September 29, 2020

خدارامسلمان ہوش کے ناخن لیں!

خدارامسلمان ہوش کے ناخن لیں!

 

کسی بھی مرض میں مرنے سے گھر نا پاک نہیں ہوتا نہ ہی قبر ستان

 

تحریر :حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

 

اللہ تبارک وتعالیٰ سارے جہان کا معبود ،مالک و مختارہے۔ اللہ تعالیٰ واجبُ الوجوداور عالم کو ایجاد کرنے اور تدبیر فر مانے والا ہے، اسے نیند نہیں آتی ہے اور نہ اونگھ کیونکہ یہ چیزیں عیب ہیں اور اللہ تعالیٰ نقص وعیب سے پاک ہے۔ آسمان وزمین میں موجود ہر چیز کا مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا:کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ۔۔۔۔۔ الخ۔ تر جمہ: ہر کوئی جو زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہے، اورآپ کے رب ہی کی ذات با قی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہے ،تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلا ئو گے۔(القرآن،سورہ رحمن،55: آیت 26،27) یعنی زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے ،جتنے جاندار ہیں انسان اور دیگر جاندا روں کا وجود عارضی ہے لہذا کوئی باقی نہیں رہے گا اور جو باقی نہ رہے وہ فانی ہے۔ رب ذوالجلا ل والاکرام کانظام ہے ہر شئے فنا ہوگی،موت آکر رہے گی خواہ کسی بیماری سے ہویاعام حالت میں ہو یاaccident وغیرہ سے ہو۔

موجودہ حالات میں ساری دنیا میں قہر بر پا کئے ہوئے کورونا وائرس،”کوڈ۱۹” کی بیماری نے تہلکہ مچا رکھا ہے،کوڈ۱۹ بیماری ہے یا عذابِ الٰہی؟ یابڑے بڑے سپر پاور ملکوں کی چپقلش اس بحث سے قطع نظر میں جو بات کہہ رہا ہوں،لکھ رہا ہوں خاص کر مسلمانوں کو مخاطب ہوکر اس پر توجہ فر مائیں،غور فر مائیں ہوش کے ناخُن لیں۔ مسلمان تو پہلے ہی بہت سے تو ہمات(وہم،شک وشبہ،خلاف عقل باتوں کو ماننے والے) ہیں اور موذی بیماری میں مبتلا ہیں۔ جبکہ اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوگی؟ کہ مسلما نوں کو رب تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کے ذریعہ وہ کتاب عنایت فر مائی جس کا اعلان ہے۔تر جمہ: یہ بلند رتبہ کتاب جس میں کسی شک کی گنجا ئش نہیں،اس میں ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔لَا رَیْبَ۔ کوئی شک نہیں کلام الٰہی قرآن مجید پر ہر مسلمان ایمان رکھتا ہے،قرآن مجید کا یہ وصف ( خوبی ، جوہر، کمال )عظیم ہے کہ ایسی بلند شان اور عظمت وشرف والی کتاب ہے جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں یہ کتابِ حق ہے اور اللہ کی جانب سے نازل ہوئی ہے،تو جیسے اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا،ایسے ہی کسی بے عقل کے شک اور انکار کرنے سے قرآن مجید مشکوک نہیں ہو سکتا۔

 

*اعلانِ موت اور مسلمان:*

موت کا بیان قر آن مجید میں82: جگہ پر آیا اور معذب قوموں پر جو عذاب آئے اُس کی نسبت سے موت کا ذکر بہت جگہ موجود ہے،احادیث نبویہ اور اسلامی کتب میں بھی تفصیل موجود ہے،موت ایمان کا حصہ ہے۔موت کا وقت متعین ہے، مرنے کے بعد انسان کے اعمال کاRegistered, کھاتہ میں انداراج بند ہو جاتا ہے اور توبہ کا بھی دروازہ بند ہو جاتا ہے اور اب جزا وسزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔تر جمہ: وہ جنھوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور خود بیٹھے رہے کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے۔اے حبیب! تم فر مادو اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت دور کر کے دکھائو۔ دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ تر جمہ: تم جہاں کہیںہو موت تمہیں آلے(پکڑ) گی اگر چہ مضبوط قلعوں میں ہو اور انہیں کوئی بھلائی پہنچے تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے تو کہیں یہ حضور کی طرف سے آئی تم فر مادو سب اللہ کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے۔ ( القر آن،سور ہ نساء: 4 آیت ،78۔ کنز الایمان )موت بر حق ہے کسی صورت میں کسی بیماری میں آئے،آکر رہے گی۔ آج کا مسلمان اسقدر کچے عقیدے اور تو ہمات( وہم پوجنے والا، خلافِ عقل باتوں کو ماننے والا،وہمی) کی زندگی کیوں گزار رہے ہیں،اس ترقی یافتہ کہلانے والے دور میں بھی تعلیم یافتہ لوگوں کی حرکات و اعمال دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے اور دل افسوس وصدمہ سے بیٹھ جاتاہے،کئی جگہ کوڈ ۱۹ ۔ سے مرے ہوئے لوگوں کے گھروں میں اسقدر توہمات وغیر ضروری معاملات دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ،اِ دھر گھر سے جنازہ نکلا اُدھر پورے گھر کو دھونا،صاف کرنا،یہانتک تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ صاف صفائی اچھی چیز ہے، لیکن یہ سوچ کر پورے گھر وکپڑوں اور بستروں کی دُھلائی صفائی کر نا کہ ناپاک،نجس ہوگئے ہیں،استغفر اللہ ،استغفراللہ!یہ کیا ہورہا ہے،مسلمانوں نے اپنی طبیعت کو شریعت بنالیا ہے،پریشانی یہیں نہیں ختم ہوتی؟ قبرستانوں میں کورونا وائرس سے مرے ہوئے لوگوں کی “میت” کو دفنانے نہیں دینا یہ کتنا بڑا ظلم اور گناہِ عظیم ہے،اس بد بختانہ اور ظالمانہ و مذہبِ اسلام کے خلاف کام میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں یہ انتہائی شرمناک ہے، کیا “میت” کو دفنانے نہ دینے والے مریں گے نہیں؟ یا پھر وہ قبرستان کے بجائے شمشان گھاٹ میں جاکر جلیں گے ؟یا بھوت بن کر بعد مرنے کے بعد بھی مسلمانوں کے لئے پریشانی کا باعث بنے رہیں گے؟ یا یہ لوگ مریں گے ہی نہیں،آبِ حیات پی کر آئے ہیں اللہ کی بار گاہ میں کیا منھ دکھایں گے،خوف خدا دل سے نکل گیا ہے،کورونا وائرس کا خوف دل میں بسالیئے ہیں اللہ کی پناہ،اس طرح کے سینکڑوں واقعات پورے ملک میں ہو رہے ہیں۔

 

*مسلمانوں ہوش کے ناخن لیں اللہ سے ڈریں! :*

موت برحق اور سچ ہے موت کے ڈر سے موت سے بچنے کے لئے اُٹھا یا گیا کوئی قدم موت کو ٹال نہیں سکتا،جب وقت مقرر ہے تو موت آکر رہے گی۔ طرح طرح ٹوٹکے کر نا ایمان چلے جانے کا خطرہ ہے،خدا را اس جانب توجہ دیں،ہر اہل ایمان کو چا ہئے کہ ایمان کی حفاظت کرے۔ بیماری ،پریشانی میں اپنے ہوش میں رہیں،ہوش نہ اُڑا بیٹھیں؟ ہوش مندی زندگی کا ایک اہم ضروری مرحلہ،حصہ ہے ہوش وحواس اگر قائم نہ رہے تو آدمی اپنے لئے یا دوسروں کے لئے کچھ کر ہی نہیں سکتا،اس لئے ہمارے یہاں ہوش وحواس کے دُرست رکھنے پر بہت زور دیا گیا ہے،کہاوت ہے “میاں ہوش میں رہو،یا ہوش میں آئو،ہوش کے ناخُن لو” یعنی ہوش مندی اختیار کرو،ایک محاورہ اور بھی ہے جوبہت اہم محاورہ ہے “ہوش کی “دارو،دوا” تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھی” یہ سچ ہے کہ ذرا سی دشواری پیش آئی اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑا کہ ہوش بگڑ گئے،ہوش ٹھکانے سے بے ٹھکانے ہوگیا،ہوش اڑنے ہوش کھودینے کو کہہ تے ہیں،ارے میرے ہوش اُڑادینے کے لئے تو یہ صورت حال کافی ہے وغیرہ وغیرہ، مصیبت کم ہوئی تھوڑی سی اطمینان کی سانس لینا نصیب ہوئی اور اب ہوش وحواس سنبھالنے کا موقع ملااور اب جان میں جان آئی۔ ہم سب کو اپنے ہوش وحواس پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے۔

 

*ہمارے معاشرے کاالمیہ:*

 

کسی بھی مرض میں مبتلا ہونے اور اس مرض پر مر جانے سے گھر ناپاک نہیں ہوتا نہ ہی گھر اچھوت ہوتا ہے، یہ سب ہندوانہ سوچ اور رسم و رواج کی باتیں ہیں، اسلام رسم و رواج کو مٹانے آیا تھا نہ کہ غیر اسلامی طریقوں کو پکڑنے اور ان غیر اسلامی رواج پر عمل کرنے کے لئے؟ مذہب اسلام کے ماننے والوں کو اپنے عمل سے اسلام کو ثابت کر نا چاہیئے، کوڈ۔19 سے ہوئی موت پر پورا گھر دھونا،لیپا پوتی کرنا،چونا پوچاڑا کرنا یہ سب سراسر جہالت اور اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے ،مرحوم کے کپڑے ڈر کی وجہ سے فقیر کو دے دئیے جاتے ہیں جبکہ” موبائل، لیپ ٹاپ،کمپیوٹر،گھڑی وغیرہ نشانی سمجھ کر خود استعمال کرنے کے لیے رکھ لیتے ہیں” ۔ قرآن و احادیث میں علم کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے،”علم” دین اسلام کا ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جسے فہم وفراست بھی کہا گیا ہے،جو انسانی زندگی وآخرت کو سنوارتا ہے افسوس موجودہ دور میں لوگ دین اسلام سے نا بلد ہیں اور نہ ہی علما سے نزدیکی رکھتے ہیں کہ انکی صحبت سے اسلامی تر بیت حاصل ہو۔

*خدارا خدارا ایصالِ ثواب کو تجارت نہ بنائیں:*

ایصال ثواب بر حق ہے، یہ اہلسنت وجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔شیخ صدرالدین ابو عبداللہ دمشقیـ” رحمۃُ الاُمَّتی فی اختلافِ الاَ ئمۃ” میں لکھتے ہیں۔ اس پر اجماع ہیکہ استغفار اور دُعا اور صدقہ اور حج اور غلام آزاد کرنا میت کو نفع دیتے ہیں اور ان کاثواب میت کو ملتا ہے۔ شیخِ جلیل علامہ اسما عیل حقی رحمۃ اللہ علیہ روح البیان میں اور علامہ صاوی حاشیئہ جلالین میں فر ماتے ہیں، ابن تیمیہ نے کہا جو یہ اعتقاد کرے کہ انسان کو صرف اپنے ہی عمل سے نفع ہوتا ہے اُ س نے اجماع کے خلاف کیا۔( اثبات ایصال ثواب: ص،4 ۔ مصنف،فقیہ الہند شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی صاحب( بمشہور نائب مفتی اعظمِ ہند علیہ الرحمہ) یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اس کا مطالعہ ضرور فر مائیں۔ زمانہ قدیم سے ایصال ثواب سے ہوتے چلا آرہا ہے،کسی کے مرنے پر مسلمانوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ اُس کے ایصال ثواب کے لئے حجِ بدل کرنا، کرانا، قرآن خوانی، کلمہ شریف،درودشریف توبہ واستغفار وفاتحہ خوانی کی جاتی ہے، یہ احسن عمل(نہایت عمدہ اور اچھا عمل ہے) اس عمل پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اس کے بعض طریقوں پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں بہر حال جو کرتے ہیں وہ بہتر طریقے سے کریں، جو نہیں کرتے وہ جانیں۔

میرے ایک دوست کے مرنے پر بعد تدفین ساکچی قبرستان جمشید پور میں،ناچیز نے الفاتحہ کا اعلان کیا “غضب ہوگیا” اُن کے صاحبزادے کہنے لگے فاتحہ واتحہ کچھ نہیں ہوگا جومرگیا سومر گیا اس کا عمل ہی اس کے لئے کافی ہوگا۔ میں آگے بڑھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگا،وہ صاحب ایک دم بضد ہو گئے ہمارے با پ ہیں ہم فاتحہ نہیں کرائیں گے فاتحہ نہیں ہونے دیں گے۔ میں نے کہا میرے والدین اور رشتے داروبہت سے مومنین یہاں مدفون ہیں میں اُن کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن پڑھ رہا ہوں،ان پر نئے مسلک کا جنون سوار تھا حا لانکہ ان کے بڑے بھائی اور دوسرے رشتے دار انکو روک رہے اور سمجھا رہے تھے اور وہ فاتحہ روکنے میں پوری قوت لگائے ہوئے تھے لوگوں سے انکی بحث زوروں سے چل رہی تھی۔ “حق بحق دار رسید”جسکا جوحق ہے رسید کے ساتھ اس کا حق اسے دیا جانا چاہیئے، اُن کے رشتے داروں اور چھوٹے بھائی انکی زبر دست پٹا ئی کردی،جب انکی بہتر طریقے سے خیریت لے لی گئی تو وہ بیچارے وہاں سے بھاگ نکلے۔

 

*ایصال ثواب،مدرسہ کے بچے اور ہماری کوتاہیاں:*

لوا حقین قرآن خوانی،کلمہ شریف،درود شریف ودیگر اعمالِ صالحہ کرتے کراتے ہیں۔آجکل مدرسوں کے بچوں کو بلاکر قرآن کریم پڑھانے کا رواج عام ہوگیا ہے، بہت کم ہی لوگ اب پڑھنے آتے ہیں ہم لوگوں کے بچپن میں عام لوگ آتے قرآن خوانی ہوتی، فاتحہ خوانی ہوتی وغیرہ وغیرہ، اب گھر کے لوگوں نے مردے کو بخشوانے کی ذمہ داری مدرسہ والوں کے سپرد کردی ہے، مدرسے کے بچے و اسا تذہ کرام اس کو بخوبی نبھا رہے ہیں، سبھی مسلک کے مدارس اس حمام میں رین کورٹ پہن کر ایک ساتھ نہا رہے ہیں، حقیقت تو حقیقت ہے اس سے انحراف ناممکن ہے۔ جن کے گھر میں قرآن خوانی ہے،خود اخبار پڑھ رہے ،آئو بھائو میں اور باتوں میں لگے ہیں۔ 

    معافی “کا طلبگار” 

ایک نئی بیماری،نئی خرابی جو پہلے ممبئی وغیرہ میں عام تھی اب ناچیز دیکھ رہاہے،یوپی،جھار کھنڈ وغیرہ میں فاتحہ خوانی میں ایصال ثواب کے لیے 200 قرآن سے لیکر ہزار ہزار قرآن کا اعلان ہورہا ہے، میں نے اس پر تقریر کی کئی لوگوں کو متنبہ کیا مضمون لکھا لوگ سمجھنے کے لیے تیار نہیں،اس تجارتbusiness, میں

” دودھوں نہائو،پوتوں پھلو” لوگ خوب پھل پھول رہے ہیں خوب کمارہے ہیں،ناچیز کا مضمون( ایصالِ ثواب کو تجارت نہ بنائیں) شائع ہوا ہماری برادری کے کچھ مولوی حضرات نے زبردست گالیوں سے نوازا، بہت سے لوگوں نے دعائوں سے بھی نوازا اللہ خیر فر مائے۔

 

مرحوم کے لواحقین میں سے کوئی مدرسہ پہنچا مدرسہ کے مہتمم صاحب یا حافظ صاحب سے گزارش کی ہما رے فلاں صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور فورًا مہتمم صاحب نے 100,یا 200قرآن ایصال ثواب کے لیے دے دیتے ہیں اور یہ نیک کام ” آنجناب بزعمِ خود” ہر ماہ میں بیسوں بار کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں اس پر اُنھیں انعام کی صورت میں آنے والی بھاری رقم خوشی دیتی ہے مہتمم صاحب بھی خوش اور مرحوم کا رشتے دار بھی خوش کہ قر آن پڑھنے کی زحمت اُٹھانی نہیں پڑی معاذاللہ 

؎ *فریب چشم ہے خوان جہاں کا رنگ اکبر*٭ *مزا زبان کا فتنہ اثر معاذ اللہ*

جاہل عوام بھی خوش، اُ س کا مردہ خوش ہوا کہ نہیں اللہ جانے اللہ کا رسول، ہاں خوفِ خدا سے عاری مولوی ضرور خوش ہوا، 2000,یا 5000 ,ہزا ر مل گئے دنیا بہتر آخرت گئی بھاڑ میں۔ اس پر فتن دو رمیں جہاں ہر چیز پیسوں سے خریدی جانے لگی ہے،وہاں ثواب بھی خریدا جانے لگا ہے تعجب کیوں؟۔ اس قبیح کاروبار کا ذمہ دار، میں عوام کو زیادہ ما نتا ہوں۔ زندوں کو دھوکہ دیا اب مردوں کو دھو کہ؟: ایصال ثواب کے طریقے بدل گئے، یوپی میں تو تیجہ،دسواں چالیسواں میں “مقابلہcompetition,ـ چل رہا ہے تیجہ میں500, سو قرآن تو چالیسویں میں2000 قرآن ہم نے فاتحہ کے دوران ہی سوال کیا کہ اِتنی قرآن مجید کس صاحب نے پڑھی ہیں؟ جواب ہم ممبئی اور فلاں فلاں جگہ سے قر آن منگوایا ہے استغفراللہ! اب کون ہے جو مہینوں میں دس، بیس قرآن پڑھتا ہے وہ زمانہ چلا گیا کہ بزرگ لوگ راہ چلتے بھی قرآن کی تلاوت کو اپنی خاش نصیبی مانتے تھے ۔استغفراللہ اس قوم کو کیا ہو گیا ہے،قرآن کتابِ ہدایت اور رحمتِ الٰہی ہے اس کو صرف مُردے بخشوانے کے لئے پڑھا جا رہا ہے۔ خود گھر میں تلاوت کی توفیق نہیں،بچوں کو قرآن کی تعلیم نہیں دلاتے “کچھ کو چھوڑ کر الا ماشااللہ” اور مردے بخشوانے کے لئے اِتنا زور۔ قرآن مجیدکلام الٰہی ہے،ایک آیت کریمہ ہی مردے کو بخشوانے کے لئے کافی ہے قرآن خود پڑھیں, 

“بوڑھے طوطے پڑھیں قرآن”

والی مثال ہے کہ بوڑھاپا میں قرآن پڑھتے ہیں لیکن افسوس صد افسوس وہ بھی نہ کے برابر ہو گیا،موبائل نے بزرگوں کو بھی اپنا دیوانہ بلکہ اپنا غلام بنالیا ہے۔ تجارتی مولویوں سے دوری بنائیں جنھیں آپ ہی نے اس راستے پر لگایا ہے،اپنے بھی گناہ گار اُن کابھی گناہ گار بنارہے ہیں،ساتھ ہی ساتھ مُر دوں کو بھی دھو کہ دے رہے ہیں۔اللہ ہم سب کو سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فر مائے آمین ثم آمین: –

 حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر،کپالی،پوسٹ:پارڈیہہ،

مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ

پن 8311020-رابطہ: 09386379632 hhmhashim786@gmail.com

Post source : Hafiz mohd hasham qadri