February 28, 2021

کیا یہ احسان فراموشی نہیں؟

از: محمد ندیم الدین قاسمی

اگر کوئی آپ کے ساتھ احسان کرے یا مصیبت وغم میں آپ کا سہارا اور بازو بن جائے، تو زندگی بھر آپ اس کے احسان مند ،شکر گزار ہوجاتے ہیں؛ لیکن آپ ہی بتائیں کہ جس ہستی نے ہر وقت یاد رکھا ،گالیاں سن کر دعائیں دیں، پتھر کھاکر رحمت کے پھول برسائے، طائف میں زخمی ہوکر بہ زبانِ حال “اللھم اھد قومی فانھم لایعلمون” کی صدا بلند کی، محتاجوں، بے سہاروں کا آسرا، یتیموں، بیواؤں کے غموں کا مدوا بنا، محض آپ تک ایمان واسلام کی دولت پہونچانے کی خاطر جنگِ احد و خندق کی تکالیف کو برداشت کیا، اپنے عزیزوں کے کھونے کا غم سہ لیا، اپنے وطن کو چھوڑنے کی تکلیف برداشت کرلی، اپنے پیارے چچا کا خون میں لت پت جسم دیکھا ، پیٹ پر پتھر باندھے،سامانِ امیری ہونے کے باوجود فقیری کو ترجیح دی،مختلف موقعوں پر اپنی گناہ گار امت کی راحت رسانی کی فکر کی؛خواہ وہ معراج کا موقعہ ہو یا پھر عرفات، منی اور مزدلفہ کا میدان ؛ اسی لئے ایک موقعہ پر فرمایا: لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك مع كل وضوء(اگر میری امت کو دشواری پیش نہ آتی تو میں ہر وضوء کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔اللہ اکبر!
ایک صحابیؓ نے حج کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا”
لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ.
’’اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دیتا تو ہر سال حج واجب ہو جاتا اور تم سے یہ نہ ہو سکتا۔‘‘
اپنے اُس چہرہ انور پر تھوک کو گورا کرلیا، جس کو فرشتوں نے بوسہ دیا تھا ، آپ کو زہر سے مارنے کی بدبختانہ کوشش کی گئی، رات بھر امت کی ہدایت و فلاح کی خاطر تڑپتے ٹڑپتے گزار دی، میدانِ حشر میں بھی جس کا نعرہ ” یا ربّ امتی یاربِّ امتی” ہوگا
طارق بن عبد اللہ المحاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اللہ کے رسولؐ کو بازارِ ”ذی المجاز“ میں دیکھا؛ جب کہ میں خرید وفروخت میں مشغول تھا۔ آپؐ سرخ جبہ زیب تن کیے ہوے تھے اور بلند آواز سے یہ فرماتے جاتے تھے : ”اے لوگو! “لا الہ الا اللہ” کہو، فلاح پاجاؤگے“۔ ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھے پتھر مارتا جاتا تھا، جس سے آپ کی پنڈلی اور ایڈی خون آلود ہوگئے۔ وہ شخص ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا تھا: ”اے لوگو! اس کی بات نہ سننا یہ جھوٹا ہے“۔ محاربی فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یہ شخص (آپؐ) کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ یہ لڑکا بنی عبد المطلب سے ہے۔ (پھر) میں پوچھا: وہ شخص کون ہے جو اس کا پیچھا کررہا ہے اور پتھر مار رہا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ آپؐ کا چچا عبد العزی یعنی ابو لہب ہے۔ (مصنف ابن أبی شیبہ، حدیث: 36565 )
حضرت عروہ بن زبیر۔ رحمہ اللہ۔ نے (عبد اللہ) ابن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: مجھے اس سخت ترین تکلیف سے باخبر کیجیے جس سے مشرکین نے آپؐ کو دوچار کیا۔ انھوں نے فرمایا: ایک بار نبیؐ “حطیم” میں نماز ادا کررہے تھے، اچانک عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپؐ کی گردن میں اپنا کپڑا ڈال دیا۔ پھر اس نے سخت طریقے سے آپؐ کا گلا گھونٹا۔ پھر ابو بکر۔ رضی اللہ عنہ۔نے آکر بچالیا، اور فرمایا: ”کیا تم ایک شخص کو اس وجہ سے مار ڈالو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ “ [سورہ غافر: 28 ] (صحیح بخاری، حدیث: 3856 )
تفسیر درّ منثور 8 / 667 )
آپ کو یاد ہوگا کہ جب آپؐ ہرطرح کے مصائب وآلام سے دوچار تھے اس وقت آپ کی دو لڑکیوں کو طلاق دی گئی تو اس وقت اُس باپ پر کیا بیتی ہوگئی؟اسے بیان کرنا بھی مشکل ہے۔
جس نے بداعتقادی کا خاتمہ کیا، اگر وہ نہ ہوتا تو پوری انسانیت در بدر بھٹکتی رہتی،جاہلیت میں غوطے کھا رہی انسانیت کو امانت ودیانت، صدق و وفا کا درس دیا،عورتوں کو تحت الثری ، فوق الثریا کردیا،جینے کا سلیقہ سکھایا،آدابِ زندگی سے باخبر کیا،الغرض آپ ﷺکے احسانات لا تعداد و بے شمار اورہمارے زبان وقلم کی رفتار بے حد مختصر ، بس بعد از خدا تو ہی قصہ مختصر!بقول جگن ناتھ آزاد:
سلام اس ذاتِ اقدس پر، سلام اس فخرِ دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر۔
لیکن آپ نے کبھی اپنے دل سے پوچھا کہ ہم نے اس غم گسار کے احسانات کا کیا صلہ دیا، کیا یہی کہ آپؐ کے دشمنوں کے طور و طریقے کو اپنایا، ان کے فیشن کو قبول کیا، اب اس ہستی کی تعلیمات دقیانوسی نظر آنے لگی، اس پر قدامت پسندی کا لیبل لگاکر اس کو چھوڑدیا؟ اسی طرح ہمیں کبھی سنتوں کے چھوٹنےکا غم ہوا، دن میں کتنی بار اس ہستی پر درود وسلام کا نظرانہ پیش کیا، آپؐ کی نبوت پر جب ڈاکہ ڈالا گیا تو ہم نے اس کی دفاع میں کیا کیا،تعلیماتِ اسلام پر ہم کتنے عمل پیرا ہیں ،اس ہستی کی یاد میں کبھی ایک دو قطرے آنسو بہے،آپؐ کی امت جو دین سے دن بہ دن مرتد ہوتی جارہی ہے ان کے ایمان کی حفاظت کا کیا سامان کیا؟ ان تمام سوالات کا بس یہی جواب ہے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا ؛تو اب فیصلہ کرلیں کہ کیا ہم احسان فراموش نہیں ہیں؟ اللہ ہی ہماری حفاظت فرمائے، آمین!