September 30, 2020

پولیس اہلکاروں کے ذریعے جامعہ طلباء پر جنسی زیادتی کی رپورٹ چونکادینے والی ہے۔ ایس ڈی پی آئی

پولیس اہلکاروں کے ذریعے جامعہ طلباء پر جنسی زیادتی کی رپورٹ چونکادینے والی ہے۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی 12 اگست(پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی جنر ل سکریٹری محمد شفیع نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں جامعہ کے سی اے اے مخالف مظاہرین طلباء پر دہلی پولیس کی طرف سے جنسی زیادتی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر صدمے اور غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اس خوفناک حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن (این ایف آئی ڈبلیو) کی طرف سے گزشتہ دنوں جاری کی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں اس سال فروری کو جامعہ کیمپس میں پولیس مظالم اور زیادتی کے انتہائی ہولناک واقعات کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے ذریعے کم از کم 45طلباء پر جنسی زیادتی کی گئی ہے۔ شہریت قانون کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والے مظاہرین، طلباء اور رہائشیوں پر وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ تقریبا 15خواتین اور 30مردوں کے پوشیدہ اعضاء پر حملہ کیا گیا۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ خواتین کو مرد پولیس اہلکاروں نے چھیڑ چھاڑ کی۔ انہوں نے ان کے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کی۔سینوں پر مکے مارے یا اپنے جوتوں سے انہیں کچلا،یہاں تک کہ ان کے پوشیدہ اعضاء میں لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا۔ کم از کم 15خواتین پر ان کی شرمگاہ میں حملہ کیا گیا۔ جس کے باعث انہیں اندرونی زخم آئے۔ 16سال کی عمر کی لڑکیوں سے لیکر 60سال کی عمر کی خواتین تک پرجنسی تشدد کیا گیا۔ خوفناک زیادتی کے نتیجے میں متاثر افراد صدمے، در د، پیپ اور خون بہنے کی وجہ سے کئی ہفتوں بستر پر تھے۔ مردوں بھی جنسی حملہ بھی اتنا ہی شدید تھا۔ ان کی کمر اور پشت پر حملے کے نتیجے میں انہیں شدید چوٹیں آئیں۔ طلباء اور اساتذہ نے پرامن مظاہرین پر کیمیا ئی گیس کے استعمال اور پولیس کے ساتھ سادہ لباس میں ملبوس اور جعلی وردیوں میں ملبوس حملہ آوروں کے بارے میں بھی گواہی دی ہے۔ جیسا کہ جے این یو اور جامعہ کیمپس میں ہوئے پچھلے حملوں میں دیکھا گیا تھا۔ وہاں پر پولیس کے اہلکار کے یونیفارم میں نیم پلیٹ اور بیج نہیں تھے۔ نیز حملہ آوروں میں سے کچھ نے اپنے سویلین کپڑوں پر جینز، غیر پولیس ہیلمٹ اور واسکٹ پہن رکھے تھے۔ این ایف آئی ڈبلیو کی صد ر ارونا رائے کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی عداوت کا احسا س غیر معمولی تھا۔ دارلحکومت میں دہلی پولیس کی یہ گھناؤنی حرکت اس سے پہلے کھبی نہیں دیکھی گئی تھی اور یہ ایک مہذب سماج اور ملک کی شبیہ پر ایک دا غ ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنر ل سکریٹری محمد شفیع نے مزید کہا ہے کہ جب سے سنگھی بر سر اقتدار آئے ہیں،تب سے ہی اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف پولیس کے مظالم میں اضافہ ہورہا ہے، ساتھ ہی آر ایس ایس کے غنڈے اقلیتوں پر مظالم ڈھارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی پولیس کے اس خوفناک جنسی استحصال کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا فوری طور پر حکم دیا جائے اور ملزمان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔