وزیر داخلہ محمود علی نے سابق وزیر شبیر علی کے بیان کی مذمت کی

حیدرآباد _24 ،فروری ( اردولیکس)وزیر داخلہ  محمد محمود علی نے سابق وزیر محمد علی شبیر کی جانب سے سیکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیر سے متعلق دئے گئے بیان کی مذمت کرتے آج پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ سیکریٹریٹ میں مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو تعمیر کرنے کے معاملے میں حکومت سنجیدہ ہے اور اس معاملے میں دوسری کوئی رائے نہیں ہے صحافت کے لئے جاری بیان میں جناب محمود علی نے کانگریس کے سابق وزیر محمد علی شبیر کو مشورہ دیا کہ وہ بے بنیاد الزامات اور غیر ضروری تنقیدیں کرنے کے بجائے تلنگانہ عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں پر توجہ دیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ آخرت کو سامنے رکھ کر ہی زندگی گزارنا میرا معمول ہے۔ اسی لئے خدمت خلق کی نیت سے سیاست میں داخل ہوا ہوں۔سکریٹریٹ مساجد کے متعلق ہمارا وعدہ پورا نہیں ہوگا تو یقیناََ ہماری آخرت تباہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر نے عوام کو بہکانے اور اکسانے کی نیت سے تلنگانہ حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کئے ہیں۔  وزیر اعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ نے بار بار کہا ہے کہ سکریٹریٹ کی مساجد اور مندر کے علاوہ چرچ کی تعمیر بھی کی جائے گی اور سکریٹریٹ کے افتتاح سے قبل مسجد کا افتتاح ہوگا ،میناروں سے اذان کی آواز بلند ہوگی، مندر سے گھنٹوں کی صدائیں اورچرچ سے عبادت کی آوازیں آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے عوام کو نہ کبھی گمراہ کیا ہے اور نہ کبھی گمراہ کرے گی۔ تلنگانہ عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ انہیں کن حکومتوں اور قائدین نے گمراہ کیا ہے اور ان  سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ 26 فروری کومساجد کا سنگ بنیادنہ رکھنے کی اہم اور واحد وجہ انتخابی ضابطہ اخلاق ہی ہے۔اگرانتخابی ضابطہ اخلاق نہیں ہوتا تو تلنگانہ حکومت سنگ بنیاد رکھنے  میں کسی قسم کا پس وپیش نہیں کرتی۔ ریاستی وزیر داخلہ نے کہا کہ سابق وزیر ایک مرتبہ اپنی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیں تو حقیقت سامنے آئے گی کہ کس حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا ہے۔تنقید کرنے والوں کو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ تنقید برائے اصلاح ہو تاکہ عوام کی بھلا ئی ہو