ہمیں سیراب رکھا ہے !


تحریر:ام ھشام،ممبئی

 

 

ایک واقعہ پڑھا ”امریکہ کے ایک سنیما ہال میں کمرشل فلم شروع ہونے سے دس منٹ پہلے ایک مختصر دورانیہ کی فلم دکھائی گئی۔فلم شروع ہوئی جس کی ابتداء میں چھت پر چلتا ہوا ایک پنکھا دکھایا گیا،اگلے نو منٹ تک ناظرین اسکرین پر بس یہی دیکھتے رہے کہ چھت پر لٹکا ہوا پنکھا آہستہ آہستہ رینگے جارہا ہے،ان کی بیزاری،اکتاہٹ عروج پر تھی کہ تبھی اچانک شارٹ فلم کا منظر بدلا اور کیمرہ دھیرے سے گھومتا ہوا پنکھے کے بالکل الٹی سمت میں حرکت کر گیا۔اب سکرین پر ایک بیڈ نظر آرہا تھا جس پر ایک شخص ساکت لیٹا ہوا چھت کے پنکھے کو خالی نظروں سے دیکھے جارہا تھا۔منظر بدلتے ہی سنیما ہال میں موجود لوگ بھی چونک گئے۔سر گوشیاں بند ہوگئیں اور نظریں سکرین پر جم گئیں۔دس منٹ ختم ہونے میں پندرہ سیکنڈ باقی تھے…….تبھی سنیما ہال میں ایک آواز گونجی…….”یہ شخص ہلنے جلنے سے قاصر ہے،جس منظر کو آپ دس منٹ نہیں دیکھ سکے اُسے یہ شخص دس سال سے مسلسل اسی طرح دیکھ رہا ہے“…….. ایک لمحے کے لئے ہر طرف خاموشی چھا گئی……..اور پھر پورا ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔“
حقیقی زندگی میں بھی جانے کتنے لوگ اپنے اپنے حصے کی اذیتیں جھیلتے ہوئے خاموش،بے زبان سے اسی طرح اپنی زندگی کے چکر گنے جارہے ہیں۔لیکن بے بس ہیں،وہ کچھ کر نہیں سکتے ان کی بے بسی ان کے اپنے اظہار بیاں سے باہر ہے۔
جن کی صحت،خوشیاں،آزادی،امنگ،حوصلہ سب کچھ بس ان کی نگاہوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔کیا ہو اگر! زندگی کے کسی ایسے چکے میں ہم بھی پِس گئے تو پھر کیسی ہوگی زندگی؟
ان کی لاچاری اور کشمکش کو وہ مجبور ضبط تحریر میں بھی نہیں لا سکتے کیونکہ ان کے ہاتھ سلامت نہیں،صبح کے دلکش نظارے،نسیم صبح کے جھونکے بھی ان کے دل و دماغ کو جنبش نہیں دلا سکتے،کیونکہ وہ عرصہ دراز سے لقوہ زدہ ہیں۔ وہ خود اٹھ کر اپنے حوائج ضروریہ سے فارغ نہیں ہو سکتے ڈائپرز کے سہارے نے انہیں بے سہارا کیا ہوا ہے۔
وہ قدرت کی صاف و شفاف ہوا سے فیضیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ انہیں ہوا میں موجود ذرات سے الرجی ہے۔کسی کے پیروں میں اب جان باقی نہیں رہی،تو کسی کا پورا جسم بے جان ہوگیا،کسی کے دماغ نے حرکت کرنی ہی بند کردی،گویا پورا جسمانی نظام درہم برہم ہے۔
کوئی ہر ہفتے اپنے خون کی تبدیلی کروارہا ہے اور کوئی ہر دو گھنٹے پر بلند فشار خون کے مسئلے سے دو چار ہے۔
کچھ لوگ اپنی باتوں سے دنیا کو گد گدانے کی خواہش رکھتے تھے لیکن زبان نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ کبھی بول ہی نہیں پائے۔
دنیا دو وقت کی روٹی کے لئے کیا کیا جتن کرتی ہے۔ کیا ہو !!!! اگر یہی اناج اور روٹی کا ٹکڑا کسی کیلئے زہر بن جائے اور کسی کو گلوٹین ایلرجی (Gluten Allergy)جیسا مرض لاحق ہوجائے،اور گیہوں کی ایک عام سی چھوٹی روٹی مریض کو موت کے منھ تک پہونچادے۔یہ بادل،دھوپ،چھاؤں ا،ہو اکی نرمی،گرمی ہم پر اللہ کی ان بڑی نعمتوں میں سے ہیں جن کی دستیابی کو ہم دائمی خود بخود امر سمجھ کر ان کو ہلکے میں لیتے ہیں۔
کس قدر مشکل امر ہے ایسے لوگوں کی تکلیف اور اندرونی جس کااندازہ کرنا کو ان قدرتی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے تو اگر آپ ایسی بیماریوں سے محفوظ ہیں تو رب کا بے انتہاء شکر ادا کیجئے!”تندرستی ہزار نعمت ہے“ہمارے جسم کا ایک ایک عضو رب کائنات کا شاہکار ہے اس لئے ہمیں خاص اپنے جسم کا خیال رکھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا: اعط کل ذی حق حقہ (ہر حقدار کو اس کا حق اداکردو)اور یہ حق تبھی ادا ہوگا جب ہم اپنے جسم کا خیال رکھیں گے۔
افسوس! ہم سب سے زیادہ حقوق خود کے غصب کرتے ہیں۔غیر معمولی طور پر اسکرین کا کثرت استعمال،سگریٹ،تمباکو،پان،
حقہ،چلم کا شوق،ضرورت سے زیادہ آرام طلبی،خوش خوری اور نیند کے نام پر فقط چند گھنٹے آنکھیں بند کرلینے جیسی عادات کی وجہ سے ہم اپنے جسم اور اس کے اعضاء و جوارح کا اس طرح خیال نہیں رکھتے جس کے وہ متقاضی ہیں۔اسی لئے نبی کریم ﷺ کا پیغام عام ہے کہ:نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس:الصحۃ و الفراغ (دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثریت غفلت کا شکار ہے: اور وہ ہیں صحت اور فراغت)
کرنے کے کام:
کبھی ائیر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکل کر نرم نرم دھوپ کا مزہ لیجئے!
سکرین سے نظریں ہٹا کر کبھی نظروں کا مرکز پیڑ،پودے اور پھول پتیوں کو بھی بنانا چاہئے اور ارد گرد کے ماحول کی طراوت کا احساس بھی کیجئے!
تازہ ہواؤں کے جھونکوں کو اپنے اندر خوشبو کی طرح سمو لیجئے!
روزانہ مرغن اور بازاری غذاؤں کی بجائے کبھی کبھار سادہ اور دیسی غذائیں بھی استعمال کر کے دیکھئے!
صبح سے شام تک نوک زباں پر شکایتوں کے انبار لانے کی بجائے خاموش رہ کر بھی دیکھ لیں۔
اور ساتھ اللہ عز و جل کی بے شمار نعمتوں کا احساس کیجئے جن سے دنیا کی ایک بڑی تعداد محروم ہے۔اللہ نے صحت و عافیت جیسی عظیم دولت عطا کی ہے تو ہمیں اس دولت کی قدر کرنی چاہئے اور اس کے بدلے اللہ کا شکر گزار بندہ بن کر اس کی دی گئی نعمتوں اور اپنی ذات کو ہلاکت و تباہی سے بچانا چاہئے کیونکہ نعمتیں شکر سے بڑھتی ہیں اور ناشکری سے ان میں کمی ہوتی ہے۔
زندگی اللہ کی بخشی ہوئی ہے تو ایمانداری کے ساتھ اس کا حق بھی ادا ہونا چاہئے،محض زبانی نہیں بلکہ اپنے ایمان و عمل کے ذریعے،دل کے یقین اور دماغ کی منصوبہ بندی کے ساتھ ہر لحظہ ہر آن اللہ کی اطاعت اور اس کی معصیت سے اجتناب ہی اصلی شکر ہے۔
تو چلئے!!! اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کچھ اس طرح کہ دل سے بغض و کینہ اور حرص و ہویٰ کے گرد و غبار کو صاف کریں۔آنکھوں کو ہر طرح کی ظلم و زیادتی اور معصیت سے دور رکھیں،لوگوں کے چشم دیدہ عیوب پر بھی پردہ ڈالیں گے۔کانوں کو ہر بری شے کے ذکر سے بچا کر رکھا جائے۔زبان کو اللہ کے ذکر و شکر ست تر رکھیں شکوے شکایات اور عیب گوئی سے باز رکھیں،مصائب و شدائد میں بھی صبر و شکیبائی کا دامن تھامے رکھنے کی کوشش کریں۔اعضاء و جوارح کو اللہ کی رضا کے کاموں پر جھکا دیں۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی صحیح تقسیم سے بڑھ کر اللہ کا شکر کس طرح ادا ہو سکتا ہے؟
اپنی تندرستی اور خوشیوں کو دنیا کے ان دکھی دلوں میں تقسیم کردیجئے ان کے کام آکر،دن بھر کی مصروفیت سے کچھ وقت نکال کر پانچ سات منٹ مریضوں کے پاس ان کی عیادت کی کوشش کیجیے۔ان کے ساتھ وقت بتا کر ا ن کاہاتھ تھام کر انہیں زندگی کی نوید کی امید دلائیے۔یقین جانیں! رب اپنے بندوں کی عیادت پر بڑا خوش ہوتا ہر،پھر یہ ضروری تو نہیں کہ خوف خدا کی خاطر آپ قبرستان کی ہی زیارت کریں۔ بیمار کے سرہانے سے بڑا مقام عبرت اور کیا ہے؟ زندگی کے باقی رہتے اپنی صحت و تندرستی کو غنیمت جان لیں،رب کے آگے بِچھ بِچھ جائیں،شکرانے ادا کریں کہ آج آپ اس دولت سے مالا مال ہیں۔
اور جن کے ہاتھوں سے یہ دولت جا چکی اور وہ کسی آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں ان کے دست و پا بن جائیے کہ اللہ کو مخلوق میں و سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس کے بندوں کے کام آتا ہو۔
اللہ کی نعمتوں کا شعور و ادراک کرنے کی زیادہ کوشش کریں یہ آپ کو خالق کی شکر گزاری پر ابھارتے ہیں اس لئے اپنے ارد گرد کی تمام نعمتوں کی قدر کریں انہیں سمجھیں اور کماحقہ اسے برتنے کی کوشش کریں۔
نوٹ: مضمون نگار:عالمہ،داعیہ اورصحافیہ بھی ہیں۔