January 23, 2021

سرجیکل اسٹرائیک سے متعلق بی جے پی لیڈر کے بیان کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت۔ عابد رسول خان

سرجیکل اسٹرائیک سے متعلق بی جے پی لیڈر کے بیان کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت۔ عابد رسول خان

 

    حیدرآباد۔ 25/نومبر( پریس ریلیز)حیدرآباد کی شاپستہ تہذیب، سیکولر کردار، فرقہ وارانہ اتحاد کی برقراری کی ٹی آر ایس کا نصب العین  ہے۔ وہ ان تمام طاقتوں سے مقابلہ کرے گی جو حیدرآباد کی شناخت مٹانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ٹی آر ایس کے سینئر قائد عابد رسول خان نے اپنی قیام گاہ پر ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے بی جے پی تلنگانہ اسٹیٹ کے صدر کی جانب سے حیدرآباد پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک دشمن ملک پر کی جاتی ہے۔ جہاں تک روہنگیا کی پناہ گزینوں کا تعلق ہے‘ یہ اقوام متحدہ کے اجازت ناموں کے ساتھ مرکزی حکومت کی منظوری سے حیدرآباد میں قیام پذیر ہیں۔ بلدی ا نتخابات میں روہنگیا کی پناہ گزینوں کا مسئلہ اٹھانا، سرجیکل اسٹرائیک جیسے الفاظ کا استعمال افسوسناک، شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ جناب عابد رسول خان نے کہا کہ اس قسم کے فرقہ وارانہ بیانات کی وجہ سے حیدرآباد فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہورہاہے۔ اس کے منفی اثرات نہ صرف حیدرآباد‘ تلنگانہ بلکہ پورے ملک پر ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں عابد رسول خان نے بتایا کہ ٹی آر ایس نے بی جے پی ریاستی صدر کے بیان کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے۔ وہی ان کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔ کیوں کہ ریاستی حکومت یا پولیس کاروائی کا بی جے پی غلط فائدہ اٹھاسکتی ہے۔
جناب عابد رسول خان نے کہا کہ بلدی انتخابات 2020ء ہر اعتبار سے اہمیت کی حامل ہیں۔ فرقہ پرست جماعتیں دوسری ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بالخصوص حیدرآباد میں قدم جمانا چاہتی ہیں۔ چوں کہ نفرت‘ دشمنی کی بنیاد پر ان فرقہ پرست جماعتوں کی عمارتیں کھڑی ہیں‘ اس لئے وہ یہاں کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہے۔ اب یہ گریٹر حیدرآباد کے عوام کا فریضہ ہے کہ وہ ان فرقہ پرست طاقتوں کو سر اٹھانے سے پہلے کچل دیں۔ نفرت اور فرقہ وارانہ تعصب کسی بھی ریاست یا ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جہاں عوام مل جل کر رہتے ہیں‘ وہیں ترقی ہوتی ہے۔ ہماری توانائیاں جو ایک دوسرے کو مٹانے نقصان پہنچانے میں صرف ہورہی ہیں‘ اگر وہ ایک دوسرے کو سہارا دینے، تقویت پہنچانے کے لئے استعمال ہوں تو خود بھی ترقی کریں گے اور ہماری ریاست مجموعی طور پر دیش ترقی کرے گا۔ جناب عابد رسول خان نے کہا کہ اس مرتبہ ٹی آر ایس انتہائی سنجیدگی کے ساتھ تمام 150نشستوں پر مقابلہ کررہی ہے۔ کسی بھی جماعت سے انتخابی مفاہمت نہیں ہے۔ ذرا سی غفلت بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ٹی آر ایس جناب کے سی آر کی قیادت میں حیدرآباد کو ایک ماڈل سٹی بنانے پر کام کررہی ہے۔ حالیہ بارش اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مستقبل میں ایسے نقصانات نہ ہوں اس کے لئے باقاعدہ ماہرین منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ جو متاثرین ہیں ان کے لئے بروقت امداد فراہم کی گئی۔ مگر بی جے پی اور کانگریس نے رکاوٹیں پیدا کیں۔ الیکشن کے بعد فنڈس دوبارہ بحال ہوں گے اور امداد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تلنگانہ‘ نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ مختلف ممالک کے لئے توجہ کا مرکز ہے۔ کئی نئی صنعتیں ملٹی نیشنل کمپنیاں قائم ہورہی ہیں۔ جس سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ 24گھنٹے بلاوقفہ بجلی کی سرابراہی‘ وافر پانی کی بدولت یہاں صنعتوں کے قیام کی سہولت ہے۔ محبوب نگر، کریم نگر میں پہلی مرتبہ کسانوں نے دو فصلوں کی کاشت کیں۔ معاشی ترقی کی رفتار تیز ہے۔  بین الاقوامی معیار کی سڑکیں تعمیر ہورہی ہیں۔ جس سے اگلے 100برس تک حیدرآباد کی ترقی کی رفتار ہر لمحہ تیز ہوتی رہے گی۔ وہ جماعتیں جو ترقی نہیں بلکہ تخریب کاری کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ وہ ٹی آر ایس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ کے سی آر صاحب نے تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کے لئے 12فیصد تحفظات کا وعدہ کیا ہے۔ اس پر عمل آوری کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جس کے لئے قومی سطح پر ٹی آر ایس کی طاقت میں مزید اضافہ کی ضرورت ہے۔ اور کے سی آر صاحب جب کسی بات کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اُسے پورا کرنے تک چین سے نہیں رہتے۔ تلنگانہ ریاست اس کا ثبوت ہے۔ ورنہ کتنی انقلابی تحریکات تلنگانہ کے لئے چلائی گئیں‘ جو ذاتی مفادات کی نذر ہوگئیں۔ کے سی آر صاحب نے تلنگانہ کے لئے ہر قسم کی قربانی دی۔ آج ان قربانیوں کا پھل تلنگانہ کے عوام کو مل رہا ہے۔ فرقہ پرست جماعتیں اس لئے کے سی آر اور ٹی آر ایس کے خلاف ہیں کہ انہوں نے اُس قوم کو جسے دوسری سیاسی جماعتوں نے اپنے اقتدار کے لئے ووٹ بنک کے طور پر استعمال کیا مگر ان کا اس قدر استحصال کیا کہ وہ ہر شعبے میں سب سے زیادہ پسماندہ بن گئیں۔ اس قوم کے زوال کی وجہ تعلیم سے دوری تھی۔ اچھی تعلیم کے لئے اچھی معیشت اور وسائل ضروری ہے۔ غربت کی وجہ سے اسکول جانے کی عمر میں معصوم بچے ہوٹلوں، کارخانوں، دکانوں میں اپنے زندگی گذار دیتے ہیں۔ کے سی آر صاحب نے انہیں تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے تلنگانہ میناریٹیز ریسیڈنشیل اسکولس کا جال بچھادیا۔ کھانا پینا، رہنا، یونیفارم، کتابیں سب کچھ فری۔ لاکھوں مسلم لڑکے لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ چند برس بعد یہ قوم کا اثاثہ اور اپنے خاندان کے کفیل بن جائیں گے۔ غربت کے اندھیروں کی جگہ خوشحالی کے اُجالے ہوں گے۔ تعلیم تو ہر قوم کی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ اوورسیز اسکالرشپ کے ذریعہ فارن یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ اب تمام اضلاع میں دو دو تین تین جونیئر کالجس قائم کئے جائیں گے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجس کا جال بچھے گا۔ اقلیتی طلباء اور طالبات کو سیول سرویسس کے لئے فری کوچنگ کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ کیا یہ ایک حکومت اور چیف منسٹر کے سیکولر ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔
جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ جب وہ مائناریٹی کمیشن کے چیرمین تھے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ناجائز قابضین کے خلاف سی بی آئی کی انکوائری کیلئے اقدامات کئے تھے۔ بلدی  انتخابات کے بعد سی بی آئی یا سی بی سی آئی ڈی کے ذریعہ ناجائز قابضین کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوگا۔ وقف جائیدادوں کا تحفظ اور اس کے ساتھ ساتھ منشائے وقف کے مطابق ان کا ڈیولپ کرنا ساتھ ہی آمدنی میں اضافہ ٹی آر ایس حکومت کا عزم ہے۔
جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ پورا ملک کووڈ 19 سے پریشان ہے۔ الحمدللہ! تلنگانہ ایک ایسی ریاست میں جہاں یہ عالمی وبا کنٹرول میں ہے۔ اب کووڈ سے متاثرہ غریب عوام کو سی ایم ریلیف فنڈ سے بھی مدد دی جارہی ہے۔
جناب عابد رسول خان نے حیدرآبادی عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیہ کے الیکشن کے دوران اپنے دستوری حق کا صحیح استعمال کریں۔ جذباتی نہ بنیں بلکہ حقائق اور حالات کا تجزیہ کرکے ٹی آر ایس کو کامیاب بنائیں۔ کیوں کہ ٹی آر ایس کی کامیابی تلنگانہ کے عوام کی سلامتی کی ضامن ہے۔

Post source : urduleaks