September 29, 2020

فطرت کے نقیب تھے راحت اندوری

فطرت کے نقیب تھے راحت اندوری
ولادت:- یکم جنوری 1950 اندور مدھیہ پردیش انڈیا 
وفات :-11 اگست 2020ء اندور مدھیہ پردیش انڈیا
نام :-راحت اللہ  اور تخلص  راحتؔ. 
راحت کی پیدائش اندور میں یکم جنوری، 1950ء کو ہوئی۔ وہ ایک ٹیکسٹائل مل کے ملازم رفعت اللہ قریشی اور مقبول النساء بیگم کے یہاں پیدا ہوئے . وہ ان کی چوتھی اولاد تھے ۔ ان کی ابتدائی تعلیم نوتن اسکول اندور میں ہوئی .اور انہوں نے اسلامیہ كريميہ کالج اندور سے 1973ء میں اپنی بیچلر کی تعلیم مکمل کی.
 اس کے بعد وہ 1975ء میں راحت اندوری نے بركت اللہ یونیورسٹی، بھوپال سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اپنی اعلٰی ترین تعلیمی سند کے لیے 1985ء میں انہوں نے مدھیہ پردیش کے مدھیہ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی . 
وہ ایک اچھے شاعر اور گیت کار تھے. 
انہوں نے کئی بالی وڈ فلموں کے لیے نغمے لکھے ہیں جو مقبول اور زبان زد عام بھی ہوئے.وہ ایک بھارتی اردو شاعر اور ہندی فلموں کے نغمہ نگاربھی تھے ۔ وہ کئی بھارتی ٹیلی ویژن شوز کا بھی حصہ رہ چکے تھے ۔ انہوں نے کئی گلو کاری کے رئیلیٹی شوز میں بطور جج حصہ بھی لیا. 
ان کی تصانیف. 
1’’ دھوپ، دھوپ‘‘
 2’’میرے بعد‘‘
3 ’’پانچواں درویش‘‘،
4 ’’رت بدل گئی‘‘،
 5’’ناراض‘‘،
6 ’’موجود‘‘
آئیے جانتے کیوں اتنے معروف تھے راحت اندوری، کیوں بچے بچے کی زبان پر نام تھا راحت اندوری کا، کیوں انکے اشعار عام فہم تھے، میں سمجھتا ہوں کہ آج کے دور کے مشہور و معروف شاعروں میں راحت ہی ایسے شاعر ہیں جنکے اشعار اتنے زیادہ فیس بک انسٹاگرام اور اسپیچ میں سننے کو ملتے ہیں. ضروری نہیں کہ شاعری میں کلیات، مجموعے اور دیوان ہونے کے بعد بھی عزت شاعر کے حصے میں آئے 
لوگ ایک شعر سے بھی مشہور ہو جاتے ہیں 
جیسے مومن خان مومن انکا ایک شعر ہی انکی شناخت کے لئے کافی ہے. مگر راحت کے اشعار ہماری قدم قدم پر رہبری کرتے نظر آتے ہیں. آئیے میں بتاتا ہوں کون تھا راحت؟  جو مشاعروں میں قہقہہ لگاتے ہوئے حکومت کو چیلنج کرتا تھا . اس کا قہقہہ مشہور تھا . سیاہ چہرے پر طنز کی بجلیاں کوندتیں اور  اسکی مسکراہٹ سے ہزاروں تیر برستے اور کروڑوں لہو لہان ہو جاتے تھے . جب وہ کہتا تھا ، 
تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے .
اور اتنا کہہ کر وہ تیز قہقہہ لگاتا جیسے حکمرانوں کو تنبیہ کر رہا ہو کہ سنبھل جاؤ .. ہم بھی کسی آندھی ، کسی طوفان سے کم نہیں .. ہم سے مت ٹکراو ..
سنجیدہ فلسفوں کا کاروبار کرنے والے ، جدیدیت اور پختہ ادب کی پہچان رکھنے والوں میں نمایاں تھا
منور رانا اور راحت اندوری جیسوں کی آواز پوری دنیا کو ہلا دینے کی طاقت رکھتی ہے  . کوئی ادیب ہے جو مسلمانوں کے لئے جنگ کر رہا ہو .جنگ راحت کرتا تھا .راحت ڈرتا نہیں تھا .بیباک تھا .حوصلہ مند تھا. 
وہ راحت جو کپل شرما شو میں دو بار دعوت ملی .دونوں دفعہ چھا گیا اور پیغام بھی دے گیا کہ 
“تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے”
 اور سچائی تو یہ ہے کہ وہ ادیب ہی کیا جسے بدلتے سیاسی منظر نامے کی چیخ نہ سنائی دے 
راحت یہ چیخ سنتا تھا . اور جب وہ لکھتا تھا تو اس کی چیخ ساری دنیا کی چیخ بن جاتی تھی .
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں
محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
ہے کسی میں ہمت جو باطل کے ایوان میں اپنی آواز کو اس طرح بلند کرے. ہے کوئی جو مودی سے کہے کہ “وہ جھوٹ بہت شاندار بولتا ہے. 
آج کے شعراء تو بس جی حضوری کرنا جانتے ہیں، وہ راحت ہی تھا جو جنگجو تھا اپنی آواز کے زریعے لوگوں کو حوصلہ دیتا تھا
لوگ اسکے چہرے میں کیا دیکھتے تھے مگر میں اس بے باک قلندری چہرے کو دیکھتا تو حضرت بلال حبشی کی یاد آ جاتی. 
ہے کوئی جو یہ کہے 
وہ جھوٹ بہت شاندار بولتا ہے 
 کون کہیگا ، 
تیرے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے 
ہے کوئی کہنے والا 
 یہ راحت ہی کہہ سکتے تھے اور راحت ہی چلے گئے. 
جنازے پر مرے لکھدینا یاروں
 محبت کرنے والا جا رہا ہے 
 منتخب اشعار بطور خراجِ عقیدت
زمزم و کوثر و تسنیم نہیں لکھ سکتا
یا نبی آپ ﷺ کی تعظیم نہیں لکھ سکتا
میں اگر سات سمندربھی نچوڑوں راحت
آپ ﷺ کے نام کی اک میم نہیں لکھ سکتا 
 مری حیات مری کائنات آنکھوں میں
وہ ذاتِ پاک وہ ذاتِ صفات آنکھوں میں
درِ حضور کو رکھتا ہوں پتلیوں کی طرح
یہ دیکھ یہ رہی میری نجات آنکھوں میں
کچھ دن سے مری سوچ کی گہرائی بڑھ گئی
کچھ دن سے مرے فکر کی اونچائی بڑھ گئی
نعلین جب سے آپ کے دیکھے ہیں خواب میں
محسوس ہو رہا ہے کہ بینائی بڑھ گئی
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو 
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا
ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا
دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں 
سب اپنے چہروں پہ دوہری نقاب رکھتے ہیں
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم 
آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو 
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
مجھے بھروسہ ہے اپنے لہو کے قطروں پر 
میں نیزے نیزے کو شاخ گلاب کر دوں گا
مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے 
مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے
صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہیئے 
اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیئے 
رشتوں کی دُھوپ چھاؤں سے آزاد ہو گئے
اب تو ہمیں بھی سارے سبق یاد ہو گئے
روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں 
روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں 
محبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیں
ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے
لگے کی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے چلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی