October 24, 2020

16 ”تعلیم کا اصل مقصد فرد اور سماج کی ترقی ہے“ ’خواتین کی اعلی تعلیم کا تصور اور عمل ‘ پرشعبہ اسلامک اسٹڈیز مانو میں ایک روزہ ویبینار کا انعقاد

16 ”تعلیم کا اصل مقصد فرد اور سماج کی ترقی ہے“ ’خواتین کی اعلی تعلیم کا تصور اور عمل ‘ پرشعبہ اسلامک اسٹڈیز مانو میں ایک روزہ ویبینار کا انعقاد

حیدرآباد، 16 اکتوبر (پریس نوٹ) ”انسان کی یہ ایک بڑی خصوصیت ہے کہ اس کے اندر کسی ناممکن چیز کو ممکن میں تبدیل کرنے کی صفت ہوتی ہے، تعلیم کے ذریعہ اس کی اسی صفت کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر سماج کے تئیں احساس ذمہ داری پیدا کرے“۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو کے ایک روزہ ویبینار میں کیا۔ یہ ویبینار شعبہ کے ”اسلامی مطالعات فورم ‘ ‘ کے ذریعہ ”خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا تصوراور عمل: مشرقی اور مغربی تناظر“ کے عنوان پر 12اکتوبر کو منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے افتتاحی کلمات میں مشرقی اور مغربی مفکرین کے نظریات کے حوالے سے بات کی اور بتایا کہ ان دونوں نظریات کا حاصل یہ ہے کہ تعلیم دراصل وہ ہے جس کے ذریعہ فرد اور سماج کا ارتقاءہو۔ ویبینار کے پہلے مہمان مقرر ڈاکٹر وارث مظہری،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ہمدرد، دہلی نے ”خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا مشرقی تناظر“ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”قرآن وحدیث میں حصول علم کے سلسلہ میں جو تعلیمات دی گئی ہیں ان میں مرد وعورت کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ عہد نبوی، عہد صحابہ ، عہد تابعین اور بعد کے ادوار میں بھی اس کے تعامل کے سلسلہ میں کوئی تفریق نظر نہیں آتی، چنانچہ خواتین سے متعلق احادیث کا ایک چوتھائی حصہ تنہا حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول ہے۔ اورصحاح ستہ میں تقریباً چار ہزار احادیث خواتین سے منقول ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابن حجر عسقلانی، جلال الدین سیوطی ، ابن عساکر وغیرہ جیسے بزرگان دین کے اساتذہ میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے “۔ پروفیسر اشتیاق دانش،سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ہمدرد نے ”خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا مغربی تناظر“ کے موضوع پر معلوماتی گفتگو پیش کی۔ انھوں مغرب کے علمی ارتقاءکا تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”مغرب میں صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد ہی خواتین کے لئے حصول علم کے دروازے بتدریج کھلنے شروع ہوئے۔ 1870 کے بعد خواتین نے تعلیم کی جانب باقاعدہ کوششیں شروع کیں۔ پھرجنگ عظیم اول کے بعد مغرب میں اسکول کے دروازے مرد وعورت کے لئے یکساں طور پر کھول دیئے گئے اور اس کے معیار کو بھی بلند کیا گیا۔ بلکہ آگے بڑھ کر انہوں نے بارہ سال کی عمر تک مرد وزن کے لئے تعلیم کو لازمی قرار دیا“۔ محترمہ ذیشان سارہ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو نے ”مسلم خواتین کی اعلیٰ تعلیم: عملی مسائل اور حل“ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”سکنڈری تعلیم کے بعد مسلم خواتین عموماً اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ لڑکیوں کے لئے گریجویشن کی تعلیم کو آئیڈیل مانا جاتا ہے۔ غربت اور کچھ اعلی تعلیمی اداروں کا نامناسب ماحول بھی خواتین کی اعلیٰ تعلیم سے محرومی کا ایک سبب ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم سماج کی ذہنیت کو خواتین کی اعلی تعلیم کے حوالے سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ شادی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔خواتین کی تعلیم کے لئے مثبت بدلاو ¿ کے لئے سیرت النبیﷺ کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے“۔
ویبینار کے شرو میں پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی،صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے موجودہ وقت میں اس موضوع پر ویبینار کو انتہائی اہم بتایا، انھوں نے اخیر میں اپنے اختتامی کلمات میں تینوں مقررین کے اہم اور پر مغز خطاب پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”آج کے ویبینار کا یہی پیغام ہے کہ اسلام نے مرد وعورت کے درمیان حصول علم کے سلسلہ میں کوئی تفریق نہیں رکھی ہے، اسلام کی ابتدائی صدیوں میں خواتین تعلیم کے اعلی معیار پر تھیں ، لہٰذا آج بھی علم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے اور معیار وکمال حاصل کرنا چاہئے۔ ان کے حصول علم میں نہ صرف گھر والے بلکہ سسرال، خاندان، سماج اور حکومت کو بھی مدد کرنی چاہئے، اور ہر حال میں علم کی اعلیٰ منزلوں کو طے کرنا چاہئے“۔ صالح امین (پی ایچ ڈی) کی تلاوت کلام سے اس ویبینار کا آغاز ہوا۔ محترمہ ذیشان سارہ نے مہمان مقررین کا تعارف پیش کیا۔ انعم محمدی شیخ(ایم اے سال دوم)نے محترمہ ذیشان سارہ کے ساتھ مشترکہ طور پر نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ کلمات تشکر محترمہ ذیشان سارہ نے ادا کئے، مقررین کے خطابات کے بعد سوال وجواب کا بھی وقفہ رہا۔