مثالی نظام خاندان کے عناصر

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی 

 

 

[ شعبۂ خواتین ، جماعت اسلامی ہند نے ‘مضبوط خاندان ، مضبوط سماج’ کے عنوان سے جو دس روزہ مہم (19 تا 28 فروری 2021) شروع کی تھی اس کے مختلف پروگراموں میں سے ایک پروگرام مرکزی سطح پر Learn from ایکسپرٹس کے عنوان سے تھا _ روزانہ ایک گھنٹے (11 سے 12 بجے) پروگرام ہوتا تھا ، جس میں 15 منٹ متعین موضوع پر اظہار خیال کے بعد سامعین و سامعات کے سوالات کے جوابات دیے جاتے تھے _ اس پروگرام کے تحت آج مجھے موقع دیا گیا _ میں نے ‘مثالی نظامِ خاندان ‘ کے عنوان پر اظہارِ خیال کے بعد سوالات کے جوابات دیے _ میں نے درج ذیل باتیں کہیں ]

اسلام میں مرد اور عورت کے رشتۂ نکاح میں بندھنے کے نتیجے میں خاندان وجود میں آتا ہے _ انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ اولاد سے نوازتا ہے تو خوشی و مسرّت کے شادیانے بجنے لگتے ہیں اور زوجین کی زندگی بڑی حسین ہوجاتی ہے _ دونوں مل جل کر اولاد کی پرورش کرتے ہیں ، انھیں علم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں ، ان کی دینی و اخلاقی تربیت کرتے ہیں اور انہیں کارگاہِ حیات کے لیے تیار کرتے ہیں _ والدین کی حیثیت خاندان کے سرپرست کی ہوتی ہے ، جن کی محبتوں ، شفقتوں اور عنایتوں کے زیرِ سایہ افرادِ خانہ زندگی گزارتے ہیں _ خاندان کا وسیع دائرہ رشتے داروں کے ذریعے وجود میں آتا ہے _ ان میں نسبی اور سسرالی دونوں رشتے دار آتے ہیں _

مثالی نظامِ خاندان کے قیام کے لیے اسلام نے کچھ ہدایات دی ہیں _ اگر ان ہدایات پر دل کی آمادگی کے ساتھ عمل کیا جائے تو خاندان خوشی و مسرّت کا گہوارہ بنے گا اور اگر انہیں نظر انداز کیا جائے اور رشتوں کو خود غرضی اور ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا جائے تو خاندان کا شیرازہ منتشر ہوجائے گا _ وہ ہدایات درج ذیل ہیں :

(1) محبّت و رحمت :

اس سلسلے میں اسلام کی پہلی ہدایت یہ ہے کہ خاندان کی بنیاد محبت پر استوار کی جائے _تمام افرادِ خاندان کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے والی چیز محبت ہے _ جس طرح کسی عمارت کی مضبوطی اس بات پر منحصر ہے کہ اس کی اینٹوں کے درمیان معیاری سیمنٹ اور اچھا مسالہ لگایا گیا ہو اسی طرح خاندان کی عمارت کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ افرادِ خاندان کے دل محبتوں سے لب ریز ہوں اور وہ وافر مقدار میں ایک دوسرے پر محبت نچھاور کریں _ زوجین کے تعلق کا تذکرہ قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے :
وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِۦۤ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَ ٰ⁠جࣰا لِّتَسۡكُنُوۤا۟ إِلَیۡهَا وَجَعَلَ بَیۡنَكُم مَّوَدَّةࣰ وَرَحۡمَةً (الروم :21)
” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں ، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی۔”
اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ (ابن ماجۃ:1847)
” ہم نے دو محبت کرنے والوں کے درمیان نکاح سے بڑھ کر رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں دیکھا _”
ماں کی محبت اپنی اولاد کے لیے ضرب المثل ہے _ ممتا کی محبت کے کرشمے جانوروں تک میں نظر آتے ہیں _ انسانوں میں یہ محبت بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے _
اسی طرح اسلام کی تاکید یہ ہے کہ دل میں والدین کے لیے محبت ، احترام اور رحم و کرم کے جذبات رکھے جائیں _ ان کے لیے برابر یہ دعا کرتے رہنے کی تلقین کی گئی ہے :
رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِىۡ صَغِيۡرًا (الإسراء :24)
” پروردگار! ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے (رحمت و شفقت کے ساتھ) مجھے بچپن میں پالا تھا _”

(2) حقوق طلبی کے بجائے حقوق کی ادائیگی :

افرادِ خاندان کے درمیان تعلقات میں خوش گواری اور مضبوطی اس وقت ممکن ہے جب ہر ایک کو اس کا حق ملے اور محرومی کا احساس اسے دامن گیر نہ ہو _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
أَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ (بخاری :1968) ” ہر حق دار کو اس کا حق دو _”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت اگرچہ سماجی زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق ہے ، لیکن خاندان پر اس کا انطباق و اطلاق زیادہ ہوتا ہے _ انسانی حقوق (Human Rights) کی تاریخ حقوق طلبی پر مبنی ہے _ کم زوروں ، مظلوموں اور محروموں کو بنیادی انسانی حقوق سے اپنی محرومی کا احساس پیدا ہوا تو انھوں نے ان کا مطالبہ کیا ، ان کے لیے جلوس نکالے اور احتجاج اور مظاہرے کیے ، اس طرح وہ رفتہ رفتہ ایک ایک حق تسلیم کرانے میں کام ہوئے ، یہاں تک کہ اقوام متحدہ کا بین الاقوامی منشورِ انسانی حقوق ( UN charter of Human Rights) وجود میں آگیا ، جس کی خوب واہ واہی ہوئی _ اسلام نے حقوق طلبی کے مقابلے میں حقوق کی ادائیگی کا تصوّر پیش کیا _ اگر خاندان کا ہر فرد ان حقوق کی ادائیگی پر اپنی توجہ مرکوز رکھے جو دوسروں کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتے ہیں تو کسی کو اپنا کوئی حق مانگنے کی نوبت ہی نہ آئے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَهُنَّ مِثۡلُ الَّذِىۡ عَلَيۡهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ (البقرۃ : 228)
” عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں ، جیسے مَردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ ”
گویا عورتوں کے حقوق مردوں کے فرائض ہیں اور مردوں کے حقوق عورتوں کے فرائض ہیں _ اسی پر دوسرے افرادِ خاندان کے حقوق کو قیاس کرلیجیے _ مثلاً اولاد کے حقوق والدین کے فرائض ہیں اور والدین کے حقوق اولاد کے فرائض ہیں _ بہو کے حقوق ساس سسر اور دیگر سسرالیوں کے فرائض ہیں اور ان کے حقوق بہو کے فرائض ہیں _ خاندان کا ہر فرد اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دے تو نہ کسی کے حقوق پامال ہوں گے اور نہ کسی کو اپنے حقوق سے محرومی کا شکوہ ہوگا _

(3) ایثار اور قربانی :

خاندان کو استحکام بخشنے والی تیسری چیز ایثار و قربانی ہے _ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خود پر دوسروں کو ترجیح دے _ وہ کسی چیز کا ضرورت مند ہو اور کوئی سہولت اسے مطلوب ہو ، لیکن وہ خود اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اسے دوسرے کے حوالے کردے _
مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا گیا تو انھوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی _وہاں کے مسلمانوں نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا اور ان کے لیے ضرورت کی ہر چیز فراہم کی _ قرآن مجید میں ان کی اس صفت کا تذکرہ بہت تحسینی انداز میں کیا گیا ہے _ ارشادِ ربانی ہے :
وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ (الحشر : 9.)
” اور اپنی ذات پر دُوسروں کو تر جیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔”
خاندان میں ایثار کا مظاہرہ قدم قدم پر ہوتا ہے _ ماں اپنے بچے کی پرورش کے لیے اپنا آرام و سکون تج دیتی ہے _ خود تکلیفیں اٹھاتی ہے ، لیکن اسے آسائش فراہم کرتی ہے _ بیوی گھر کا نظام بحسن و خوبی چلانے میں خود کو ہلکان کیے رہتی ہے _ مرد اپنے زیر دست افراد کی کفالت کے لیے زمانے کے سرد گرم برداشت کرتا ہے _ نیک اولاد بوڑھے والدین کو آرام پہنچانے میں خود کو تھکاتی ہے _ اگر ہر ایک کو صرف اپنے عیش و آرام کی فکر ہو اور دوسرے سے وہ بالکل بے پروا ہوجائے تو خاندان کا استحکام اور خوش گواری باقی نہیں رہ سکتی _

(4) رشتوں کو نبھانا :

قرآن مجید میں صلہ رحمی پر بہت زور دیا گیا ہے _ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کے فوراً بعد رشتے داروں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے _( البقرۃ :83 ، النساء : 36) رشتوں کا پاس و لحاظ رکھنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے _ سورۂ الرعد میں ‘اولو الألباب’ (عقل مند لوگوں) کے کچھ اوصاف بیان کیے گئے ہیں ، جن میں سے ایک وصف یہ ہے :
وَٱلَّذِینَ یَصِلُونَ مَاۤ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦۤ أَن یُوصَلَ (اور جو لوگ ان رشتوں کو جوڑتے ہیں جنھیں اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے) پھر ان کے لیے یہ بشارت سنائی گئی ہے :
أُو۟لَـٰۤىِٕكَ لَهُمۡ عُقۡبَى ٱلدَّارِ ، جَنَّـٰتُ عَدۡنࣲ یَدۡخُلُونَهَا (آیت :21_ 23)
انہی لوگوں کے لیے ہے آخرت کا گھر ، یعنی ایسے باغات جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے ، جن میں وہ داخل ہوں گے)
آگے رشتوں کو پامال کرنے والوں کے بارے میں یہ وعید سنائی گئی ہے :
وَٱلَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهۡدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مِیثَـٰقِهِۦ وَیَقۡطَعُونَ مَاۤ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦۤ أَن یُوصَلَ وَیُفۡسِدُونَ فِی ٱلۡأَرۡضِ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ لَهُمُ ٱللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۤءُ ٱلدَّارِ (آیت 25)
( وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ، جو اُن رشتوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے _)
قرآن مجید میں نسبی اور سسرالی دو طرح کے رشتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور دونوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَهُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ مِنَ الۡمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهۡرًا‌ (الفرقان :54)
” اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا ، پھر اس نے نسب اور سُسرال کے دو الگ سلسلے چلائے _”
مجھے حیرت ہوتی ہے ان لڑکیوں پر جو سسرال آنے کے کچھ ہی دنوں کے بعد ساس سسر کے ساتھ رہنے سے انکار کردیتی ہیں اور شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کر بیٹھتی ہیں _ کیا ساس سسر ان رشتے داروں میں نہیں آتے جن کے ساتھ صلہ رحمی کی تعلیم دی گئی ہے؟!
مجھے حیرت ہوتی ہے سسرال کے ان لوگوں پر جو گھر بار چھوڑ کر آنے والی لڑکی کو اتنا پیار نہیں دے پاتے کہ اس کی اجنیت ختم ہوجائے اور وہ نئے گھر کو اپنا گھر اور نئے لوگوں کو اپنے گھر والے سمجھنے لگے _ کیا بیٹے کی بیوی کو بیٹی کا درجہ نہیں دیا جاسکتا کہ بات بات پر اسے جھڑکنے ، اس کے کاموں میں خامیاں نکالنے اور اسے طعنے دینے کے بجائے ، وقتِ ضرورت پیار و محبت سے اسے سمجھایا جائے _

(5) عفو و درگزر :

رشتوں کو استحکام بخشنے میں عفو و درگزر کا اہم کردار ہے _ غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں؟ کوئی شخص فرشتہ نہیں ہے _ کسی سے دانستہ یا نادانستہ کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ اس سے قطع تعلق کرلیا جائے ، تمام رابطے کاٹ لیے جائیں اور خاندان میں اسے اچھوت بناکر رکھ دیا جائے _ بلکہ ضروری ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیا جائے ، غلطی کرنے والے کو سنبھلنے کا موقع دیا جائے اور اس کی مناسب رہ نمائی کی جائے _
کسی صاحبِ ایمان کے بیوی بچے اس کے ہم خیال نہ ہوں ، راہِ حق میں اس کا ساتھ نہ دیں ، بلکہ روڑے اٹکائیں اور بے جا رسوم و روایات پر عمل کرنے کے لیے اسے مجبور کریں تو قرآن مجید میں انہیں ‘دشمن’ کہا گیا ہے اور ان کی باتوں کو نہ ماننے اور ان سے بچ کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے _ لیکن ساتھ ہی عفو و درگزر سے کام لینے اور معاف کردینے کو بھی کہا گیا ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِنَّ مِنۡ أَزۡوَ ٰ⁠جِكُمۡ وَأَوۡلَـٰدِكُمۡ عَدُوࣰّا لَّكُمۡ فَٱحۡذَرُوهُمۡۚ وَإِن تَعۡفُوا۟ وَتَصۡفَحُوا۟ وَتَغۡفِرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمٌ (التغابن:14)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ، ان سے ہوشیار رہو ۔ اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کردو تو اللہ غفور و رحیم ہے ۔”
اس آیت میں تین الفاظ آئے ہیں جن کے معانی میں معمولی فرق ہے _ بہر حال اس سے واضح ہے کہ عائلی زندگی میں عفو و درگزر کی غیر معمولی اہمیت ہے ، جسے ہر حال میں پیش نظر رکھنا ضروری ہے _

عائلی زندگی سے متعلق قرآن مجید کی ان ہدایات پر عمل کیا جائے تو یقینی ہے کہ ایک خوش گوار اور مستحکم خاندان وجود میں آئے گا اور اس کے تمام افراد باہم شِیر و شَکر ہوکر زندگی گزاریں گے _ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین !