نئے IT ضوابط نجی معاملات کی پاسداری اور اظہار رائے کی آزادی کے لئے خطرہ: ایس آئی او

 

حال ہی میں سوشل میڈیا، ڈیجیٹل خبروں اور OTT مواد کے لیے وضع کئے گئے انفارمیشن ٹکنالوجی (انٹرمیڈیری تنظیموں کے لیے اصول اور ڈیجیٹل میڈیا ضابطہ اخلاق) اصول 2021 نے کئی طرح کے سوالات پیدا کردیے ہیں.

ان اصولوں کے تحت ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 180 دنوں تک افراد کا ڈیٹا محفوظ رکھنا ہوگا، جو کہ پہلے کی طئے شدہ مدت سے دوگنی ہے- ظاہراً اس کا استعمال تفتیشی مقاصد کے لئے ہوگا۔ قانون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صارف کے اکاؤنٹ حذف کرنے کے بعد بھی ڈیٹا کو محفوظ کرنا ہوگا۔ نئے ضوابط حکومت اور عدالتوں کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ بتانے کے لیے مجبور کریں کہ فلاں مواد کس نے تخلیق کیا ہے۔

ملک میں ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور عوام کی نگرانی (surveillance) سے متعلق اصول و ضوابط کی عدم موجودگی کے سبب ریاستی مشینری ان احکامات کہ استعمال لوگوں کے نجی معاملات میں دخل اندازی اور ظلم و زیادتی کے لیے کر سکتی ہے۔ ‘ انفارمیشن ٹکنالوجی ڈکرپشن کے اصولوں ‘ کے ساتھ مل کر یہ ضوابط حکومت کو end-to-end encryption کو توڑکر یہ جاننے میں مدد فراہم کریں گے کہ کون سے پیغامات کس نے بھیجے ہیں. یہ احکامات encryption کو یقینی بنانے کے لیے لاگو موجودہ پروٹوکول کے لیے بھی خطرہ ہیں، جو گزشتہ برسوں میں سخت سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔

یہ قوانین ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نگرانی اور رازداری سے متعلق اس کے موقف پر متعدد قانونی چارہ جوئی حکومت کو چیلنج کررہی ہیں۔ ڈیجیٹل خبروں، OTT کے مواد اور اس طرح کے دیگر پلیٹ فارم پر حکومت کے دن بہ دن بڑھتے بہت زیادہ کٹرول پر ماہرین کے درمیان غور و فکر اور وسیع پیمانے پر صلاح و مشورہ کی ضرورت ہے.

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) اس نئے آئی ٹی انٹرمیڈیریز اصولوں کی مخالفت کرتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ ضوابط ہمیں وسیع پیمانے پر ریاستی نگرانی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر ان اصولوں پر از سرِ نو غور کرے اور اس سلسلے میں صلاح مشورہ اور غور و خوض کا آغاز کرے۔ ہم سماجی تنظیموں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ ڈیجیٹل رازداری اور اظہار رائے کی آزادی کو موضوع بحث بنائیں۔