدین نے مطالبہ کیا کہ اس عاشور خانہ کو اسی مقام پر باز آباد کاری کی جائے۔ بعد ازاں یہ وفد آر ڈی او آفس میں اوقاف کا ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ اور ضلع ایس پی سے ملاقات کی تاکہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔اس موقع پر محمد نواز موسی’ عبدالسلیم ایڈوکیٹ’ سرفراز حسین انصاری’ غلام محی الدین چاند’ عبد القادر میسور’ ذاکر ہزاری’ ریاض الدین رنگریز ‘ تاج الدین ٹنگلی’ عبدالسلیم کونسلر’ محمد تقی چاند پیر’ محمد شریف’ یونس تارکش’ محمود قریشی’ معین انپور’ محمد تقی خرادی’ جعفر چاند’ تاج الدین’ محمد طاہر کے علاوہ دیگر موجودہ تھے۔ بعد ازاں وفد نے ضلع وقف بورڈ محبوب نگر محمد غوث کے ہمراہ نارائن پیٹ مسلم قائدین نے عاشور خانہ کی جگہ پہنچ کر معائنہ کیا۔

Post source : Urduleaks