جے پور سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ 12سال کے طویل انتظار کے بعد بے گناہ شہباز احمد کی رہائی کا راستہ صاف


جمعیۃ علماء ہند کی قانونی مدد کے نتیجے میں شہباز7 مقدمات میں بری اور 2میں رہا
شہباز نے بے گناہی کے جو ماہ وسال جیل میں گزارے اس کی تلافی کون کرے گا؟ مولانا ارشد مدنی کا اہم سوال

 

نئی دہلی 25 فروری13( پریس ریلیز) مئی 2008کو راجستھان کے ثقافتی شہر جے پور میں رو نما ہونے والے سلسلہ واربم دھماکہ معاملے میں ملزم بنائے گئے لکھنؤ کے ایک نوجوان کو گذشتہ کل جئے پور ہائی کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ملزم شہباز احمد کو ابتک 7 مقدمات سے بری کیا جاچکاہے جبکہ اسے 2 مقدمات میں ضمانت حاصل ہوچکی ہے، ایک مقدمہ میں 8 جنوری 2021 کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جبکہ گذشتہ کل جئے پور ہائی کورٹ کے جسٹس پنکج بھنڈاری نے ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے، جئے پور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ملزم کی 12 سالوں کے طویل عرصہ کے بعد جیل سے رہائی کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔انہوں نے مقدمہ کے تعلق سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ملزم پر الزام تھا کہ وہ ممنوع دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کا رکن ہے اور اس نے دیگر چار ملزمین کے ساتھ ملکر سلسلہ وار بم دھماکے کیئے تھے۔ ان بم دھماکوں میں 80 لوگوں کی موت جبکہ 176 لوگ زخمی ہوئے تھے۔گذشتہ برس نچلی عدالت نے ایک جانب جہاں چار ملزمین کو قصور وار ٹہرایا تھا وہیں ملزم شہباز احمد کو باعزت بری کردیا تھا، عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد جئے پور پولس نے ملزم شہباز کو 12 سال پرانے ایک دوسرے مقدمہ میں گرفتار کرلیا تا کہ اس کی جیل سے رہائی نہ ہوسکے۔ملزم شہباز احمد کی ضمانت عرضداشت پر بحث کے دوران ایڈوکیٹ نشانت ویاس اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ جئے پور پولس ملزم کو پریشان کرنے کے لیئے اسے ایک ایسے مقدمہ میں گرفتار کرلیا جو گذشتہ12 سالوں سے بند تھا جبکہ اس دوران ملزم انہیں دستیاب تھا اور وہ اس کے خلاف چارج شیٹ داخل کرکے مقدمہ چلا سکتے تھے۔وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو جن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اسے ان الزامات سے گذشتہ سال نچلی عدالت نے بری کردیا تھا لہذا اب ملزم کی گرفتاری غیر قانونی ہے اور اس پر ایک ہی الزام کے تحت دو مقدمات نہیں چلائے جاسکتے۔دفاعی وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کو ناصرف 12 سالوں تک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کیا گیا بلکہ دوران قید اسے جسمانی طورپر شدید زدوکوب بھی کیا گیا جس کی شکایت ملزم نے سپریم کورٹ سے کی تھی جس پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے سبکدوش آئی اے ایس افسر سے تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے جس کی تحقیقات جاری ہے۔جئے پور ہائی کورٹ کے جسٹس بھنڈاری نے دفاعی وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کو مشروط ضمانت پررہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے جبکہ وکیل استغاثہ نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر بم دھماکے انجام دینے کا سنگین الزام ہے لہذا اسے ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہئے۔اس پورے معاملے پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ معاملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا ہے،اس میں ایک بے گناہ کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے بارہ سال تک جیل کے اندر رکھا گیا اور جب وہ دہشت گردی کے سات مقدمات سے باعزت بری ہوا توجے پور پولس نے اسے ایک دوسرے بہت پرانے معاملے میں ملوث کرکے بدستور جیل میں رکھنے کی سازش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ملک کی تفتیشی ایجنسیوں اور پولس کے کام کاج کے طور طریقوں پر نہ صرف سنگین سوال کھڑے کرتا ہے بلکہ ان کی گھناؤنی ذہنیت اور خطرناک جانبدارانہ رویہ کی قلعی بھی کھول دیتا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ دہشت گردی سے جڑے معاملوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولس اور تفتیش کاروں کی سست روی کی وجہ سے عدالتوں کو فیصلے صادر کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔جس کا خمیازہ بے گناہ ملزمین کو بھگتناپڑتا ہے اور یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔شہباز کا معاملہ اس کی تازہ بدترین مثال ہے۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ شہباز نے بے گناہی کے جو قیمتی بارہ سال جیل میں گزارے اس کی تلافی کون کرے گا؟سوال یہ بھی ہے کہ کیا ملک کا قانون کسی بااختیار شخص کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بے گناہ انسان سے اس کے بنیادی حقوق چھین لے اور قانون کی آڑ لے کر اس کی زندگی کو تباہ و برباد کرڈالے؟ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ قانون نافذ کرنے اور اس پر عمل کرنے والی ایجنسیوں کے تعصب اور امتیازی رویے کے سبب ایسا ہورہا ہے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی جوابدہی طے نہیں ہے انہیں اس بات کی کھلی آزادی ملی ہوئی ہے کہ وہ جس کی چاہیں زندگی برباد کردیں،ان سے کوئی باز پرس نہیں کرے گا،انہوں نے مزید کہا کہ سات مقدمات میں شہباز کا باعزت بری ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے آسیب کو مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے زندہ کیا گیا تھا۔اور جب یہ افسوسناک سلسلہ ملک گیر پیمانے پر شروع کیا گیا تو کچھ ایسا ماحول قائم کردیا گیا تھا کہ اس کے خلاف کوئی لب کشائی کی جرأت بھی نہیں کرسکتا تھا۔مولانا مدنی نے میڈیا کے رول پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں ہونے والی گرفتاریوں کی خوب نمک مرچ لگاکر تشہیر کرتا ہے لیکن جب عدالت سے ان کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے تو اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی کی سخت مخالف ہے اس لئے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کو برباد کرنے کے لئے دہشت گردی کو ایک مؤثر ہتھیا ر کے طور پر بے دریغ استعمال کیا گیا۔مولانا مدنی نے اس بات پر بھی شدید دکھ کا اظہار کیا کہ ایک ملزم پر ایک ہی الزام کے تحت لاتعداد مقدمے قائم کردیئے جاتے ہیں،چنانچہ وہ اگرایک مقدمے میں بری بھی ہوجاتا ہے تو اسے جیل سے رہائی نہیں مل پاتی،مقدمے بدستور چلتے رہتے ہیں، اس طرح مذکورہ شخص کے قیمتی ماہ وسال قانونی لڑائی لڑنے میں ضائع ہوجاتے ہیں اور جب وہ ان تمام جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہوکر جیل سے باہر آتا ہے اس کی دنیا تاریک ہوچکی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ظلم نہیں ظلم کی انتہا ہے،اس لئے اب عدالتی نظام میں تیزی لانا وقت کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ تفتیشی ایجنسیوں اور پولس کی جوابدہی بھی طے ہونا چاہیے، اس لئے کہ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا ایک بے گناہ شخص اگر بری ہوکر جیل سے باہر آبھی گیا تو کسی دوسرے بے گناہ کو جیل میں اسی طرح ڈالا جاتا رہے گا اور یہ مذموم سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔