December 03, 2020

گلناز خاتون معاملے میں بہار حکومت یوگی آدتیہ ناتھ کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی

گلناز خاتون معاملے میں بہار حکومت یوگی آدتیہ ناتھ کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی 22 نومبر(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے نتیش کی قیادت والی بہار حکومت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اتر پردیش بی جے پی حکومت کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ جہاں خواتین کی تحفظ پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے اور وہ آئے دن عصمت دری، قتل و غارت گری اور جنسی زیادتیوں کی شکار ہوری ہیں۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں ریاست بہار کے ضلع ویشالی میں ایک معصوم لڑکی گلناز خاتون کو زندہ جلائے جانے کے مبینہ واقعے کی پردہ پوشی کرنے پر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر سخت تنقید کی ہے۔ خاتون 15دن اسپتال میں زندگی اور موت کی لڑائی کے بعد فوت ہوگئی۔ ملزمان ابھی بھی فرار ہیں اور پولیس اس خوفناک واقعے کے دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد بھی ان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔ اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے مزید کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایسے معاملوں میں بہار حکومت اتر پردیش حکومت کے ساتھ مقابلہ کررہی ہے۔ جہاں ہاتھرس میں ایک ہندو لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی اور اس پر شدید حملہ کیاگیا اور ریاستی انتظامیہ نے ملزموں کو بچانے کیلئے لڑکی کی لاش کو رشتہ داروں کی غیر موجودگی میں کریا کرم کردیا۔ ہاتھرس واقعے پر میڈیا کی توجہ اور سیاست دانوں کے مقابلے نے یوگی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا تھا۔ تاہم، بہار میں ایک مسلمان لڑکی کوایک ہندو لڑکے کی طرف سے شادی کی پیش کش کو ٹھکرانے پر اسے زندہ جلا دیا گیا۔اگر ملزم مسلمان ہو تو سوشیل میڈیا میں اسے لو جہاد کا نام دیکر خو ب چرچا کیا جاتا ہے۔ اب اس معاملے میں کوئی ایسی باتیں نہیں کہہ رہا ہے کیونکہ مقتول ایک غریب خاندان کی مسلم لڑکی ہے اور ملزم کا تعلق اعلی ذات سے ہے۔ اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاتھرس معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی پولیس کا کردار مشکوک ہے۔ خبروں کے مطابق پولیس کو حملے کے فورا بعد ہی اطلاع ملی تھی اور وہ اسپتال پہنچی تھی، مبینہ طور پر پولیس نے متاثرہ سے بھی ملاقات کی اور اس کا بیان درج کیا تھا۔ لیکن پولیس نے اس معاملے کی ایف آئی آر درج نہیں کی تھی۔ چار دن بعد متاثرہ لڑکی کی اسپتال میں دی گئی بیان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی پولیس نے ایف آئی آر درج کیا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے ہنگامہ کے بعد بھی کوئی بھی گلناز کے غمزدہ خاندان کو انصاف دلانے اور مدد کیلئے آگے نہیں آیا ہے۔ قومی میڈیا نے اس معاملے کو نظر انداز کردیا ہے اور حکمران بی جے پی۔ جے ڈی یو حکومت اس معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ تاکہ انہیں ان کی انتخابی فتح کے جشن منانے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی اس طرف سے انجان بنی ہوئی ہیں۔واقعے پر غم کا اظہار کرنے یا اس واقعے کا کوئی رسمی ذکر بھی ان کی طرف سے نہیں کیا جارہا ہے۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ کس حد تک ہندو۔ مسلم تفریق کا زہر معاشرے اور انتظامیہ میں داخل ہوچکا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے وزیر اعظم کے’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ ‘نعرے کو ایک مذاق سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں خواتین عصمت دری، قتل اور بدسلوکی کے واقعات کی شکار ہیں اور حکومت اور پولیس اس بات کی فکر کررہے ہیں کہ ان مقدمات کی کیسے پردہ پوشی کی جائے۔ مہذب معاشروں میں ایسے شرمناک واقعات رونما نہیں ہوتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی کی تکلیف دہ موت انتہائی افسوسناک ہے۔ مجرموں کو سزا دی جانی چاہئے اور جس پولیس نے غفلت اور متعصبانہ رویہ کا مظاہرہ کیا اس کی بھی سرزنش کی جانی چاہئے۔