January 16, 2021

بین مذہبی شادیوں سے متعلق آلہ آباد ہائی کورٹ کا سنسنی خیز فیصلہ

بین مذہبی شادیوں سے متعلق آلہ آباد ہائی کورٹ کا سنسنی خیز فیصلہ

لکھنو_13 جنوری ( اردو لیکس) الہ آباد ہائی کورٹ نے  بین مذہبی شادیوں سے متعلق سنسنی خیز فیصلہ دیا ہے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بین مذہبی شادیوں کے سلسلے میں 30 دن کا نوٹس پیش کرنا لازمی نہیں ہے۔ دولہا اور دلہن اگر  تحریری طور پر یہ درخواست کرتے ہیں کہ ان کی شادی کی نوٹس ڈسپلے نہ کریں تو ایسی صورت میں  نوٹس کو ظاہر نہ  کریں اور شادی کے خلاف پیش کئے جانے والے کوئی اعتراض قبول نہ کریں ۔ اس طرح کے نوٹس سے دلہا اور دلہن،  آزادی اور رازداری کے بنیادی حقوق سے محروم ہوجائیں گے ۔ دوسروں کی مداخلت کے بغیر  میاں بیوی کے انتخاب کو یقینی بنایا جائے۔اسپیشل میریج  ایکٹ 1954 کے تحت  بین مذہبی شادی کے لئے  ڈسٹرکٹ میرج آفیسر کو نوٹس دینی ہوتی ہے ۔ ان نوٹس کو 30 دن کے لئے  میریج آفیسر کے دفتر میں آویزاں کرنا ہوگا۔ جو بھی ان کی شادی پر اعتراض کرتا ہے اس پر غور کیا جانا چاہئے۔الہ آباد ہائی کورٹ کے جج وویک چودھری نے کہا کہ قانون کے کچھ حصوں سے شہریوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں۔ اگر جوڑے کی طرف سے تحریری طور پر یہ درخواست کی گئی کہ ان کی شادی کے نوٹسز ظاہر نہیں کیے جائیں تو شادی کروانے والے  آفیسر کو نوٹس ڈسپلے پر نہیں لگانا  چاہئے اور بغیر کسی اعتراض کے شادی کے عمل کو آگے بڑھانا چاہئے۔ یہ فیصلہ جسٹس ویویک چودھری نے ایک دلہن کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دیا جس نے مسلمان سے شادی کے لئے مذہب تبدیل کیا تھا۔ دلہن نے درخواست میں کہا ہے کہ اس کے والد نے اس کی شادی کو قبول نہیں کیا۔

Post source : urduleaks