January 23, 2021

حیدرآباد میں پانی کی مفت سربراہی اسکیم میں کئی خامیاں: محمد علی شبیر

حیدرآباد میں پانی کی مفت سربراہی اسکیم میں کئی خامیاں: محمد علی شبیر

 حیدرآباد_14 جنوری ( اردو لیکس) تلنگانہ کانگریس کے سینئر لیڈر و قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ گریٹر حیدرآباد میں عوام کو ماہانہ 20,000 لیٹر پانی کی سربراہی کی اسکیم کا مقصد شہریان حیدرآباد کو گمراہ کرنا ہے ۔ حکومت نے اسکیم کے بارے میں وضاحت کئے بغیر ہی اعلان کردیا جس کے سبب یہ واضح نہیں ہے کہ اسکیم سے کتنے خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ انتخابی فائدہ کیلئے ٹی آر ایس نے یہ وعدہ کیا تھا اور دیگر انتخابی وعدوں کی طرح کسی منصوبہ بندی کے بغیر رسمی طور پر آغاز کردیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 20,000 لیٹر مفت پانی کی سربراہی اسکیم سے صارفین کو فائدہ کے بجائے مزید الجھن میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ صارفین کے پاس پہلے سے واٹر میٹرس موجود ہیں لیکن حکومت انہیں نئے میٹرس نصب کرنے کی ہدایت دے رہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ صارفین سے نئے میٹرس کے چارجس کے طور پر بھاری آمدنی حاصل کرنے کیلئے یہ اسکیم تیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سلم علاقوں میں سرکاری نلوں سے پانی کی سربراہی کا انتظام کیا جاتا ہے جبکہ گھریلو صارفین کو نئی اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، برخلاف اس کے نئے میٹر نصب کرنے سے ان پر مالی بوجھ عائد ہوگا۔ انہوں نے موجودہ میٹرس کی جگہ نئے میٹرس نصب کرنے کی شرط پر سخت تنقید کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اپارٹمنٹ اور ہمہ منزلہ عمارتوں میں قیام کرنے والے افراد کو اسکیم سے کس طرح فائدہ ہوگا یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے۔ فلیٹ کے مالکین کس طرح اپنا علحدہ میٹر نصب کرسکتے ہیں جبکہ ساری عمارت کیلئے ایک ہی میٹر ایک کنکشن کے ساتھ ہوتا ہے۔ انہوں نے اسکیم سے استفادہ کیلئے آدھار کو مربوط کرنے پر سخت اعتراض کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار معلومات کے ذریعہ عوام کی نجی تفصیلات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے حال ہی میں جائیدادوں کے رجسٹریشن کو آدھار سے مربوط کرنے کی مخالفت کی۔ محمد علی شبیر نے مفت پانی کی سربراہی اسکیم کو مزید آسان بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نئے میٹرس کے نام پر صارفین پر اضافی بوجھ عائد نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں کرشنا اور گوداوری سے حیدرآباد کو پانی کی سربراہی کا انتظام کیا گیا۔ ٹی آر ایس حکومت کا اس پراجکٹ میں کوئی رول نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حیدرآباد کو پانی کی سربراہی پراجکٹ پر عمل آوری میں ان کا بحیثیت وزیر اہم رول رہا ۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی راما راؤ حیدرآباد کی ترقی کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے کے عادی ہوچکے ہیں جبکہ حیدرآباد کی ترقی کانگریس دور حکومت کی دین ہے۔

Post source : urduleaks