مفاد عامہ میں ایک اپیل شہری ذمہ داری کورونا وبا سے جنگ میں بڑی بنیاد

بدقسمتی سے کورونا وبا کی دوسری لہر پورے ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انسانی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ حکومتی افسران اور ماہرین صحت یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ شروعاتی مرحلے کی بہ نسبت اس مرتبہ وائرس کے پھیلنے اور اموات کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ پہلے جہاں اس سے عمردراز اور بیمار لوگوں کی ہی موت واقع ہو رہی تھی، حالیہ رپورٹوں کے مطابق اس بار نوجوان اور تواناں افراد بھی اسی تعداد میں مر رہے ہیں۔

دوسری جانب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حکومتیں بالخصوص مرکزی حکومت تیاری نہ کرنے کی وجہ سے اس وبا کو روک پانے یا اس کے اثر کو کم کر پانے میں پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔ لہٰذا اس کورونا وبا کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور اپنی اور عوام کی زندگی بچانے کے لئے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہم سب اپنے ذمہ دار اورمحتاط انسان ہونے کا فرض نبھائیں۔ ایسے نازک حالات میں، ہمیں اپنی شہری ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے۔ اس لئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی جانب سے، میں ہمارے تمام ممبران، کارکنان اور عوام کو درج ذیل باتوں کی یاددہانی کرانا مناسب سمجھتا ہوں۔

٭ گھر میں رہنا، سماجی اجتماعات سے بچنا، جسمانی دوری بنائے رکھنا اور ہمیشہ ماسک پہننا سب سے اہم اور بنیادی کام ہیں۔

٭ حالات کا تقاضہ ہے ہم ہسپتالوں میں بیڈ کے انتظام، آکسیجن کی فراہمی اور کفن دفن جیسی ضروری خدمات کے لئے گھروں سے نکلیں۔ لیکن اس قسم کی سماجی خدمات میں شامل ہر شخص کو دوسروں کو بچانے سے پہلے خود کو کووڈ کے انفیکشن سے بچانے کے لئے ہر ضروری احتیاط لازماً برتنا چاہئے۔

٭ اگر آپ کو معمولی علامات کا بھی احساس ہو تو بلا تاخیر کووڈ کا ٹیسٹ کروائیں۔ اس سے آپ کی فکر بھی دور ہو جائے گی اور شروعاتی مرحلے میں ہی علاج کے ذریعہ آپ صحت کو بگڑنے سے بچا بھی پائیں گے۔ ہسپتال میں بھرتی وغیرہ جیسی طبی امداد حاصل کرنے کے لئے بھی ٹیسٹ کرانا ضروری ہے۔

٭ ’علاج سے احتیاط بہتر ہے‘ کی کہاوت کورونا وائرس کے معاملے میں بہت زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ اس وبا کو ختم کرنے کے لئے ویکسین لگوانے کے طریقے کو پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے۔ لہٰذا کووڈ سے بچنے کے لئے، سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ حکام صحت کی ہدایات کے مطابق ویکسین لگوائیں۔ جو لوگ اس کے مضر اثرات یا پہلے سے موجود امراض کو لے کر تشویش کا شکار ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ ویکسین اور دوسرے طریقے اپنانے سے قبل کسی قابل اعتماد ڈاکٹر سے صلاح لے لیں۔

آخر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اس خطرناک وبا سے محفوظ رکھے، کیونکہ حقیقت میں بچانے والی اسی کی ذات ہے۔