November 26, 2020

مولانا عامر عثمانی کی نظم ”خواب جو بکھر گئے“ پر بازگشت پروگرام

مولانا عامر عثمانی کی نظم ”خواب جو بکھر گئے“ پر بازگشت  پروگرام

”مولانا عامر عثمانی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ مذہبی عالم، شاعر، ادیب اور صحافی کی حیثیت سے ان کی اہمیت مسلم ہے۔ان کے یہاں دین اور دنیا کی سرحدیں مل گئی تھیں۔ ان کی شاعری میں سوزوگداز ملتا ہے۔ان کی غزلوں میں وارداتِ قلبی کی خوب صورت عکاسی ہوئی ہے۔ ان کے کلام میں ترقی پسند عناصر بھی نظر آتے ہیں۔انھوں نے ماہنامہ”تجلی“ کے ذریعے مذہب کے ساتھ ساتھ ادب کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔وہ ”تجلی“ کا مستقل فکاہیہ کالم ”مسجد سے میخانے تک“لکھتے تھے جسے قارئین بہت پسند کرتے تھے۔”فاران“ کے مدیر ماہرالقادری اور ”صدق“ کے مدیر عبدالماجد دریابادی ان کے ہم عصر تھے۔“ ان خیالات کا اظہارممتاز افسانہ نگاراور بازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست پروفیسربیگ احساس نے ”بازگشت“ کی جانب سے مولانا عامر عثمانی کی نظم ”خواب جو بکھر گئے“ کی پیش کش اوران کی قومی و ملّی خدمات سے متعلق گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں کیا۔ مہمانِ خصوصی نوجوان افسانہ نگار، شاعر اور آرٹسٹ جناب طاہر انجم صدیقی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عامر عثمانی نے شاعری، صحافت اور مذہب ہر میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔ان کی شاعری اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے بڑی جاذبیت رکھتی ہے۔ انھوں نے دلی جذبات و کیفیات کی عکاسی سادہ اور دل پذیر انداز میں کی ہے۔ڈاکٹر عظمت انور دلال، اسسٹنٹ پروفیسر، عابدہ انعامدار کالج، پونے نے نہایت دلکش انداز اور لب و لہجے میں ”خوب جو بکھر گئے“کی پیش کش کی۔ انھوں نے آواز کے اتار چڑھاو سے پروگرام میں سماں باندھ دیا۔پروفیسر نسیم الدین فریس، ڈین اسکول براے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات، مانو نے اس موقعے پر کہا کہ جتنی اچھی نظم ہے اتنی ہی اچھی اس کی پیش کش کی گئی۔اس نظم کی تفہیم مذہبی، سیاسی، سماجی غرض مختلف زاویوں سے کی جاسکتی ہے۔”تجلی“مولانا عامر عثمانی کا یک فردی پرچہ تھا جس کی تمام تر ذمہ داریاں وہ اکیلے ہی نبھاتے تھے۔اس پرچے کے مستقل کالم ”کیا ہم مسلمان ہیں“، ”مسجد سے میخانے تک“ اور ”کھرے کھوٹے“قارئین میں بے حد مقبول تھے۔موصوف جماعت اسلامی سے باقاعدہ منسلک نہ تھے لیکن مولانا مودودی کے زبردست مداح تھے۔ان کی تخلیقات کو بیسویں صدی کے نصف اول کی مختلف تحریکات کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے کہا کہ مولانا عامر عثمانی نے تجلی کے ذریعے جماعت اسلامی کے مشن کو فروغ دیا۔ان کے ذہن میں توسع تھا۔وہ ہمیشہ مختلف مسالک میں مکالمہ اور انھیں قریب لانے کے لیے کوشاں رہے۔ مولانا ”تجلی“کا کالم ”مسجد سے میخانے تک“ مُلّا ابن العرب مکی کے نام سے لکھتے تھے۔ان کی وفات کے بعد کچھ عرصے تک شمس نذیر عثمانی یہ رسالہ نکالتے رہے۔ڈاکٹر جاوید رحمانی استاد شعبہئ اردو، آسام یونی ورسٹی،سلچرنے کہا کہ عامر عثمانی کا تعلق فیض، مخدوم جیسے شعرا کی قبیل سے ہے جو اپنے عزائم کے لیے جیتے تھے۔ یہ لوگ آرام و آسائش کی زندگی گزار سکتے تھے لیکن انھوں نے ملک و قوم کی بہتری کے لیے سختیاں جھیلیں۔ افسوس کہ نئی نسل نے ان کے خوابوں کو پامال کیا۔شکست خواب کی آہٹ ”خواب جو بکھر گئے“ میں صاف سنی جاسکتی ہے۔ان شعرا کاکلام پڑھتے ہوئے ہمیں اپنے معاشرتی نظام کے کھوکھلے پن پر بھی غور کرنا چاہیے۔ابتدا میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹرفیروز عالم،استاد شعبہئ اردو، مانو نے بتایا کہ مولاناکا تعلق سہارنپور سے تھا۔انھوں نے دارالعلوم دیو بند سے تعلیم حاصل کی۔ ماہنامہ ”تجلی“ کے علاوہ یہ قدم قدم بلائیں،شاہ نامہ اسلام جدید(شعری مجموعے)مسجد سے میخانے تک، تین طلاق، تفہیم القرآن پر اعتراضات کی علمی کمزوریاں وغیرہ ان کے علمی کارنامے ہیں۔انتظامیہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹرحمیرہ سعید پرنسپل گورنمنٹ کالج فار ویمن، سنگاریڈی نے پروگرام کی دلکش نظامت کی،جناب طاہر انجم صدیقی اور ڈاکٹر عظمت انور دلال کا تعارف پیش کیا اورپروگرام کے آخر میں اظہارِ تشکر کیا۔ڈاکٹرگل رعنا، استاد شعبہئ اردو، تلنگانہ یونی ورسٹی، نظام آبادنے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر حبیب نثار، سنٹرل یونی ورسٹی، حیدرآباد، پروفیسر اشتیاق احمد، جواہر لال نہرو یونی ورسٹی، ڈاکٹر محمد کاظم، دہلی یونی ورسٹی، محترمہ عذرا نقوی، محترمہ عطیہ رئیس(دہلی) ڈاکٹر حلیمہ فردوس،جناب نوشاد انجم(بنگلورو)،ڈاکٹر مشرف علی بنارس ہندو یونی ورسٹی، ڈاکٹر ہادی سرمدی (داؤد نگر، بہار)جناب غوث ارسلان، محترمہ فرح تزئین (سعودی عرب)ڈاکٹر عبدالحق (امریکہ) ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی (بھوپال) محترمہ عظمیٰ تسنیم، محترمہ مہ جبیں شیخ(پونے) محترمہ صائمہ بیگ، جناب منور علی مختصر،ڈاکٹر بی بی رضا خاتون،ڈاکٹرکہکشاں لطیف، ڈاکٹر اسلم فاروقی، ڈاکٹر ناظم علی، ڈاکٹرحنا کوثر،جناب عبیداللہ ریحان،ڈاکٹر کوثر پروین، (حیدرآباد) جناب اقبال احمد(گلبرگہ)جناب حنیف سید(آگرہ)خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

Post source : urduleaks