August 14, 2020

دو یومیہ لاک ڈاؤن: احتیاطی تدبیر یا سازش کا حصہ تحریر: محمد شعیب رضا نظامی فیضی

دو یومیہ لاک ڈاؤن: احتیاطی تدبیر یا سازش کا حصہ تحریر: محمد شعیب رضا نظامی فیضی

بلا شبہ کورونا وائرس کی تباہیوں کا انکار ممکن نہیں، اب تک دنیا بھر میں اس سے سوا ایک کروڑ لوگ اس سے متاثر ہوچکے ہیں، اپنے ملک ہندوستان میں ۸/ لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ جبکہ صوبہ اتر پردیش میں متاثرین کی تعدادچوتیس ہزار(۰۰۰۴۳) کے قریب ہے۔ واضح ہو کہ ابھی تک کورونا کی کوئی دوا نہ بن سکی ہے، ڈاکٹروں کے پاس اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اور احتیاط کے نام پر صرف لاک ڈاؤن، سینیٹائزر اور ماسک ہے۔
اور اگر بات کریں ہمارے ملک میں گزشتہ چار مہینوں کی تو تبلیغی جماعت، تالی، تھالی، دیا، باتی، موب لنچنگ، پولیس والوں کا ظلم، پولیس والوں پر ظلم، کورونالین دوا وغیرہ وغیرہ ملک کی جمہوریت اور سیاست پر بدنما داغ بن کر ابھرے۔ اس پر مستزاد ٹڈی دل کا حملہ، چین کا ناجائز قبضہ اور حملہ، نیپال کا حملہ اور حال ہی میں وکاس دوبے نامی دہشت گرد کا حملہ۔ غرض کہ گزشتہ چار مہینوں میں پورا ملک اپنے بدترین دور سے گزرا۔(اور ابھی گزر رہا ہے) لیکن اس کے باوجود بھی سیاست داں اور فرقہ پرست عناصر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ابھی چند دنوں قبل ملک کے وزیر اعظم جناب مودی جی نے غریبوں کے زخموں پر مرہم لگانے کے بہانے (صوبہ بہار میں) اپنی سیاسی روٹی سینکنے کی بھرپور کوشش شروع کی تو وہیں دوسرے صوبہ (اترپردیش) میں ان کے ہی پارٹی کی حکومت نے دوبارہ اور عجیب وغریب لاک ڈاؤن کے نفاذ کو عمل میں لادیا۔
ہاں! لاک ڈاؤن؟؟؟ اس کی بھی ایک عجیب داستان ہے؛ لاک ڈاؤن کا نفاذ ملک گیر پیمانے پر ۴۲/ مارچ کو شروع ہوا اور مسلسل تین ماہ (سے کچھ کم) تک چلتا رہا۔ اس درمیان کیا کیا گل کھلائے گئے اور ایک مخصوص فرقہ کو کس طرح ٹارگیٹ کیا گیا، دنیا نے دیکھا۔ لیکن خود لاک ڈاؤن کا کتنا زبردست استعمال کیا گیا وہ بھی ملاحظ کریں ……
لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے میں مسلمانوں کا تہوار پڑا ”شب برأت“ جس میں مسلمان قبرستان جاتے ہیں، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسلمان قبرستان نہیں گئے۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں رمضان المبارک جس کی مصروفیات جگ ظاہر ہے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے تراویح، بازاروں میں نکل کر افطار کے سامان کی خریداری سب بند۔ البتہ گھر گھر سامان پہنچانے کا سسٹم اپنایا گیا لیکن بغیر پیسوں کے تو وہ بھی نہیں ملنے والا تھا۔ معاً بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی تہوار ”عید“۔ اس میں بھی لاک ڈاؤن۔ عید کی نماز تک پڑھنے کی اجازت نہیں۔ مسلمانوں نے شاید ہی کبھی ایسا سیاہ دن دیکھا ہو کہ عید کی نماز پڑھنے کو نہ ملی۔ اور اب لاک ڈاؤن کی سیاست دیکھیے عید ختم ہوتے ہی ان لاکنگ شروع؟؟؟ لوگوں کو بازاروں میں نکلنے کی اجازت مل گئی، ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کی عام اجازت مل گئی!!! کیا عید کے بعد کورونا ملک سے جا چکا تھا؟ کیا عید کے بعد کورونا سے مرنے والوں کی تعداد کم ہونے لگی تھی؟ نہیں۔ بلکہ کورونا نے اس وقت مزید اپنے پیر جمالیے تھے، اس سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہی اضافہ ہو رہا تھا۔ ہاں صرف مسلمانوں کا کوئی تہوار نہیں تھا۔ اور جب مسلمانوں کا ایک تہوار (بقرہ عید) قریب آیا تو اترپردیش کی بی۔جے۔پی۔ حکومت نے دوبارہ اپنا داؤں کھیلنا شروع کردیا۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ قربانی کا تہوار تین دنوں تک چلتا ہے اور امسال یہ تینوں دن 1،2 اور 3/ اگست کی تاریخوں میں متوقع ہے جسے دنوں کے لحاظ سے دیکھیں تو ہفتہ، اتوار اور دوشنبہ کو قربانی کے ایام ہوں گے۔(ان شاء اللہ) اور اس تاریخ سے تین ہفتے پہلے یعنی ۰۱/ جولائی کی شام سے یوگی حکومت نے صوبہ بھر میں ۵۵/ گھنٹوں کے لاک ڈاؤن کا حکم نافذ کردیا اور اس کے بعد یہ بھی اعلان کردیا کہ اب ہر ہفتے میں دو دنوں کا لاک ڈاؤن ہو گا۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ بعینہ اسی دن سے دو یومیہ لاک ڈاؤن کا نفاذ شروع ہوا جس دن مسلمانوں کا تہوار متوقع ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر ہفتہ کے دو دن یعنی ہر سنیچر اور اتوار کو لاک ڈاؤن کیا گیا تو مسلمان اپنے اس عظیم تہوار کو بھی منانے سے رہ گئے۔ ویسے بھی ۶۱/ جمعہ ہوچکے ہیں، مسلمان اجتماعی طور نماز نہ پڑھ سکے، ایک تراویح (مع جماعت) نہ پڑھ سکے، الوداع کی نماز سے محروم رہ گئے، عید کی نماز ترک کرنی پڑی۔ اور اب قربانی میں بھی لاک ڈاؤن؟؟؟ یہ احتیاطی تدبیر ہے یا پھر مسلمانوں کو پریشان کرنے کی سازش کا ایک حصہ؟؟؟
جو یہ دیوار کا سوراخ ہے، سازش کا حصہ ہے
مگر ہم اس کو اپنے گھر کا روشن دان کہتے ہیں

مضمون نگار، دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور کے استاذ ومفتی اور ہماری آواز، گورکھ پور کے چیف ایڈیٹر ہیں۔