August 05, 2020

دہلی فسادات میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ہاتھ – دہلی پولیس کا الزام!

دہلی فسادات میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ہاتھ – دہلی پولیس کا الزام!

نئی دہلی-4 جولائی( اردو لیکس) دہلی پولیس  کی خصوصی سیل کی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی دارالحکومت دہلی میں ہونے والے فسادات میں  مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائک ملوث تھے۔ 24 فروری کو شمال مشرقی دہلی میں سی اے اے کی تائید اور مخالفت کرنے والے مظاہرین کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق  خالد سیفی ، جنھیں فسادات کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا نے فسادات سے قبل ملائیشیا میں  ذاکر نائک سے ملاقات کی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ خالد سیفی کے تعلقات عمر خالد اور طاہر حسین سے تھے ، جو فسادات کے ذمہ دار تھے۔ذاکر نائک کی ایما پر فسادات کے لئے فنڈس سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ایک این آر آئی نے سعودی عرب سے خالد سیفی کو روانہ کئے تھے اسی طرح غازی آباد کانگریس کی سابق میونسپل کونسلر عشرت جہاں کو مارچ میں مہاراشٹر میں رشتہ داروں سے خفیہ طور پر فنڈس وصول ہوئے جس کے بعد دہلی پولیس نے عشرت جہاں کو گرفتار کیا تھا۔ خالد سیفی اور عشرت جہاں کو پولیس نے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تفتیش نہیں کی ہے۔ سنگاپور سے تعلق رکھنے والے جس این آر آئی نے  مبینہ طور پر خالد سیفی کو مالی اعانت فراہم کی  تھی۔ یہ رقم میرٹھ سے تعلق رکھنے والے اس کے ساتھی عمر خالد کے ذریعہ چلائے جانے والے خیراتی ادارہ میں منتقل ہوئی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش کی جا رہی ہے

Post source : Urduleaks