October 25, 2020

سرسید جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ پروفیسر شہاب الدین ثاقب

سرسید جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ پروفیسر شہاب الدین ثاقب


”سرسیدجیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ وہ ایک عظیم مصلح، معمار قوم،ادیب اور دانشور تھے۔ انھوں نے 1857کے بعد قوم کی مایوسی اور ناامیدی دور کرنے کی بھرپور کوششیں کیں۔انھوں نے انگلستان میں قیام کے دوران دو اہم کارنامے انجام دیے۔ اول تو ولیم میور کی کتاب”دی لائف آف پروفیٹ“ کا مدلل جواب لکھا جو”خطبات احمدیہ“ کے نام سے شائع ہوا۔ دوسرا بڑا کام یہ کیا کہ انگریزوں کی معاشرتی و تہذیبی ترقی کے اسباب کی تحقیق کی اور اس نتیجے پرپہنچے کہ اس قوم کو متمدن اور مہذب بنانے میں دو رسائل”ٹیٹلر“ اور ”اسپیکٹیٹر“ کا کلیدی کردار تھا۔ چنانچہ انھوں نے اسی طرز پر1870 میں رسالہ”تہذیب الاخلاق“جاری کیا جس نے مسلمانوں کی سماجی و معاشرتی اصلاح اور تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔“ ان خیالات کا اظہارممتاز نقاد اور شاعرپروفیسر شہاب الدین ثاقب،استاد علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی نے”بازگشت“ کی جانب سے سرسید احمد خاں کے مضمون ”اپنی مدد آپ“ کی پیش کش اور سرسید کے کارناموں سے متعلق تنقیدی گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں بہ طور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ سرسید کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے 1857کے بعد مسلمانوں میں امید کی کرن پیدا کی۔انھوں نے مسلمانوں کو کاہلی اور بے عملی ترک کرکے محنت،لگن اور اخلاق کے ذریعے ملک اور معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ان کے مضامین میں خلوص اور مواد و اسلوب کی ہم آہنگی ملتی ہے۔وہ اپنی بات سادہ لیکن مدلل انداز میں پیش کرتے ہیں۔پروفیسر ثاقبؔ نے کلاسیکی ادب کی پیش کش اور اس پر سنجیدہ گفتگو کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے ”بازگشت“ کے ذمہ داران کو مبارک باد دی اور کہا کہ یہ فورم نہایت خلوص کے ساتھ اردو زبان وادب کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ ممتاز افسانہ نگاراور بازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست پروفیسربیگ احساس نے صدارتی خطاب کے دوران کہا کہ سرسید نے جن حالات میں ”اپنی مدد آپ“ لکھا اس وقت قوم مایوسی کے عالم میں مبتلا تھی۔اس مضمون کے ذریعے انھوں نے مسلمانوں کو اپنا حال اور مستقبل سنوارنے کی ترغیب دی۔ آج بھی قوم ویسی ہی صورت حال سے دوچار ہے۔ ”اپنی مدد آپ“ سے ہمیں آج بھی سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ضرورت ہے کہ ہم اپنے اخلاق سے لوگوں کو متاثر کریں اور اپنی شبیہ بہتر بنائیں۔انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ افراد کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ علیگ برادری نے اپنی تہذیبی اقدار کی دل و جان سے حفاظت کی ہے اور اے ایم یو کے فارغین ہر جگہ اپنی انفرادی شناخت کے سبب پہچانے جاتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جامعہ عثمانیہ جس کی اپنی ایک منفرد تہذیب تھی اسے منصوبہ بند طریقے سے ختم کردیا گیا اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا مخصوص کلچر بھی تباہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔اس سے قبل ڈاکٹر محمد زاہدالحق، ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہئ اردو، حیدرآباد یونیورسٹی نے بے عمدہ اور دلچسپ انداز میں ٹھہر ٹھہر کر اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ”اپنی مدد آپ“ پیش کیا۔شرکانے ان کے انداز پیش کش کی کھلے دل سے ستائش کی۔صدر جلسہ نے کہا کہ ڈاکٹر زاہدالحق نے پڑھنے کا حق ادا کردیا۔جلسے میں معروف شاعرہ، افسانہ نگار اور مترجم محترمہ عذرا نقوی نے سرسید اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک بے حد عمدہ نظم ”خوابوں کا نگر“ پیش کی جسے بہت پسند کیا گیا۔ پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے کہا کہ یہ نظم حالی کی”مٹی کا دیا“ کی یاد دلاتی ہے۔پروفیسر بیگ احساس نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ عذرا نقوی صاحبہ جلسے میں شریک ہوئیں اور اس قدر موثر نظم  پیش کی۔ ڈاکٹر مشرف علی،استاد شعبہئ اردو، بنارس ہندو یو نی ورسٹی نے کہا کہ ہم ایک قوم کے طور پر تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دے کر سرسید کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ڈاکٹر احمد خاں استاد مرکز مطالعات اردو ثقافت، مانو نے کہا کہ سرسید احمدخاں کے افکار کی آج بھی معنویت ہے اورہمیں ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر فیروز عالم نے سرسید کا مختصر تعارف پیش کیااور ان کی سماجی، علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سائنٹفک سوسائٹی، ایم اے او کالج(موجودہ اے ایم یو)تہذیب الاخلاق وغیرہ ان کے یادگار کارنامے ہیں۔آثار الصنادید،اسباب بغاوت ہند،خطبات احمدیہ،تفسیر قرآن اور تاریخ سرکشی بجنور وغیرہ ان کی اہم کتب ہیں۔انھوں نے سیکڑوں مضامین بھی لکھے۔ مجلسِ منتظمہ کی رکن ڈاکٹرگلِ رعنا نے جلسے کی بہترین نظامت کی اور پروفیسرشہاب الدین ثاقب اور ڈاکٹر عذرا نقوی کا تعارف بھی پیش کیا۔انتظامیہ کمیٹی کی دوسری رکن ڈاکٹر حمیرہ سعید نے ڈاکٹر محمد زاہدالحق کا تعارف کرایا اورپروگرام کے آخر میں اظہارِ تشکر کیا۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر محمد نسیم الدین فریس، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر حبیب نثار، ڈاکٹر غوث ارسلان، محترمہ فرح تزئین (ریاض، سعودی عرب)ڈاکٹر محمد عبدالحق (امریکہ) جناب ملکیت سنگھ مچھانا(چنڈی گڑھ) ڈاکٹر ہادی سرمدی (پٹنہ)ڈاکٹر منطور عالم (سیوان)ڈاکٹر موصوف احمد(ہزاری باغ)ڈاکٹر حنیف سید(آگرہ) ڈاکٹر ناظم علی، محترمہ صائمہ بیگ،ڈاکٹر رحیل صدیقی،ڈاکٹر منور علی مختصر،ڈاکٹر صابر علی، ڈاکٹر نکہت آرا شاہین، ڈاکٹر حنا کوثر، محترمہ افشاں جبیں فرشوری، محترمہ حمیدہ بیگم (حیدرآباد) جناب محمد قاسم خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

Post source : Press release