مہاراشٹر کے مسلم آٹو ڈرائیور کو تلنگانہ میں نامعلوم افراد نے دیا زبردستی کورونا ٹیکہ !

نظام آباد _ 3 مارچ ( اردولیکس) مہاراشٹر کے ایک مسلم آٹو ڈرائیور کو تلنگانہ میں نامعلوم افراد نے سڑک پر ہی کورونا کا ٹیکہ دے دیا جس کے بعد آٹو ڈرائیور کے ایک ہاتھ اور ایک پیر حرکت کرنا بند کردیئے۔واقعہ کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔ مہاراشٹر کے دھرم آباد تعلقہ کے سریجکوڈ گاؤں سے تعلق رکھنے والا سید سرور ، 24 فروری کو نظام آباد ضلع کے رنجیل منڈل کے ساٹا پور گاؤں میں چکن سنٹر  پر مرغی فروخت کرنے کے بعد  میں واپس ہوگیا۔اس دوران کنداکورتی  علاقے میں جو مہاراشٹر اور تلنگانہ کا بارڈر ہے کے ایک پل پر میڈیکل اسٹاف کے ڈریس میں چار افراد کھڑے تھے اور انھوں نے سرور کے آٹو کو روک دیا ۔اور ان چاروں نے سرور کو کورونا ویکسین لینے پر مجبور کیا اور زبردستی دائیں ہاتھ کو ویکسین لگا دی ۔ اسی دوران دیگر گاڑیاں گزر رہی تھی اس کے فوری بعد میڈیکل اسٹاف وہاں سے دو گاڑیوں میں نکل گئے۔ ٹیکہ دینے کے بعد سرور کو تھوڑی محسوس ہوئی   اور کسی طرح اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔  گھر جانے کے بعد ایک  ہاتھ اور پیر  کام نہیں کرنے لگے۔۔ سرور نے سارا واقعہ گھر والوں کو بتایا اور گھر والوں نے دھرم آباد پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی ۔اور سرور کو علاج کے لئے دھرم آباد کے خانگی  اسپتال میں شریک کردیا گیا ۔ دھرم آباد پولیس نے 27 فروری کو کندکورتی گاؤں پہنچ کر واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کیا۔ کندکورتی  ہیلت  سنٹر میں سرپنچ  کی موجودگی میں تفصیلات اکٹھی کی گئیں۔ تفتیش میں پتہ چلا کہ 24  فروری کو ہیلت سنٹر پر موجود عملہ نے   کسی کو بھی ویکسین نہیں لگائی تھی۔ دھرم آباد پولیس نے کہا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں گے۔