September 29, 2020

مسجد کی زمین پر مندر کی تعمیر آئینی اقداروں پر حملہ ہے۔ ایس ڈی پی آئی

مسجد کی زمین پر مندر کی تعمیر آئینی اقداروں پر حملہ ہے۔ ایس ڈی پی آئی

 

نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے اخباری اعلامیہ میں 5اگست 2020کو ایودھیا میں رام مندر کی سنگ بنیاد کی تقریب پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کی سر زمین پر مسجد کی زبردستی انہدام کے بعد رام مند ر تعمیر کرنا غیر اخلاقی، غیر منصفانہ اور جمہوری اور سیکولر اقدار کیلئے ایک چیلنج ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ بابری مسجد طویل عرصہ سے آر ایس ایس کیلئے ایک سیاسی آلہ کار رہا ہے اور رام مندر کے نام پر مذہبی جذبات کو بھڑکاکر مرکز میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے۔ بی جے پی اب ایک مضبوط اکثریت کے ساتھ دوسری میعاد میں حکومت کررہی ہے۔ ملک کے تمام جمہوری اور سیکولر نظاموں کو بی جے پی نے بھگوا رنگ دیدیا ہے تاکہ وہ مسجد کی زمین پر بغیر کسی مخالفت کے مندر کی تعمیر کرسکیں۔ بابری مسجد مقدمے میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو تمام حق پرست لوگوں اور قانونی ماہرین نے ناانصافی قرار دیا ہے۔ عدالت عظمی نے فیصلے میں درج اپنے ہی انکشافات کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین کو مندر تعمیر کرنے کیلئے حوالے کردیا تھا۔ یہاں تک کہ کانگریس پارٹی کے قائدین جو اب جوش و جذبے کے ساتھ ایودھیا میں مندر کی تعمیر میں بی جے پی کو پیچھے چھوڑنے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔وہی کانگریس پارٹی کے لیڈران نے عدالت کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔ یاد رہے کہ یہی کانگریس پارٹی جو مرکز اور اتر پردیش میں بر سر اقتدار تھی اس نے 1949میں مسجد کے اند ررام مورتی رکھنے سے لیکر 1992مسجد کے انہدام تک کئی طرح کی کارروائیوں کے ذریعے آرایس ایس کے ایجنڈے کو کامیاب ہونے میں سہولت فراہم کی تھی۔ کانگریس کے کئی رہنما 5اگست کو ایودھیا میں بھومی پوجا میں مدعو نہ ہونے پر پریشان ہیں۔ ان میں سے کچھ نے یہاں تک کہا ہے کہ مندر کی تعمیر تمام ہندوستانیوں کی رضامندی سے کی جارہی ہے۔ کانگریس قائدین نے ابھی تک یہ نہیں سمجھا ہے کہ انتخابات میں ان کی مستقل شکست ان کے پوشیدہ ہندتوا ایجنڈا کا نتیجہ ہے۔تاہم، وہ ہندوتوا کے ایجنڈے میں بی جے پی سے مقابلہ کرکے اقتدار میں واپسی کا احمقانہ خواب کو ابھی بھی دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھومی پوجا کی تقریب میں شریک ہونے کی اطلاع ہے۔ مسٹر مودی اس حقیقت کو نظر انداز کررہے ہیں کہ وہ 130کروڑ لوگوں کے سیکولر اور جمہوری ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں۔ بطور وزیر اعظم رام مندر کی بھومی پوجا کی تقریب میں ان کی شرکت انتہائی غیر اخلاقی، حلف کی خلاف ورزی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے تمام سیکولر عوام اور پارٹیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بی جے پی حکومت کے اس جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات کی مخالفت کریں اور بابری مسجد مسئلے میں مسلم برادری کے ساتھ کھڑے رہیں۔ 

 

Post source : Press release