January 16, 2021

عقیدہ ایمان کا دوسرا نام ہے _ آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے مولانا محمد الیاس

عقیدہ ایمان کا دوسرا نام ہے _ آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے مولانا محمد الیاس


ٍ بنگلور، 12/ جنوری (ایم ٹی آئی ہچ): مرکز تحفظ اسلام ہند کی آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت ہانگ کانگ کے رکن حضرت مولانا محمد الیاس صاحب نے فرمایا کہ عقیدہ کا لغوی معنی گرہ کے ہیں اور اصطلاحی (اسلامی) معنی ایمان کے ہیں یعنی عقیدہ کا دوسرا نام ایمان ہے۔ عقیدہ اس بات کو کہتے ہیں جس بات کو ماننا اور جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اعمال کیلئے عقیدہ ایسا ہے جیسے انسان کے جسم کیلئے روح، معلوم ہوا کہ اعمال کی روح اور جان صحیح عقیدہ ہے۔ اسکی اہمیت فقط اس بات سے لگائی جاسکتی ہیکہ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اعمال کی فقہ لکھنے سے پہلے”فقہ الاکبر“ کے نام سے عقائد کی فقہ لکھی تاکہ امت کے عقائد کی حفاظت ہو سکے۔ مولانا الیاس صاحب نے فرمایا کہ مولانا ادریس کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ ضروریات دین کی ہر بات کو ماننا ایمان ہے اور ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار کرنا کفر ہے۔ انہوں نے کتاب ”عقائد الاسلام“کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جسکے عقیدے صحیح ہوں گے اس کے حق میں دوزخ کا دائمی عذاب مفقود ہے۔ مولانا الیاس نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ اسلام کی بنیاد میں اگر ایک عقیدہ بھی خراب ہو گیا تو اسلام کی تمام عمارت خراب ہو گئی۔ اور عقیدہ و ایمان ایک ایسا نور ہے کہ یہ جس دل میں آئیگا تو پورا آئیگا ورنہ ذرا بھی نہیں آئیگا۔ حضرت نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی 90/ فیصد مسلمان ہو اور 10/ فیصد کافر ہو یا 90/ فیصد کافر ہو اور 10/ فیصد مسلمان ہو۔ لہٰذا عقائد اسلام کی اہمیت و عظمت کو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔
آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس کی دوسری نشست میں عقیدہئ توحید پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا محمد الیاس نے فرمایا کہ عقیدہئ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ مولانا الیاس نے کتاب ”عقائد الاسلام“ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدیم ذات اور صفات کے ساتھ خود بخود موجود اور موصوف ہے اور اسکے سوا تمام اشیاء اسی کی ایجاد سے موجود ہوئی ہیں، خدا تعالیٰ کو خدا اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ خود بخود ہے اس کی ہستی خود اسی سے ہے اور اسکی ذات و صفات کے سوا تمام عالم اور اسکی تمام اشیاء حادث اور نو پیدا ہیں عدم سے وجود میں آئی ہیں۔ اسی لیے جہان کی کوئی شے ایک حال پر قائم نہیں تغیر اور تبدل کی آماجگاہ اور فنا اور زوال کی جولا نگاہ بنی ہوئی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ عالم خود بخود موجود نہیں ہوا۔ بلکہ اسکا وجود اور ہستی کسی اور ذات کا عطیہ ہے۔ پس وہ ذات بابرکات جو تمام اشیاء کے وجود اور ہستی کا مالک ہے اسی کو ہم اللہ اور خدا اور مالک الملک کہتے ہیں، اور اصل مالک یعنی مالک حقیقی بھی وہی ہے۔ جسکے قبضہئ قدرت میں تمام کائنات کا وجود ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ خوب سمجھ لو کہ حقیقی مالک وہی ہے جو وجود کا مالک ہے اور جو وجود کا مالک نہیں وہ حقیقی مالک نہیں۔ مولانا الیاس نے فرمایا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء آفرینش عالم سے اس وقت تک تمام دنیا کے ہر حصے اور خطے میں تقریباً سب کے سب خدا تعالیٰ کے قائل رہے اور دنیا کے تمام مذاہب و ادیان سب اس پر متفق ہیں کہ خدائے برحق موجود ہے، اسی نے اپنی قدرت اور ارادے سے اس عالم کو پیدا کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مادہ پرستوں کا گروہ جن کا دوسرا نام منکرین مذہب ہے وہ نہایت بے باکی کے ساتھ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ اور یہ کہتا ہے کہ خدا کا کوئی واقعی وجود نہیں۔ خدا محض ایک موہوم اور فرضی شے ہے۔ حالانکہ یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مولانا محمد الیاس صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اطلاعات کے مطابق مرکز تحفظ اسلام ہند کی فخریہ پیشکش چالیس روزہ”سلسلہ عقائد اسلام“اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے۔ بتایا جارہا ہیکہ اسی سلسلے کی سب سے اہم کڑی آن لائن تحفظ عقائد اسلام کانفرنس سے عنقریب مولانا احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی اور مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہم وغیرہ بھی خطاب کرنے والے ہیں۔

Post source : Press release