August 05, 2020

نئی تعلیمی پالیسی سے عدم مساوات کو بڑھاوا ملے گا : جماعت اسلامی ہند

نئی تعلیمی پالیسی سے عدم مساوات کو بڑھاوا ملے گا : جماعت اسلامی ہند

31-07-2020

نئی دہلی 31جولائی: جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ نے حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی کچھ خصوصیات کو سراہا ہے مگر دیگر کچھ شقوں پر تنقید بھی کی ہے۔ میڈیا کو دیئے گئے ایک بیان میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئر مین جناب نصرت علی نے اس نئی پالیسی کے تمام اہم پہلوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”٭حکومت نے’نئی ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) 2020‘کو پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کئے بغیر اعلان کیا ہے۔جبکہ اس سے قبل حکومت کے ذریعہ منظور کی جانے والی تمام تعلیمی پالیسیوں پر پارلیمنٹ میں مباحثے ہوا کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجود حکومت جمہوری طریقوں کو اپنانا نہیں چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی ہند مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث کرائے۔٭ اسی طرح حکومت نے جس پالیسی کا اعلان کیا ہے، اس کا ویژن واضح نہیں ہے، اس میں وضاحت کا فقدان ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں معاشرتی تبدیلی پر توجہ دینے سے زیادہ مادیت پسندی پر دھیان دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی رائے میں ہمارے ملک میں ایک ایسی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے جس کا مقصد معاشرتی انصاف، جمہوری اقدار، مساوات اور باہمی اعتماد کی بحالی کے ذریعہ معاشرتی تبدیلی ہو۔ ٭پالیسی میں تعلیم کے جامع اور مربوط اپروچ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ اس میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ہندوستانی تناظر میں جامع اپروچ کی تعریف کیا ہونی چاہئے۔ جماعت اسلامی ہند شدت سے اس بات کو محسوس کرتی ہے کہ تعلیم کے لئے ایک جامع نقطہ نظر اپنا کر ہی معاشرے میں ترقی، خوشی اور امن حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کو پرائمری اسکول اور سیکنڈری اسکول کے نصاب و اقدار کو مربوط نصاب کی شکل میں لاکر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ان اقدار کو ہمہ گیر مشترکہ اقدار سے اخذ کیا جاسکتا ہے اور یہ ہمارے آئین میں موجود ہیں۔ ٭اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے لئے درجہ بند کئے گئے اداروں کے نظام کے تئیں بہت مہنگی یونیورسٹیوں اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو پرمیشن دینا، ہمارے تعلیمی نظام کو ایسا بنادے گا جس سے امیر طلباء کے لئے ہی یہ نظام قابل رسائی اور آسان ہو گا۔ اس سے معاشرتی عدم مساوات کو بڑھاوا ملے گا اور معاشرتی انصاف پر منفی اثر پڑے گا۔ جبکہ معاشرتی مساوات اور انصاف ہمارے آئین کی روح ہے۔٭ مادری زبان میں پرائمری تعلیم دینے کی پالیسی ایک اچھا قدم ہے، لیکن اس کے نفاذ کے لئے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ٭ابتدائی بچپن کی تعلیم میں بچے کی ماؤں اور بچے کے مربی دونوں کی ٹریننگ لازمی ہوتی ہے،بصورت دیگر یہ مڈل کلاس کے لئے صرف ایک خیال بن کر رہ جائے گا اوراس سے ان کا استحصال کرنے اور تعلیمی اداروں کے کاروباری بنانے کا ایک بڑا مارکیٹ فراہم ہوگا۔٭اسکیل ڈیولپمنٹ پروگرام ایک طویل مدتی آئیڈیا ہے، اگر اسے پرائیویٹ اداروں کو دے دیا گیا تو اس پر عمل درآمد ناقص ہوجائے گا۔ ٭ اعلی تعلیمی درجات میں داخلے کی شرح میں 26 فیصد سے 50 فیصد تک اضافے کی بات ہے، یہ ایک مختلف الجہات ہدف ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے عوامی اخراجات میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ حکومت کو چاہئے کہ اپنی جی ڈی پی کا آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کا منصوبہ بنائے۔ ٭پالیسی میں کہا گیا ہے کہ آٹھ زبانوں کے لئے ”ای مواد“ تیار کیا جائے گا، مگر اس میں اردو شامل نہیں کی گئی ہے۔اگر پالیسی کا مقصد محروم طبقات کی مجموعی حالت کو بہتر بنانا ہے تو ’ای مواد‘ کو اردو زبان میں بھی ڈیولپ کیا جائے۔ ٭پری پرائمری سے 18 سال تک کی عمر کے بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم کا فیصلہ خوش آئند قدم ہے۔٭تعلیم ایک ریاستی سبجیکٹ ہے، لہٰذا متعدد تعلیمی اداروں کو ایک مرکزی یونٹ میں ضم کردینا، اسے کلی مرکزی حیثیت دے دے گا اور یہ ہماری وفاقی پالیسی کے لئے دھچکا ہوگا۔
جماعت اسلامی ہند مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت ماہرین کے ذریعہ بنائی گئی تعلیمی پالیسی پر تنقیدی خیالات کو دھیان میں رکھتے ہوئے این ای پی 2020 کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرے اور اسے پالیمنٹ سے منظور کرائے۔
جاری کردہ:
شعبہ میڈیا، جماعت اسلامی ہند۔

Post source : Pressnote