سیمانچل کے پسماندہ علاقہ کشن گنج میں کورونا و کووڈ ٹیکہ کاری بیداری مہم اور مفت میڈیکل کیمپ

جالیس نصیری کی رپورٹ 

 

 

کشن گنج_یکم مارچ ( اردولیکس)کورونا وائرس وبا کے اس دور میں تعلیم، صحت اور سماجی بیداری پر کام کرنے والی تنظیم نصیریہ فاؤنڈیشن نے بہار کے ضلع کشن گنج کے انتہائی پسماندہ علاقہ کے ایک قصبہ پناسی میں اتوار کے روز غریبوں کے علاج کے لیے ایک عظیم میڈیکل کیمپ منعقد کیا۔ اس کیمپ میں کورونا وائرس سے متعلق حفاظتی تدابیر سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور ٹیکہ کاری سے متعلق بیداری مہم چلائی گئی جہاں سینکڑوں غریب لوگوں کے امراض کی تشخیص بھی ہوئی اور مفت دوائیں اور جانچ فراہم کی گئیں اور ماسک تقسیم کیے گئے۔
میڈیکل کیمپ میں کئی ہسپتالوں نے بھی اپنی طبی ٹیموں کے ذریعہ خدمات فراہم کیں جن میں سلی گوڑی (مغربی بنگال) کے شانتی نرسنگ ہوم اور اسلام پور (مغربی بنگال) کے رایل میڈیکل ہال کا نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
جن طبی طبی ماہرین نے میڈیکل کیمپ میں شرکت کی ان میں اہم نام ڈاکر شفیع رضوی (نیورو سرجن) ڈاکٹر آصف سعید (ایم بی بی ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر محمد اختر رضا (ایم بی بی ایس، ایم ایس)، ڈاکٹر گوپال کمار جھا (ایم بی بی ایس، جنرل فزیشئن)، ڈاکٹر محمد اصغر عالم (ایم بی بی ایس، جنرل فزیشیئن)، ڈاکٹر ناظم اختر (آنکھوں کے امراض کے ماہر)، اور ڈاکٹر راقب پرویز (بچوں کے امراض کے ماہر) اور خود کیمپ کے نگراں ڈاکٹر صہیب اختر (ایم بی بی ایس، ایم ایس، ایم سی ایچ) کے نام قابل ذکر ہیں۔
ڈاکٹر صہیب اختر نے کیمپ کے اغراض مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “ہمارا مقصد ایسے غریب مریضوں کو تشخیص اور علاج فراہم کرانا ہے جن کو عموما میڈیکل سہولت دستیاب نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “یہ علاقہ ایسا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات موجود نہیں ہیں اسی لیے تقریبا سبھی بنیادوی چیک اپس کا کیمپ میں انتظام کیا گیا ہے۔
اس کیمپ میں کافی تعداد میں ایسے مریض بھی آئے ہیں جو کبھی ڈاکٹر کے پاس گئے ہی نہیں۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو کئی مریضوں نے کہا کہ علاج میں ہونے والے خرچ کا بار وہ نہیں اٹھاسکتے۔
ہر سال ہونے والے اس فری کیمپ میں بہت سارے ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جن کی اس کیمپ پر ذیابیطس یا بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کی تشخیص ہوتی ہے۔
اس میڈیکل کیمپ کا انعقاد سلی گوڑی کے معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر صہیب اختر کی نگرانی میں ہوا جس میں کئی ہسپتالوں سے مختلف مریض کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں اور فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے اپنی رضاکارانہ خدمات فراہم کیں۔
فاؤنڈیشن کے اہم رکن نے کہا کہ “کشن گنج ضلع بہار سیمانچل کا وہ علاقہ ہے جہاں لوگوں کے لیے اب تک صاف پانی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ آج بھی لوگ کنواں اور ٹیوب ویل کا پانی پی کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بھی لوگ کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔”
نصیریہ فاؤنڈیشن مختلف جگہوں پر میڈیکل کیمپ لگاتا ہے جہاں غریب مریضوں کا مفت میں علاج کیا جاتا ہے۔ قصبہ پناسی کے مدرسہ گراؤنڈ میں یہ کیمپ گزشتہ 5 سالوں سے ہرسال لگتا ہے جہاں سینکڑوں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔
نصیریہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے کہا کہ “صوبہ بہار کے اس علاقے میں ایسے میڈیکل کیمپوں کی اس لیے بھی ضرورت ہے کیوں کہ کشن گنج ضلع کا یہ علاقہ بے حد پسماندہ ہے جہاں ایک بھی ایسا سرکاری ہسپتال یا کلینک نہیں ہے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔”
انہوں نے کہا “اس پسماندہ علاقے کے کئی غریب لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بیماریوں کا علاج کئے بنا ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کے قریبی لوگوں کو موت کی وجہ کا پتہ ہی نہیں چل پاتا۔”
کورونا وائرس (کووڈ19- ) پر بیداری مہم
گزشتہ ایک سال سے پوری دنیا کورونا وائرس کے وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ عام لوگوں میں کورونا وائرس کے بارے میں کئی قسم کی افواہیں بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ نصیریہ فاؤنڈیشن کے سکریٹری مفتی ذوالفقار احمد اشرفی نے کہا کہ “کسی بھی چیز کی معلومات افواہوں سے نہیں بلکہ قابل اعتماد وسائل سے حاصل کی جانی چاہیے۔ کورونا وبا کے بارے میں بھی افواہوں پر دھیان نہ دے کر اس کے ماہرین کی رائے پر ہی عمل کرنا چاہیے۔ اس کے لئے نصیریہ فاؤنڈیشن نے گزشتہ پورے سال میں پمفلیٹ، چھوٹے چھوٹے ورکشاپ اور آن لائن طریقے سے لوگوں کے بیچ صحیح معلومات پہنچانے کا کام کیا ہے۔”
کورونا ٹیکہ کاری پر بیداری مہم
جس طرح کورونا کے بارے میں کئی قسم کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں اسی طرح کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی افواہوں کا بازار گرم ہے۔ نصیریہ فاؤنڈیشن نے اس بارے میں مختلف ڈاکٹروں، فارماسیوٹیکل سائنٹسٹوں اور دوسرے ماہرین سے رابطہ کرکے اس پر کافی معلومات حاصل کی ہے۔ فاؤنڈیشن کا ہمیشہ یا ماننا رہا ہے کہ معلومات کا ذریعہ افواہ نہیں بلکہ صحیح مواد کا مطالعہ اور ماہرین سے صلاح مشورہ ہونا چاہیے۔
اس میڈیکل کیمپ میں جہاں کورونا وبا کے بارے میں معلومات فراہم کیا اور اس سے تحفظ کے لئے اس کی احتیاطی تدبیروں کے بارے میں لوگوں کو بتایا گیا وہیں اس کی ٹیکہ کاری کی حفاظت کے بارے میں بھی لوگوں کے درمیان بیداری لانے کی کوشش کی۔
کیمپ کے نگراں ڈاکٹر صہیب اختر نے ٹیکہ کاری سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ ٹیکہ کاری سے متعلق ہمیشہ کوئی نہ کوئی افواہ رہتا ہے۔ ان افواہوں پر دھیان نہیں دیں اور اپنی باری آنے پر ٹیکہ ضرور لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ “اس سے نہ صرف آپ اپنی بلکہ اپنی کمیونیٹی کی بہتر صحت کے لیے مددگار ہوں گے۔
نصیریہ فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے اپنی تحریری بیان میں کہا کہ “اس سے پہلے بھی کئی قسم کے ویکسینیشن کے بارے میں لوگ افواہوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جیسے پولیو کی ٹیکہ کاری سے متعلق لوگ ہمیشہ افواہوں کا شکار رہے، لیکن ہمارے ملک میں اس پولیو کے خلاف مہم کی وجہ سے اس پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔ ایسی افواہیں کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی پھیلی ہوئی ہیں جس کے بارے میں لوگوں کے درمیان بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ آج کے میڈیکل کیمپ میں ہم اس بارے میں بیداری لانے کا بھی کام کیا جائے گا۔”
نصیریہ فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جو ایجوکیشن، ہیلتھ، اور سماجی بیداری پر کئی سالوں سے کام کرتا آیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تحت مسجد، مدرسہ، خانقاہ کے علاوہ این سی پی یو ایل کے بھی کئی تعلیمی و ٹریننگ کورسیس چلائے جاتے ہیں اور گزشتہ7 – 8 سالوں میں سینکڑوں غریب سٹوڈینس کو کمپیوٹر لٹریٹ بنانے کا کام کیا ہے۔