July 11, 2020

سندور نہ لگانا اور چوڑیاں نہ پہننا شادی سے انکار کے مترادف!

سندور نہ لگانا اور چوڑیاں نہ پہننا شادی سے انکار کے مترادف!

حیدرآباد -29 جون ( اردو لیکس) گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنے ایک سنسنی خیز فیصلہ میں کہا ہے کہ مانگ میں سندور نہ لگانا  اور ہاتھوں میں چوڑیاں نہ پہننا شادی سے انکار کے مترادف ہوگا ۔آسام میں ایک جوڑے کی شادی فروری 2012 کو ہوئی تھی شادی کے ایک ماہ بعد ہی خاتون نے  علیحدہ رہنے کا مطالبہ شروع کردیا جس پر اس کے شوہر نے انکار کردیا ایک سال بعد خاتون اپنے میکہ روانہ ہوگئی ۔اورخاتون نے شوہر اور اس کے ساتھ سسرالی رشتہ داروں کے خلاف مزید جہیز کا مقدمہ دائر کیا ۔تاہم ثبوت پیش نہ کرنے پر ہائی کورٹ نے اس کیس کو خارج کردیا ۔بعد ازاں شوہر نے طلاق کے لئے فیملی کورٹ سے رجوع ہوا اور بتایا کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ نہیں رہتی اور وہ مانگ میں سندور اور ہاتھوں میں چوڑیاں بھی نہیں پہنتی ہے گویا کہ اس نے یہ شادی کو ماننے سے انکار کررہی ہے اس لئے انھیں طلاق کی اجازت دی جائے ۔تاہم فیملی کورٹ نے شوہر کی درخواست کو مسترد کردیا ۔جس پر شوہر گوہاٹی ہائی کورٹ رجوع ہوتے ہوئے اسی دلائل کو پیش کیا ۔جس پر ہائی کورٹ نے اپنے سنسنی خیز فیصلہ میں ریمارکس کئے کہ ” شادی شدہ ہندو خاتون ، اس کے رسم ورواج کے مطابق مانگ میں سندور اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہننے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے تو یہ سمجھا جائے گا اس کے شوہر کے ساتھ انجام دی گئی شادی کو وہ مسترد کررہی ہے ایسے حالات میں ازواج زندگی مشکل ہوجائے گی اور طلاق ہی اس کا واحد حل ہے 

Post source : Urduleaks