پڈوچیر ی میں طاقت کا غلط استعمال اور اراکین اسمبلی کی خریدوفروخت سے حکومت گرائی گئی ہے۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی۔25 فروری (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے مرکزی بی جے پی حکومت پر طاقت کے غلط استعمال اور اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت سے حکومت گرانے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر دہلان باقوی نے اپنے جاری کردہ  اعلامیہ میں کہا ہے کہ مرکزی بی جے پی حکومت غیر بی جے پی پارٹیوں کی حکومت والی ریاستی حکومتوں کو گرانے اور غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہے جو عوام کے ذریعے جمہوری طور پر منتخٰب ہوئے تھے۔ مرکزی بی جے پی حکومت ریاستی گورنروں کو ریاست کے روزمرہ کے معاملات اور فرائض میں مداخلت کرنے اور ان کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ریاستی حکومتوں کے کاموں کو ناکارہ بنانے کیلئے ریاستوں کے مقررکردہ گورنروں کا استعمال کرتی آرہی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی بی جے پی حکومت اپنے حزب اختلاف پارٹیوں کے زیر اقتدار ریاستوں کے اراکین اسمبلی کو لالچ دیکر اپنی طرف راغب کرتی ہے یاطاقت کا غلط استعمال کرکے انہیں استعفی دینے پر مجبور کرتی ہے۔ تاکہ خرید وفروخت کے ذریعے اور غیر جمہوری طریقے سے حکومتوں کو اکثریت سے محروم کرسکیں۔ جس طرح سے کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت کی سیاست کی گئی تھی اسی کو پڈوچیری میں بھی کانگریس کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کامیابی سے دہرایا گیا ہے۔ بی جے پی کے ذریعے خرید وفروخت کی گندی سیاست سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اقتدار کی کتنی لالچ ہے۔ اس سے پہلے مرکزی بی جے پی حکومت نے پڈوچیری میں اس کے لیفٹینٹ گورنر، مسنر کرن بیدی کے ذریعہ پڈوچیری حکومت کو اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہ کرنے اور منصوبوں کا فائدہ عوام تک نہ پہنچانے میں رکاوٹیں پیدا کرچکی ہے۔غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستی حکومتوں کو جو جمہوری طریقے سے عوام نے منتخب کیا تھا اس کو مرکزی حکومت کے حکم پر ریاستی گورنرز نے آسانی سے چلانے نہیں دیا تھا۔ نیز پڈوچیری میں بھی حکومت کو غیر مستحکم کرنا، خرید وفروخت کی حوصلہ افزائی کرنا یہ سب مرکزی بی جے پی حکومت کے ذریعہ جمہوریت کے قتل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 2017میں گوا اور میگھالیہ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے بعد اگرچہ کانگریس کے پاس اکثریت سے کم نشستیں تھیں مگر اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی تھی، لیکن کم تعداد والی بی جے پی پارٹی کو راتوں رات طاقت کا غلط استعمال اور خرید وفروخت کی حوصلہ افزائی کرکے متعلقہ گورنرز کی طرف سے غیر جمہوری طریقے سے حکومتیں بنانے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ ہندوستانی عوام نے کانگریس اور اس کے حلیف پارٹیوں کو بی جے پی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کے خلاف اعتماد کیا تھا۔ لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کا خرید وفروخت کے ذریعہ بی جے پی میں چھلانگ لگانے اور فاشسٹ بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے سے اپوزیشن پارٹیوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ اس کے علاوہ عوام جمہوریت پر امید کھوسکتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی سے لیکر ان کے سارے وزراء یہ فخر کررہے ہیں کہ ان کی حکومت بدعنوانی سے پوری طرح آزاد ہے۔ لیکن وہ جو غیر جمہوری طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرنے، اپوزیشن پارٹیوں اور جمہوریت کو ڈرانے، بدعنوانی کے معاملات کو لالچ دیکر منسوخ کرنے میں ملوث ہیں وہ سب اس حکومت کی بدعنوانی نہیں تو کیا ہے۔ لہذا، ریاستی گورنرز کو ان کے کٹھ پتلی بنانے والی اور اپوزیشن پارٹیوں کے عوام کی منتخب کردہ ریاستی حکومت کو غیر مستحکم کرنے والی،جمہوریت کا مذاق اڑانے والی اور وفاقی حکومت کے نظم و نسق اور جمہوریت کا قتل کرنے والی مرکزی بی جے پی حکومت کے خلاف ایک مضبوط مخالف آواز بلند کی جانی چاہئے۔ نہ صرف کانگریس بلکہ ملک بھر کی اپوزیشن پارٹیوں اور بی جے پی کے حلیف پارٹیوں کو بھی بی جے پی کے اس غیر جمہوری اقدامات کو سنجیدگی سے محسوس کرنے اور لوگوں میں جمہوریت کی امید کو بحال کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے۔