ایک خاص ثقافتی روایت کی طرف جھکاؤ تکثیری معاشرہ کے لئے نقصان دہ: صدر ایس آئی او


نئی دہلی _ 4 مارچ ( اردولیکس) محمد سلمان احمدصدر تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او)نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ شرمناک بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک بھر میں عوامی تعلیمی نظام تباہ ہورہا ہے اور طلباء تعلیم میں پیچھے ہوتے جارہے ہیں، حکومت نصاب کو زعفرانی رنگ دینے کے اپنے ایجنڈے میں مصروف ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او ایس) میں وید، یوگا، سنسکرت، رامائن اور بھگود گیتا سمیت 15 کورسز ‘بھارتیہ گیان پرمپرا’ کے نام سے متعارف کیے گئے ہیں۔ یہ ‘ہندوستانی’ ادب اور تاریخ کے یک رخی نظریے کی طرفداری کرتا ہے۔ یہ نصاب ملک میں آباد اقوام کی اقدار اور اخلاقی روایات کی کثیرالجہت یکجہتی کے خلاف ہے، جس سے ہندوستانی معاشرے کی ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہے۔ ہندوستانی علم کی نمائندگی کرنے کے لئے کسی بھی ثقافتی روایت کی طرف ترجیحی تعصب ہمارے آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔دوسری طرف حکومت عمومی طور پر بچوں کو تعلیم کی فراہمی کی اپنی ذمہ داری سے غفلت برت رہی ہے، جیسا کہ اس سال کے تعلیمی بجٹ میں بھاری کٹوتی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اسکول اور والدین دونوں ہی کوویڈ 19 کے بحران کی وجہ سے بچوں کو سیکھنے کے مواقع کی فراہمی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں،  حکومت کو نصاب میں بے جا مداخلت کی بجائے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر اور تعلیمی امداد فراہم کرنے کو ترجیح دینی چاہئے۔