October 25, 2020

عالمات و فارغاتِ مدارس کی آن لائن کانفرنس

عالمات و فارغاتِ مدارس کی آن لائن کانفرنس

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

عزیزہ تشکیلہ خانم ، معاون سکریٹری جماعت اسلامی ہند حلقہ کرناٹک نے خواہش کی کہ میں ریاستِ کرناٹک کی سطح پر دینی مدارس کی عالمات و فاضلات کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ پیش کروں _ میں نے بخوشی منظوری دے دی _

پروگرام کا آغاز عزیزہ عظمیٰ نائک کی تذکیر بالقرآن سے ہوا _ انھوں نے سورۂ حم السجدۃ : 30 تا 33 کی عمدہ تشریح کی _ محترمہ امۃ الرزّاق نے افتتاحی کلمات پیش کیے _ محترمہ نشاط محمدی نے ‘عہدِ نبوی میں خواتین کا کردار’ کے عنوان سے تقریر کی _ انھوں نے صحابیات کی بہت سی مثالیں پیش کیں کہ وہ اسلام قبول کرنے ، دین سیکھنے ، اس پر چلنے ، اس کی راہ میں اذیتیں برداشت کرنے ، ان پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں پیش پیش رہی ہیں _
پروگرام کا ایک اہم جز ‘معاشرے کی تعمیر میں عالمات کا رول’ کے عنوان پر مذاکرہ تھا _ اس میں شاہینہ بانو نے ‘خوش گوار خاندان _ کتاب و سنت کی روشنی میں’ ، ثمینہ پروین نے ‘خواتین اور نئی نسل کی دینی تربیت’ اور مغیرہ صالحاتی نے ‘شرحِ خواندگی بڑھانے میں عالمات کا رول’ کے عناوین پر تقریریں کیں _ ان عزیزات کی تقریریں بھی اچھی تھیں اور اندازِ پیش کش بھی پُر اعتماد تھا _ ان پر تبصرہ کرتے ہوئے محترمہ ساجد النساء ، رکن ریاستی مجلس شوریٰ نے عالمات کو ان کی ذمے داریاں یاد دلائیں اور معاشرہ کی اصلاح میں سرگرم کردار سر انجام دینے پر ابھارا _

مجھ سے ‘حالاتِ حاضرہ میں دعوتِ دین اور اس کے تقاضے’ کے عنوان پر اظہارِ خیال کرنے کو کہا گیا تھا _ میری گفتگو درج ذیل نکات پر مشتمل تھی :

(1) موجودہ حالات عالمی اور ملکی دونوں سطحوں پر مسلمانوں کے لیے سازگار نہیں ہیں _ ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور ان کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں _ اسلام اجنبی ہوگیا ہے ، جس کی پیشین گوئی اللہ کے رسولﷺ نے کی تھی _ (مسلم:3986) اور فرمایا تھا کہ ان حالات میں راہ حق پر جمے رہنا ہاتھ پر انگارے رکھنے کے مثل ہوگا _ (ترمذی :2260)

(2) حالات جیسے بھی ہوں ، دین کی طرف دعوت دینا ، اللہ کا پیغام عام کرنا اور اس کا کلمہ بلند کرنا ہر مسلمان کی ذمے داری ہے _ اسے دعوت ، شہادت علی الناس ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دیگر الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے _

(3) دین کی مخاطب عورتیں بھی ہیں ، اسی طرح جیسے مرد ہیں _ وہ مردوں کا ضمیمہ نہیں ہیں ، بلکہ ان کی مستقل شخصیت ہے _ وہ نیک اعمال کریں گی تو اجر پائیں گی اور ان سے برے اعمال سرزد ہوں گے تو ان کی سزا پائیں گی _ اسی طرح دعوتِ دین کی ذمے داری مسلم مردوں کی طرح مسلم خواتین پر بھی عائد ہوتی ہے _ ان پر لازم ہے کہ وہ دین پر خود عمل کرنے کے ساتھ دوسروں تک بھی دین پہنچانے کی کوشش کریں _

(4) دعوت کا کام مومن مردوں اور مومن عورتوں کو مل کر انجام دینا ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں _ (التوبۃ :71) ابتدائی صدیوں میں خواتین دین کے ہر محاذ پر حدود و آداب کی رعایت کرتے ہوئے مردوں کے ساتھ مل کر سرگرمیاں انجام دیتی تھیں _

(5) معاشرہ کی اصلاح کے میدان میں عالمات و فاضلاتِ مدارس کا رول عام مسلمان خواتین سے بڑھ کر ہے _ انہیں نمونہ بننا ہے _ امہات المؤمنين کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : “تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو _”
(الأحزاب :32) اسی طرح عالمات و فارغاتِ مدارس عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں _ اگر وہ اپنی ذمے داری نبھائیں گی تو انہیں دُہرا اجر ملے گا اور اگر وہ کوتاہی کریں گی تو انہیں سزا بھی بڑھ کر ملے گی _

جماعت اسلامی ہند کے قافلے میں الحمد للہ خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے اور وہ ہر سطح پر دینی سرگرمیاں بڑھ چڑھ کر انجام دے رہی ہیں _ جماعت کی اعلیٰ اختیاراتی باڈی : مجلسِ نمائندگان ، مرکزی مجلسِ شوری ، ریاستی مجالسِ شوریٰ اور دیگر فورمز میں ان کی مؤثر نمائندگی ہے _ یہ چیز بہت خوش آئند ہے کہ ان میں دینی مدارس سے فارغ ہونے والی طالبات بھی قابلِ ذکر تعداد میں ہیں _ معاشرہ کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین و حضرات مل جل کر اس کے لیے جدّوجہد نہ کریں _

یہ کانفرس دو روزہ ہے _ آج ڈھائی بجے سے پانچ بجے شام تک پروگرام ہوا _ اسی طرح کل بھی جاری رہے گا _ یہ معلوم ہوکر خوش گوار حیرت ہوئی کہ اس آن لائن کانفرنس میں 375 خواتین نے شرکت کی _ یہ بھی اچھا لگا کہ تمام شریکاتِ کانفرنس نے اپنے ویڈیوز بند رکھے تھے _ کنوینر کانفرنس کے ذریعے معلوم ہوا کہ عالمات نے اپنا واٹس ایپ گروپ بھی بنا رکھا ہے ، جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی ہیں اور مل جل کر سرگرمیاں انجام دیتی ہیں _ اللہ تعالیٰ ان کی جدوجہد کو قبول فرمائے اور اجر سے نوازے، آمین _

Post source : Mohd razi nadvi