بنگلور ڈی جے ہلی معاملے پر این آئی اے چارج شیٹ سنگھ پریوار کی ایس ڈی پی آئی کے خلاف سازش

 

بنگلور۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کرناٹک کے ریاستی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کرناٹک کے ریاستی نائب صدر اڈوکیٹ مجید خان نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگلور ڈی جے ہلی معاملے پر این آئی اے سنگھ پریوار کے دباؤ میں آکر اور اس کے لکھے ہوئے اسکرپٹ کے تحت چارج شیٹ تیار کی ہے۔ مجید خان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بنگلور شہر کے ڈی جے ہلی میں گزشتہ 11اگست کی رات کو نوین نامی آر ایس ایس کارکن کی جانب سے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج کے بعد ہوئے پر تشدد واقعے کی جانچ کیلئے بنگلور سٹی کرائم برانچ نے پہل کی اور سینکڑوں  معصوم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔مرکزی بی جے پی حکومت نے سنگھ پریوار کے دباؤ میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو بھیجا جبکہ بنگلور کی سی سی بی پولیس اس معاملے میں ابھی تفتیشی مرحلے میں تھی۔ بی جے پی حکومت کی ہدایت کے مطابق، این آئی اے نے خود انکوائری شروع کرنے سے پہلے ہی دہلی میں ایس ڈی پی آئی کے خلاف ایف آر درج کی تھی۔ این آئی اے کی تحقیقات کے آخری چھ ماہ میں 2ہزار سے زیادہ افراد کی شناخت اوران سے تفتیش کی گئی۔ ان میں بیشتر ان علاقوں کے عام مقامی لوگ تھے، کچھ کا تعلق کانگریس، جے ڈی ایس، عام آدمی پارٹی اور ایس ڈی پی آئی وغیرہ سے ہے۔ بنگلور کے سی سی بی پولیس کی جارچ شیٹ میں کہا گیاہے کہ کانگریس لیڈر سمپتھ راج اور دیگر کانگریس کارپوریٹرز، جی ڈی ایس اور ایس ڈی پی آء کے چند رہنما بھی ڈی جے ہلی معاملے میں ملوث ہیں اور کانگریس کے موجودہ ایم ایل اے شری اکھنڈ سری نیواس مورتی کو بدنام کرنے بھی سیاسی سازش ہے۔ این آئی اے کی چارج شیٹ میں اس کا بات کا ذکر ہے کہ فیروز (سابق کانگریس ورکر اور موجودہ عام آدمی پارٹی ممبر) اور نوین سنگھ پریوار کا رکن، سوشیل میڈیا پر باقاعدگی سے مذہب مخالف بیانات پوسٹ کرتے تھے۔ نوین نے فیروز کے پوسٹ کے جواب میں پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے بارے میں سوشیل میڈیا پر ایک توہین آمیز پوسٹ کیا تھا۔ تاہم، نوین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا کیونکہ ان پر معمولی آئی پی سی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔ جبکہ فیروز اوردیگر مسلم نوجوانوں کو یو اے پی اے کے تحت الزام لگایا گیا ہے۔ تفتیش کاروں نے بتا یا ہے کہ دونوں کی فیس بک پوسٹس تشدد کی اصل وجہ تھیں۔ لیکن یہاں مذہبی امتیازی سلوک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ نیز، کانگریس کے سابق میئر سمپت راج اور دیگر کانگریس کارپوریٹرز پر یو اے پی اے کا کوئی مقدمہ نہیں لگایا گیا ہے۔ این آئی اے نے انہیں کلین چٹ دی ہے۔ جبکہ بنگلور سی سی بی پولیس نے ان واقعات کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر ان کا واضح طور پر تذکرہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ آج کی تاریخ تک ایم ایل اے شری اکھنڈ سری نیواس مورتی کا ماننا ہے کہ سمپت راج اس سازش میں شامل اصل شخص ہے۔ اول دن سے ہی این آئی اے کے انسپکٹرس ایس ڈی پی آئی پر نظر رکھ کر معاملے کی تحقیقات کررہے تھے اور ایس ڈی پی آئی کو اس میں ملوث کرنا چاہتے تھے۔ ہم ان کاررائیوں میں مماثلت دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح بہت سے دلت قائدین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سی اے اے کے کارکنوں پر یو اے پی اے کی مقدمات کے تحت ملک بھر ان پر کارروائی کی گئی تھی۔ دہلی میں سینکڑوں طلباء اور کارکن کو سی اے اے اور این آر سی احتجاج میں حصہ لینے پر ملک سے غداری کے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ پچھلے چھ سالوں سے فسطائی آرایس ایس کی نظریات اور مودی سرکار کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے ترقی پسند وں، کسانوں،طلباء، دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف ای ڈی، این آئی اے، این ایس اے اور بغاوت کے الزامات کا استعمال کررہی ہے۔بنگلور تشدد سے متعلق ریٹائرڈ جسٹس ناگاموہن کی جاری کردہ ایک آزاد تفتیشی رپورٹ میں انہوں نے واضح طور پر بتایا ہے کہ تشدد کی اصل وجہ ریاستی حکومت اور اس کی انٹلی جنس ڈیپارٹمنٹ کی ناکامی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ تفتیشی ایجنسیاں ایس ڈی پی آئی پارٹی اور مخصوص طبقہ کے لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ اول دن سے ہی ایس ڈی پی آئی ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتی آرہی ہے کہ وہ اس معاملے میں ایک ہائی کورٹ جج کے ذریعہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے۔ این آئی اے کی تحقیقات کا مشاہدہ کرنے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایس ڈی پی آئی اور ایک خاص برادری کے لوگوں کو نشانہ بنانے کیلئے کچھ غیر جانبدار انسپکٹرز پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا سو فیصد عدلیہ پر یقین رکھتی ہے اور وہ اس کے منطقی انجام تک اپنی قانونی جنگ جاری رکھے گی۔ پریس کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی ریاستی جنر ل سکریٹری افسر کوڈلی پیٹ، ریاستی میڈیا انچارج اکر م حسن، بنگلور ضلعی صدر فیاض احمد، بنگلور ضلعی نائب صدر ایچ ایم گنگپا اور کارپوریٹر مجاہد پاشاہ موجود رہے۔