تہذیب کے جنازے !

 

ٓاز: ڈاکٹر تبرحسین تاج
صحافی و اسکالر حیدرآباد تلنگانہ

 

 

تہذیب، ثقافت تمدن، کلچر Civilization ہرخطے کی ہرعلاقے کی اور ہر ایک انسانی گرہوکی مختلف ہے۔کہیں شادیوں پر دلہنوں کو سرخ لباس پہنایا جاتا ہے تو کہیں سفیدلباس زیب تن کیا جاتا ہے۔کہیں کسی کے احترام میں ٹوپی پہنی جاتی ہے تو کہیں ٹوپی اتاری جاتی ہے۔ہمارے ملک کے طول وعرض پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہاں کئی طرح کی تہذیب ملتی ہے۔شمالی ہند کے ہندؤں کے یہاں سگی بھانجی سے شادی کرنا پاپ ہے تو جنوبی ہند کے ہندؤں کے یہاں سگی بھانجی سے شادی رچائی جاتی ہے۔دنیا بھر میں مختلف قوموں کی مختلف تہذیب ہے۔ہم کسی بھی تہذیب کاتقابل کسی قوم یا علاقے سے کرکے اُس کی قدر کو گھٹا نہیں سکتے۔عرب میں بھی پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت پاک سے قبل لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھالیکن آپ ﷺ نے عرب میں اسلام کی دعوت دی تو لڑکیوں کے حقوق کی بات کی اور اُنھیں زندہ درگور کرنے کے عمل کو ختم کرایا۔ہندوستان میں بھی شوہر کی لاش کے ساتھ جوان بیوہ کو بھی ستی کے نام پر زندہ جلایا جاتا تھا۔لیکن اسلامی تعلیمیات سے متاثر رہے سماجی مصلح راجہ رام موہن رائے نے تہذیب کے نام پر سماج میں چلنے والی اس رسم کو ختم کرنے کی کامیاب سعی کی۔کبھی سماجی میں مزدوروں کی خرید وفروخت ہوا کرتی تھی لیکن اب یہ عمل غیر سماجی بن گیا ہے۔مہذب معاشرہ اسے پسند نہیں کرتا۔
دنیا کی تہذیب میں یکسانیت اخلاقیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔کیونکہ ہر سماج اور معاشرے میں سچ اور جھوٹ کی بنیاد پر قوانین مرتب ہوتے ہیں۔دنیا کے کئی مذاہب میں نیکی اور گناہ کا تصور ہے۔ روزمحشر جنت اور جہنم کا تصور ہے۔نیکی گناہ جنت جہنم اور روزمحشر کا تصور سے ہی معاشرے میں امن و امان،بھائی چارہ،اخوت پروان چڑھتے ہیں۔اگر یہ بنیادی تصور سماج سے ختم ہوجاتا ہے تواُس سماج میں بدعنوانی رشوت قتل اور غارت گری میں اضافہ ہوگا۔ کیونکہ انسانوں میں نفسیاتی خوف ختم ہوگا۔یہ فطری بات ہے کہ انسان عیش وآرام پسند کرتا ہے۔یہ عیش وآرام،۔نیکی گناہ جنت جہنم اور روزمحشرکو پیش نظر رکھ کر حاصل کرتا ہے تو اُس سماج میں سماج انصاف ومساوات قائم رہیں گے اگر انسان اِس خوف سے بالاتر ہوجاتا ہے تواُس سماج میں ناانصافی، عدم مساوات جنم لیتے ہیں۔
ہندوستانی سماج کی اگر ہم بات کریں تو یہاں کا ا سماج ستیم شیوم سندرم کے مثلث پر مبنی ہے۔ ستیم سچائی، شیوم شجاعت اور سندرم حُسن ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی عقائد کے ماننے والے یہاں بستے ہیں لیکن اس کے باوجود ستیم شیوم سندرم کی یہ خوبصورتی ہے کہ کثرت میں وحدت اسکی علامت ہے۔یہاں کے بسنے والے ” لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ“ کا حقیقی نمونہ ہیں۔یہاں کی کثیرالجہتی تہذیب میثاق مدینہ کا عملی نمونہ بھی ہے۔کیونکہ میثاق مدینہ دنیا کا پہلا تحریری دستور ہے۔ جس میں شہریوں کے فرائض اور حقو ق کی وضاحت کی گئی ہے۔مذہب کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہیں کی گئی ہے بلکہ تمام شہریوں کو مساوی حقو ق دیئے گئے ہیں۔

یہاں ہم اخلاقیات پر مبنی تہذیب میں کیا تبدیلیاں رونماں ہورہی ہیں اُس پر بحث کریں گے۔میں نے اس تحریر کا عنوان ”تہذیب کے جنازے“ اس لئے منتخب کیا کیونکہ آج ہمارا عمل مجھے ایسا ہی کچھ نظر آرہا ہے۔
ایک صحافی اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے سب سے پہلے میں بات ہندوستانی صحافت کی ہی کرتا ہوں۔تحریک ِ آزادی کے دوران ملک کے مجاہدین آزادی نے صحافت کو حصول آزادی کیلئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا۔اُس وقت کی صحافت آئینے کی طرح شفاف اور پاک تھی۔جو جیسا تھا وہ ویساہی نظر آتا تھا۔حالانکہ اُس وقت پر بھی برطانوی سرپرستی والے چند صحافی زرد صحات yellow Journalismکرتے رہے ہیں لیکن حقیقی صحافت ہی yellow Journalismپر حاوی رہی۔کاش اگر اُس وقت ملک کا میڈیا آج کی طرح کردار نبھاتا تو شائد آزادی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپاتا۔جمہوری نظام میں صحافت چوتھا ستون ہے۔مقننہ عاملہ عدلیہ اگر غلطی کرتی ہیں تو صحافت کے ذریعے اُسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔لیکن جب صحافت ہی مقننہ عاملہ اور عدلیہ کے ہاتھوں کا کھلونا بن جائے تو اُس ملک کی معصوم شہری اپنے حقو ق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ہر ملک کے شہری کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے فرائض اور حقوق سے باشعور رہے۔جمہوریت میں حکومتیں بنتی ہیں بدلتی ہیں۔حکومتیں عوامی اکثریت کی مرضی پر منحصر ہوتے ہیں۔جمہوریت میں راجا اور پرجا کا تصور نہیں بلکہ شہری اور اُنکے نمائندے ہوتے ہیں۔شہریوں کے نمائندے جمہور کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔جہاں برسراقتدار جماعت کچھ غلط فیصلے کرتی ہے تو وہیں اُسے اپوزیشن اُس کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔حکومتوں کے فیصلوں کے خلاف آواز بلندکرنا شہریوں کا حق ہے۔اِسے کونسا بھی مذہب سماج ملک کے خلاف غداری تصور نہیں کرتا۔لیکن آج ملک میں جوصحافت ہے جسے مین اسٹریم میڈیا کا نام دیا جارہا ہے۔وہ کیا کام کررہا ہے۔گزشتہ چند برسوں کی رپورٹنگ پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میڈیا منظم انداز سے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بناکر سماج میں اُس کے خلاف زہر اُگلنے کی مذموم کوشش کررہا ہے۔غیر مصدقہ خبروں کے نشر واشاعت سے سماج میں اضطرابی کیفیت پیدا کررہا ہے۔صحافت کی یہ گراوٹ کیا صحافتی تہذیب کا جنازہ نہیں ہے؟ٹی آر پی اور اپنے مفاد کے خاطر ہندوستانی یکجہتی کی تہذیب کوتارتار کیا جارہا ہے۔پیار اور محبت کی روشنی کو نفرت اور بغض کے تاریکی کی نذر کیا جارہا ہے۔لیکن یادرکھو یہ تاریکی کے بادل صرف وقتیہ ہیں ایک دن یہ بادل چھٹ جائیں گے تاریکی ختم ہوگی نور پھیلے گا اور ہرسمت اجالا ہوگا۔کیونکہ ایک سچا ہندوستانی تمام مذاہب کا دل وجان سے احترام کرتا ہے۔محمد کے دین اور مرلی کے بین پر چلنے والامسجد کی اذاؤں کا بھی احترام کرتا ہے مندر کے گھنٹوں کی صداؤں کابھی احترام کرتا ہے۔
آٹا اور تیل مہنگا ہوگیا ہے مگر ملک میں ڈاٹا سستا ہے۔آنے والا کل آج سے زیادہ ڈاٹا پر منحصر ہوگا۔ہمیں اس ڈاٹا اسٹوریج سے نفرت کینہ بغض، جھوٹ فریب، دھوکہ لالچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ کل کی نسل انسانی خون کی پیاسی ہوجائیگی۔وہ اچھے اور برے میں تمیز نہیں کرپائیگی۔آج سے دس برس قبل تاریخ کی جو کتابیں دستیاب تھیں اور آج اُن کتابوں کو دیمک کھا جارہی ہے۔آج جو نفرت پر مبنی تاریخ مشق کی جارہی ہے کل وہ ہی مصدقہ تاریخ کے طور پر ہمیں ڈاٹا اسٹوریج سے دستیاب ہوگی۔وہی ثبوت اور شواہد بن جائیگی۔
ہم چاہتے ہوئے بھی کل کچھ کرنہیں پائیں گے۔لہذا اب بھی وقت ہے ہمیں ڈاٹاکا استعمال ایک اچھے مستقبل کے تعمیر کے لئے کریں۔آج ہم سماجی رابطے کی سائٹس پر پرائیوسی کولیکر کافی فکر مند ہیں۔ لیکن یاد رکھو آنے والا زمانہ اتنا اڈوانس اتنا قابل ہونگا کہ اپنے اسلاف کی جانب سے استعمال کرتا ڈاٹا کو دیکھ سکے گا۔بلکہ اُس کے سامنے پر چیز اُجاگر ہوجائیگی۔ کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے۔نیکی کر دریا میں ڈال کی طرح۔ ہمارا ہر عمل سماجی رابطے سے جڑا ہوا ہے۔ہر چیز سماجی رابطے سے منسلک ہوگئی ہے۔آج جو ہمارے لئے پوشیدہ ہے کل والوں کیلئے وہ عیاں ہوجائیگی۔محشر میں کیا حشر ہوگا یہ تو ہر مذہب میں اعمال کی بنیاد پر عیاں کیا گیا ہے۔ لیکن آنے والی نسل کے سامنے ہمارا شمارکیسا ہوگااسکے لئے ہمیں آج ہی سے سنورنا ہوگاورنہ آج ہم جوکام پوشیدہ کررہے ہیں یہی کام ہمارے اپنے ہماری مثال دیکر سرعام کریں گے۔ رشتوں کی عظمت اہمیت اور وجود خطرے میں رہیگا۔کیا یہ ہماری تہذیب کا اُٹھتا ہوا جنازہ نہیں ہے۔؟

پہلے ہمارے اسکولی نصاب اخلاقیات پر مبنی ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج بدل گئے ہیں۔پہلے ہمیں سچ بولنے کی تعلیم دی جاتی تھی۔ آج کے بچوں کو بچپن سے ہی جھوٹی نظم سکھائی جارہی ہے۔ ہمارے گھروں میں بڑے شوق سے بچے پڑھ رہے ہیں اور ہم اِسے سن کر قبول بھی کررہے ہیں۔ مثلاً جانی جانی ایس پپا، ایٹنگ شوگر نو پپا، یہاں بچہ منہ میں شکر کھا کر اپنے والد سے جھوٹ بولتا ہوا دکھائی دے گا۔یہ کونسا سبق ہے جو ہم اپنی نسل کو دے رہے ہیں۔پہلے دکنی نظم اللہ اللہ نہیوں دے نہیوں دے کھیتوں میں گہیوں دے گہیوں دے یہ ایک دعائیہ نظم تھی۔لیکن اب اسکول میں بچے رین رین گو اوے، کم اگین انیدر ڈے پڑھ رہے ہیں۔یعنی سوچ بدل گئی ہے۔
کونسا بھی مذہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔ ہر مذہب ایک دوسرے کے احترام کا درس دیتا ہے۔ لیکن آج مذہب کے نام پر جنونی آدم خور بن گئے ہیں۔ایک دوسرے کے تئیں رواداری ختم ہورہی ہے۔تہذیب کے بٹوارے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن اِن نادانوں کو نہیں معلوم کہ تہذیب کا بٹوارہ نہیں ہوتا ہے۔چند مفاد پرست لوگ بھی اپنی لالچ کے خاطر اسکو پروان چڑھارہے ہیں۔معصوم چیتاؤں پر سیاسی روٹیاں سیکھی جارہی ہیں۔میں پوچھتا ہوں کیا یہ تہذیب کا جنازہ نہیں ہے۔؟
دنیا میں وہ کون باپ ہے جو اپنی اولاد کو قاتل بنا چاہتا ہے۔؟کوئی باپ بھی نہیں چاہتا ہے۔ لیکن انجانے میں وہ اپنی نسل کو قاتل بناے کی سمت جارہا ہے۔کیونکہ آج کا عقلمند انسان رشوت کی کمائی سے اپنی اولاد کو اخلاقیات کی تعلیم دینا چاہتا ہے۔رشوت سے بنائے گئے گھر اور رشوت سے خریدی گئی روشنی میں رحمت کی تمنا کرتا ہے۔کیا یہ تہذیب کا جنازہ نہیں ہے۔کیونکہ آج ناجائز طریقے سے خوشیاں حاصل کرنے والا جائز طریقے سے منزل پانے والے کی راہ میں روکاوٹ بن رہا ہے۔کیا اس بات کی کو ئی بھی مہذب سماج اجازت دیتا ہے۔؟ نہیں تو پھر یہ تہذیب جنازہ ہے۔۔۔۔اب بھی وقت ہے جاگو ورنہ ۔۔۔۔