”اغیار بی اے ہو گئے ۔۔۔۔۔۔”

 

از : ڈاکٹر تبریز حسین تاج
اسکالر و صحافی حیدرآباد

اردو ادب میں افسانوی تحریریوں کی بھی ایک اپنی منفرداہمیت رہی ہے۔آج کی میری یہ تحریر افسانوی ضرورہے لیکن حقیقت کے بھی کچھ قریب ہے۔ایک چھوٹے سے گاؤں کی یہ کہانی ہے۔جہاں کے اسکول میں امیرزادوں کے ساتھ گاؤں کے غریب بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب تعلیم میں خانگی اور سرکاری کا امتیاز نہیں ہوا کرتا تھا۔گاؤں کے ایک سرکاری اسکول میں ہی تمام خاندانوں کے بچے پڑھتے تھے۔کیا امیر کیا غریب سب کے سب ایک صف میں کھڑے ہوکر صبح کے دعائیہ اجتماع میں سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا کے بشمول اللہ سبحان وتعالیٰ کی حمد وثنا یوں بیاں کرتے تھے کہ ”تعریف اُس خدا کی جس نے جہاں بنایا۔کیسی زمین بنائی کیا آسماں بنایا۔مٹی سے بیل بوٹے کیا خوش نماں اگائے۔وغیرہ گایا کرتے تھے۔آج کی طرح اُس وقت مڈڈے میل اسکولوں میں نہیں ملتا تھا۔ بچے اپنے گھروں سے ہی توشہ لایا کرتے تھے۔جب اسکول میں وقفہ طعام ہوا کرتا تھا تو اسکول کے آس پاس رہنے والے بچے اپنے اپنے گھروں کو ظہرانے کے لئے جاتے تھے جبکہ دور دراز سے آنے والے بچے اپنے ساتھ لائے ہوئے توشے کو سب کے ساتھ مل بانٹ کر کھایا کرتے تھے۔اسی اسکول میں چودھری عرفان کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اور اُن کے گھر میں جاڑوبرتن کرنے والی خادمہ نورماں کے بچے بھی پڑھتے تھے۔چودھری عرفان انسانیت نواز تھے وہ اپنے اور خادمہ کے بچوں میں کبھی امتیاز نہیں کرتے تھے۔ بلکہ سب کے ساتھ خوش اخلاق اور محبت سے پیش آتے تھے۔لیکن چودھری عرفان کی اہلیہ نصرین کا رویہ اسکے برعکس تھا۔ وہ اپنے ہی بچوں کو زیادہ لارڈ پیار کرتی تھی۔جب کبھی اسکول سے اُن کے گھراُس کے بچوں کے ہمراہ خادمہ نورماں کے بچے آتے تو وہ شدید برہم ہوجاتی اور خادمہ کے بچوں کو طرح طرح کے طعنے دیتی۔اپنی مالکن کے طعنے سُن کر بھی خادمہ نورماں کچھ نہیں کہتی وہ بے چاری مجبور اور لاچار تھی۔ کیونکہ اُسے یہ ڈر اور خوف تھاکہ کہیں اُسکی نوکری چلی گئی تو وہ بے یارو مددگار ہوجائیگی۔ اُسکے بچوں کو دو وقت کا کھانا نہیں ملے گا۔
اسکول کی کیفیت کچھ الگ ہی تھی۔ چودھری عرفان کے بچے وقار اور افتخارماں کے لارڈ پیار کی وجہ تعلیم پر توجہ نہیں دیتے تھے۔جبکہ خادمہ نور ماں کے بچے ایاض اور ریاض سخت محنت کرتے ہوئے جماعت میں ہرمضمون میں بہتر مظاہرہ کیا کرتے تھے۔حالانکہ ایاض اور ریاض کے پاس نصابی کتب بھی نہیں رہتے تھے لیکن اس کے باوجود یہ بچے لائبریری میں رکھی گئی کتابوں سے استعفادہ حاصل کرتے تھے۔
ہر روز کی طرح دن کا نیاسورج صبح کو اپنی سنہری روشنی سے زمانے کو منور کررہا تھا۔پرندے چہچہاتے ہوئے رزق کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔صحن میں باندھی گئی گائے بھینسوں سے دودھ نکالہ جارہا تھا۔ خادمہ نورماں صحن کی صفائی کے بعد پھولوں کے پودوں کو پانی ڈال رہی تھی۔ حویلی کے چوبترے پر بیٹھی نصرین خادمہ سے کہے رہی تھی کہ” اری وہ کیوں اپنے بچوں کو اسکول بھیج رہی ہو ہوش سنبھالا ہے کام پر لگوا دو کچھ پیسہ ویسہ کمالیں گے۔پڑھائی بہت مہنگی ہوتی ہے تم نہیں پڑھا پاؤگی۔“ خادمہ نورماں کہتی ہے مالکن ہم بھوکے رہیں گے لیکن اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں گے۔ہم اپنے بچوں کو بی اے کرائیں کلکٹر بنائیں گے۔

محنت مزدوری کرنے والی نورماں ہمیشہ اپنے بچوں سے یہی کہا کرتی تھی کہ بیٹا آج ہم غریب ہیں لیکن کل ہم غریب نہیں رہیں گے۔ بیٹاہمارے گھر غریبی کی تاریکی تعلیم کے اجالے سے دور ہوگی۔وہ اپنے بچوں سے کہتی تھی کہ بیٹا تعلیم سے ہی تمھیں عزت شہرت اور رتبہ ملے۔ لیکن بیٹا آپ یہ سب کچھ ملنے کے بعد بھی اپنی اصلی حیثیت اور غریبی کو کبھی بھولنا نہیں۔ماں کی نصیحت پر بچے اچھی طرح عمل کرتے رہے۔ خوب لگن اور محنت سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔
ادھر دوسری جانب چودھری عرفان علیل ہوگئے تھے۔بچوں پر وہ خاص نگرانی نہیں کرپارہے تھے۔ بچوں کی ذمہ داری نصرین پر ہی تھی۔ مغرور نصرین کے پاس جب اسکول کے اساتذہ تعلیم کے تئیں وقار اور افتخار کی عدم دلچسپی کی شکایت لے جاتے تو وہ اساتذہ پر ہی برہم ہوجاتی تھی۔ اپنے بچوں کو ڈانٹنے کے بجائے اُن کی ہمت افزائی کرتی تھی۔ماں کے اس لارڈ وپیار کی وجہ سے یہ دونوں تعلیم پر پوری طرح توجہ تو نہیں دے رہے تھے لیکن غیر سماجی عادتوں کا شکار ہوتے جارہے تھے۔
جب میٹرک بورڈ کا امتحان آیا تو ایاض اور ریاض نے ضلع سطح پر امتیازی کامیابی حاصل کی جبکہ وقار اور افتخار کا نام کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کی فہرست میں نہیں تھا۔نصرین کو اپنے بچوں کی ناکامی پر کوئی غم نہیں تھا اُس کا کہنا تھا کہ اُس کے پاس دولت ہے کھیتی ہے اُس کے بچے اور اُنکی نسلیں بیٹھ کرکھائیں گی۔میٹرک ناکام ہونے کے بعد وقار اور افتخار کی عادتیں اور بگڑتی گئیں۔ سگریٹ شراب جوے کے عادی ہوتے گئے۔ عرفان بھی کمزور ہوگیا تھا۔طویل علالت کے بعد وہ اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چلا گیا۔نصرین نے جائیداد کو دونوں بیٹوں میں برابر تقسیم کیا۔اپنے لئے حصے میں کچھ نہیں رکھا۔ چند برسوں تک سب کچھ تو حسب معمول چل رہا تھا۔
اُدھر دوسری جانب میٹرک کی کامیابی کے بعد بھی سخت محنت کرتے ہوئے کامیابیوں کے سلسلے کو ایاض اور ریاض نے جاری رکھا تھا۔ دونوں بھائیوں نے شہر جاکریونیورسٹی کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ تعلیم کے ساتھ اپنے خرچے کیلئے جزوقتی کام بھی کیا کرتے تھے۔اپنا خرچ نکال کرچند پیسے اپنی ماں کو بھیجا کرتے تھے۔دونوں بھائیوں نے یونیورسٹی میں بی اے کامیاب کرکے گاؤں لوٹا۔ گاؤں میں اِن دونوں کوتہنیت پیش کی گئی۔تب نصرین نے طعنہ دیتے ہوئے یوں کہا سنو اغیار بی اے ہوگئے۔
اِدھر وقار اور افتخار پوری طرح بگڑگئے تھے۔نصرین کو جس دولت اور کھیتی پر گھمنڈ تھا۔ وہ ایک ایک کرکے اُسے فروخت کررہے تھے۔ چند برس بعد ہی اسلاف کی ساری دولت ختم ہوگئی تھی۔نصرین اب ضعیف ہوگئی تھی۔اُسے اپنے آپ پر اب شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔ اُسکے پاس اُسکے بچے نہیں تھی۔ حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ اُسے ایک ایک نولے کیلئے پڑوسیوں کے رحم وکرم کا محتاج ہونا پڑا تھا۔حویلی میں بے بس پڑی نصرین کی نظر اُس کی جانب آرہی ایک خاتون پر پڑی۔ وہ کچھ لیکر اُس کے پاس آئی تھی۔اُس کے ساتھ دو خوبصورت جوان لڑکے تھے۔نصرین نے قریب آنے پر اُسے پہچان لیا ارے تو نورماں ۔۔ ہاں میں نورماں آپکی خدمت کیلئے حاضر ہوئی ہوں۔نورماں نے اپنے بچوں سے اشاروں میں کہا کہ مالکن کی تعظیم کریں بچے سرخم کیے ہوئے آداب بجالاتے ہیں۔خادمہ نورماں کہتی ہے کہ مالکن اِس حویلی کو میرے بیٹوں نے خریدا ہے۔ لیکن آپ گھبرائیں مت آپ جب تک رہیں گی آپ کا اچھا خیال کرتے ہوئے آپ کو اس حویلی کی مالکن کی طرح ہی رکھیں گے۔ماں کے حکم پر ایاض اور ریاض نے ویسا ہی کیا جیسا نور ماں نے کہا
اغیار بی اے ہوگئے وغیروغیرہ کے طعنے دینے والی نصرین کو اپنے لہجے کردار اور انداز کافی افسوس ہوا لیکن تب تک اُس کا سب کچھ اُجڑ گیا تھا۔
اس تحریر کا حاصل نتیجہ یہی ہے کہ ہم کسی کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ وقت کبھی بھی بدل سکتا ہے۔ جو آج جیسا ہے وہ کل ویسا نہیں رہے سکتا۔لہذا ہمیں دولت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ اپنے بچوں کو اچھے اخلاق دینا چاہئے حد سے زیادہ پیار بھی اولاد کی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ نوٹ: اس تحریر میں تمام نام فرضی ہیں۔اگر نام اتفاقی طورپر کسی سے ملتے ہیں تو راقم معذرت خواہ ہے۔۔۔
جئے ہند۔۔۔