August 14, 2020

کوئی عمل قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا

کوئی عمل قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

       ہر سال قربانی کا زمانہ آنے سے کچھ عرصہ پہلے اس طرح کے سوالات کثرت سے پوچھے جانے لگتے ہیں _ امسال کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان میں اضافہ ہوگیا ہے :

 

     1 _ لاکھوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے جانور ذبح کیے جاتے ہیں _ حج کے موقع پر حاجی بڑے پیمانے پر قربانی کرتے ہیں اور عید الاضحٰی کی مناسب سے غیر حاجی بھی قربانی کا اہتمام کرتے ہیں _ جانوروں کے قتل میں جو بے رحمی اور وحشیانہ پن پایا جاتا ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے تو بھی گوشت بہت ضائع ہوتا ہے اور لذّتِ کام و دہن کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا _ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ قربانی میں صرف ہونے والے اربوں روپے رفاہی کاموں میں خرچ کیے جائیں؟ تاکہ اس سے ہزاروں لاکھوں غریب انسانوں کا بھلا ہو _

 

      2 _ کئی مہینے کے لاک ڈاؤن نے معیشت کی کمر توڑ دی ہے _ لاکھوں انسانوں کے روز گار ختم ہوگئے ہیں اور وہ بھکمری کا شکار ہیں _ کیا امسال قربانی نہ کرکے انسانی بنیاد پر ان غریبوں کی مدد نہیں کی جاسکتی؟

 

     3 _ کورونا کی شدّت اور خطرناکی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے _ اس کا مقابلہ صرف یوں ممکن ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے، اور صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی جائے _ قربانی کی صورت میں جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل انہیں باندھنے رکھنے میں اور ذبح کرنے کے بعد ان کی آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بڑی زحمتیں پیش آتی ہیں اور گندگی ہوتی ہے _ کیا کورونا سے تحفظ کے پیش نظر ایسا نہیں کیا جاسکتا کہ قربانی نہ کی جائے اور اس کے بہ قدر رقم کا صدقہ کردیا جائے؟

 

          اس طرح کے اور بھی سوالات کیے جاسکتے ہیں _ ان تمام سوالات کا مختصر جواب یہ ہے کہ کوئی عمل قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا _ قربانی کا عمل قرآن و سنت سے ثابت ہے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا تاکیدی حکم دیا ہے _ ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ دس برس برابر قربانی کرتے رہے _ اس لیے شرعی طور پر قربانی کرنا ہر صاحبِ حیثیت مسلمان کے لیے واجب ہے _ ایامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جانور کی قربانی سے زیادہ محبوب عمل اور کوئی عمل نہیں _ دین میں جس عمل کا جیسے حکم دیا گیا ہے اس پر جوں کا توں عمل مطلوب ہے _ کسی اور شکل میں اس کی انجام دہی کی اجازت نہیں ہے _

 

      غریبوں کا تذکرہ اور رفاہی کاموں کی بات اس انداز میں کی جاتی ہے کہ لگتا ہے ، قربانی کو موقوف کیے بغیر غریبوں کی کچھ بھی امداد نہیں کی جاسکتی ، حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کرکے بھی غریب انسانوں کی امداد کی جاسکتی ہے اور ان کی ضرورتیں پوری کی جاسکتی ہیں _ کتنے مال دار اور صاحبِ حیثیت لوگ ہیں جو عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی کرتے ہیں اور پورے سال بڑھ چڑھ کر غریبوں کی مدد بھی کرتے ہیں _ اس لیے قربانی کی عبادت کو موقوف کرکے غریبوں کی امداد کی بات کرنا دانش مندی نہیں ہے _

 

     قربانی کے عمل کو موقوف کرنے کی بات کرنا غریبوں کے ساتھ ہم دردی نہیں ہے ، بلکہ دیکھا جائے تو یہ غریبوں کے حقوق کی پامالی ہے _ قربانی کے ساتھ ہزاروں غریبوں کا کاروبار وابستہ ہے _ وہ پورے سال جانوروں کی پرورش کرتے ہیں اور قربانی کے موقع پر اچھے داموں میں انہیں فروخت کرتے ہیں _ جانوروں کو ذبح کرنے کے لیے قصائیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ،چنانچہ وہ ذبح کرکے اچھے پیسے کماتے ہیں _ چرم قربانی کی خاصی بڑی مارکیٹ ہے، جسے ایک سازش کے تحت گزشتہ چند برسوں سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے _ خلاصہ یہ کہ قربانی سے ہزاروں غریبوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے _

 

قربانی کے بعض اور پہلوؤں پر گفتگو آئندہ……

Post source : Razi nadvi