حکومت کی مخالفت کرنا غداری نہیں : فاروق عبداللہ کے کیس میں سپریم کورٹ کا تاثر

نئی دہلی _ 3 مارچ ( اردولیکس) سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی مخالفت کرنا اور حکومت کی پالیسیوں  کے بارے میں مختلف طریقوں سے اظہار خیال کرنا غداری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح کے ایک کیس میں سپریم کورٹ  نے سابق چیف منسٹر جموں وکشمیر ، رکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔واضح رہے کہ اگست 2019 میں مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کی مخالفت کرنے والے فاروق عبد اللہ نے حکومت پر سخت تنقید کی تھی ۔ جس پر ایک شخص نے فاروق عبداللہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں درخواست گزار نے الزام لگایا تھا کہ فاروق عبداللہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کے لئے چین اور پاکستان کی مدد سے غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں ان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرنے حکومت کو ہدایت دی جائے۔سپریم کورٹ نے آج اس درخواست کی سماعت کی اور فیصلہ دیا ہے کہ حکومت کے خلاف بیان دینا یا  فیصلہ کی مخالفت کرنا غداری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے درخواست گزار  کی درخواست کو خارج کردیا کیونکہ شکایت کنندہ فاروق عبداللہ پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار پر 50  ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کی