July 15, 2020

نفرت کی سیاست_ کتنے دن کی مہمان ؟

 

*نفرت کی سیاست_ کتنے دن کی مہمان ؟*
      ✍ شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری ___
                تاریخ کا ہر طالب علم جانتاہے کہ رات  اپنے جلو میں کتنی بھی تاریک پن لمحات کو کیوں نہ سمو ئے ہو ، اس کی زندگی کتنی بھی لمبی کیوں نہ ہو۔  بہر حال رات ،  رات ہے۔   اور یہ حتمی بات ہے کہ  اس تاریکی  کی کوکھ سے  ضرور  ضو افشاں سورج جنم لیتا ہے / اور لے گا  جو  منٹوں میں تاریکی کا نام ونشاں مٹا کر ہماری پیش رفتگی اک صبح دو بالا کی طرف کر دے گا   ___
  بلاشبہ!  آج ملک ہندوستاں بھی ظلمت  کے اسی در و  دیوار پر کھڑا ہو چکا ہے   ۔ اور ہر طرف سے لوگوں کی ذہن سازی بھی امن اور محبت و مودت سے دور ، نفرت  ، تعصب  اور فرقہ پرستی کے شکنجے میں کش کر کیا  جارہا ہے  ___
               جس سے جہاں  جمہوریت کا  زندہ خون ہو رہا ہے وہیں پر بھیم راو امبیڈکر ، گاندھی جی کی آتماوں  پر ضرب کاری  اور گنگا  جمنی تہذیب و ثقافت پر نفرت کی داغ بیل ڈال کر  آباد اور مل جوٹ وطن کو برباد اور ٹکڑا ٹکڑا کرنے کا گیم کھیلنا نفرت باز یگروں کی طرف سے بھی  شروع ہو چکا ہے  __
               جو ہم سبھی وطن باشیوں کے لیے لائق افسردہ ہے ______ !
اور  آج پھر  ایک ایسے  گاندھی کا انتظارہے۔
 *ایک ایسے گوتم ، نانک یا چشتی کا انتظار ہے کہ جو نفرت کے اس عفریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے چیلنج کرسکے۔ اہنسا اور پریم کے اس دیش کو احساس دلا سکے کہ نفرت اس کی آتما نہیں ہے۔ بھارت کی آتما پریم اور پیار ہے۔ اپنی آتما کو نقصان پہنچا کر بھارت زندہ نہیں رہ سکتا ۔بھارت کو زندہ رکھنے کے لئے اس کی آتما کو واپس لوٹانا ہوگا۔ پریم اور محبت کی آتما ،گوتم،رام، کرشن ،نانک، چشتی، کبیر اور گاندھی کی آتما۔*
           میں پورے  یقین کے ساتھ کہتا ہوں  کہ اس پاک طنیت اور روحانی طبیعت کے مالک افراد کی  زمین پر  یہ نفرت بھری سیاست کی زندگی صرف چند دن کی ہے ___
          نفرت کی سیاست کھیلنے والے اپنے ہدف میں کبھی  کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
  کیونکہ اس وطن کی مٹی کے ہر ذرہ سے محبت اور تپتے ہوئے صحرا سے متحد ہوکر رہنے کی آوازیں کل بھی انگڑائیاں لے رہی تھی ، جس سے سامراج افراد کا تخت و تاج تہس نہس ہوگیا تھا ۔  اور آج بھی ضرور لے گی!
        *مگر سوال یہ ہے کہ نفرت کی یہ رات جو ابھی شروع ہوئی ہے، کتنی طویل ہوگی؟نفرت کا یہ عفریت اپنے راستے میں کتنی تباہی پھیلائے گا اور کتنے بے گناہوں کی جان لے گا۔*
*ہم دیکھ رہے ہیں کہ نفرت کی سیاست نے داعش کے نام پر کس طرح لیبیا، عراق اور شام کو تہس نہس کردیا۔ کیا ہمیں بھی صبح ہونے سے پہلے ایسے ہی دور سے گزرناہوگا؟یا پھر گاندھی کے اس دیش میں ایک اور گاندھی ابھرے گا۔ ایک اور مہاتما سامنے آئے گا اور نفرت کے اس عفریت کا خاتمہ کردے گا۔ اس سے پہلے کہ یہ ہمارے سماج ، ہماری سیاست اور ہماری جمہوریت کو تباہ وبرباد کردے۔*
              اے میرے وطن کے جیالو!
اٹھو!  اور آنکھیں کھولو۔ اور ان نفرت کی ہولی کھیلنے والوں کے خلاف یکجٹ ہوکر  آوازیں بلند کرو۔
 تمہارے بازوں اور آوازوں میں خداوند قدوس نے وہ طاقت رکھی ہے جس سے ہر  ظلم و ستم پنپوانے والی  حکومت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور ہر نفرت بھری  چراغ کی لو ہماری محبت بھری چراغ کی لو کے سامنے دھیمی پڑ سکتی ہے _
                       کیونکہ _ __ __ _ ___
             یہ بازوں میرے آزمائے ہوئے ہیں۔
  ہم وطن ساتھیو!
             قائد آسمان سے نہیں اترتے، عوام کے درمیان  ہی جنم لیتے ہیں۔ لیکن  کیا اہنسا کے اس دیش میں جنتا کوپانی سر سے اونچا ہونے سے پہلے ہوش آئے گا؟ اور وہ نفرت کی سیاست کو ٹھوکر مار کر اہنسا ،محبت اور بھائی چارے کے راستے کوپھر سے اپنالیں گے۔
   وہ راستہ جس کی نشاندہی اس ملک کے جنگ آزادی کے قائدین نے کی تھی۔ جس پر چل کر آج ہندوستان کا شمار دنیاکے طاقتورملکوں میں ہو نے لگا ہے۔ جس بھارت کی بنیاد گاندھی،نہرو، پٹیل اور آزادنے رکھی تھی۔ جس نفرت کے عفریت کو مہاتما گاندھی نے اپنے لہو سے شکست دی تھی۔ اور گو ڈ سے کی نفرت کی سیاست گاندھی کے لہو کے سامنے سرنگوں ہوگئی تھی۔
   میرے بھائیو!
     اسی گوڈ سے کی سیاست کو ایک بار پھرناکام بنانے اور ہمیشہ کیلئے دفنانے کی ضرور ت ہے ۔
     آپسی نفرتیں دور کرو اور متحد ہو جائو!
اور  نفرت کی ہولیاں کھیلنے والوں کو  ملیا میٹ کرنے کے لیے کمربستہ  ہوجاو _ _ _ _
   ہوتی نہیں جو قوم _ _ _ _ حق بات پر یکجا
اس قوم کا حاکم ہی بس اس کی سزا ہے ۔
                                   (فیض احمد فیض)
اور یاد رکھو!
جیت ہماری ہی ہوگی  کیونکہ  نفرت کی سیاست نہ کبھی کامیاب ہوئی ہے نہ ہوگی۔
 مگر اس کے لئے ہر ہندوستانی کو وہ راستہ اپنا نا ہوگا، جو باپو نے ہمیں دکھایاتھا اور جس پر چل کر ہم نے دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت کو شکست دی تھی۔
بقول فیض احمدفیض
  وہ لا ئیں لشکر اغیار واعدا ہم بھی دیکھیں گے
سر مقتل  کہاں ہے منزل راہ تمنا ہم بھی دیکھیں گے ۔
کسے روکے گا شورِ پندِ بے جا ہم بھی دیکھیں گے
کسے ہے جا کے لوٹ آنے کا یارا ہم بھی دیکھیں گے
جو اس ساعت میں پنہاں ہے اجالا ہم بھی دیکھیں گے
جو فرقِ صبح پر چمکے گا تارا ہم بھی دیکھیں  ۔۔۔۔ ___
       مولا! وطن کی حفاظت فرما ۔ آمین ۔
 موبائل نمبر: 9554633547

Post source : Sha khalid