مدراس یونی ورسٹی میں “اردو میں انشا پردازی: روایت، مسائل اور امکانات”‘ پر دو روزہ قومی سیمینار


شعبہئ عربی،فارسی و اردو مدراس یونی ورسٹی کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو، نئی دہلی کے مالی تعاون سے پلاٹنم جوبلی آڈیٹوریم میں دوروزہ قومی اردو سمینار منعقد ہوا جس میں ہندوستان بھر سے تقریباً 30 مندوبین شریک رہے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹرایس گوری، وائس چانسلر مدراس یونی ورسٹی نے کی۔پروفیسر قاضی حبیب احمد،صدر شعبہ عربی، فارسی و اردو، مدراس یونی ورسٹی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔  پروفیسر مظفر علی شہ میری، وائس چانسلر، ڈاکٹر عبد الحق اردو یونی ورسٹی، کرنول نے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں اردو میں انشا پردازی کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مستحکم روایت تمل ناڈو میں موجود ہے اور اس پر ایک مستقل علاحدہ مذاکرہ کی ضرورت ہے۔ پروفیسر نسیم الدین فریس،صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز انڈولوجی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی وسٹی، حیدرآباد نے اپنے کلیدی خطبہ میں اردو میں انشاپردازی کی روایت کا جائزہ لیا۔ تقریب کا آغازحافظ محمدابرار متعلم شعبہ اردو کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ شعبہ کے ریسرچ اسکالر جناب مولوی اسجد نے ’ترانہ جامعہ مدراس‘  سناکر جلسے میں ایک سماں باندھ دیا۔ جلسے کی نظامت کے فرائض سیمینار کے ڈائرکٹر،ڈاکٹر امان اللہ نے انجام دیے اور محترمہ عائشہ صدیقہ ریسرچ اسکالر شعبہ اردو نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔اس اجلاس میں ڈاکٹر ایم بی امان اللہ کی کتاب ”گنجینہئ حکمت“ تمل کلاسیکی شہ کار ”تروکرل“ کے منظوم ترجمہ کی رسم رونمائی بدست ڈاکٹر گوری،وائس چانسلر مدراس یونی ورسٹی عمل میں آئی جس کی پہلی کاپی جنا ب پروفیسر مظفر علی شہ میری وائس چانسلر ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیو رسٹی نے حاصل کی۔اسی اجلاس میں مدراس یونی ورسٹی کے وائس چانسلر نے جناب حسن فیاضؔ، علیم صبا نویدی، شاہد مدراسی، محمد حنیف کاتبؔ، ڈاکٹر امتیاز احمد، ڈاکٹر پروین ؔ فاطمہ،اکبرؔ زاہد،اسانغنی مشتاق رفیقی،عثمان غنی، ڈاکٹر صبا مصطفےٰ، کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز پیش کیا اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔افتتاحی اجلاس کے بعد مقالات کے پہلے سیشن کا آغاز ہوا۔ پروفیسرفاطمہ پروین، سابق صدر، شعبہ اردو،کوئن میریس کالج، مدراس نے اس نشست کی صدارت کی جس میں ڈاکٹرمحمد امین اللہ، صدر شعبہ اردو، ایس وی یونی ورسٹی تروپتی نے ’مہدی افادی کی انشا پردازی:مضمون ’اردو لٹریچر کے عناصرِ خمسہ‘ کی روشنی میں‘، ڈاکٹر ایم سعید الدین، اسلامیہ کالج، وانم باڑی نے ’ڈاکتر جلال عرفان کی انشاپردازی“، جناب محمد جعفر، مظہر العلوم کالج آمبور نے ”ڈاکٹر قاضی حبیب احمد:بحیثیت انشاپرداز، ڈاکٹر نکہت ناز، صدر شعبہ اردو، کوئن میریس کالج، چنئی نے ’پطرس کے مضامین میں انشاپردازی: ایک جائزہ‘ پروفیسر سید نیاز احمد جمالی، پرنسپل، جمالیہ عربی کالج، چنئی نے ’مدارسِ عربیہ میں انشاپردازی کی روایت: تمل ناڈو کے عربی مدارس کے حوالے سے“ اور ڈاکٹر محمد طیب علی، صدر شعبہ اردو، نیو کالج چنئی نے ’ڈاکٹر عابد معز کی اردو انشا پردازی‘ کے حوالے سے اپنے مقالے پیش کئے۔ سیمینار کے دوسرے دن دوسری نشست کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت پروفیسر نسیم الدین فریس،صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز انڈولوجی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی وسٹی، حیدرآباد نے کی۔ اس نشست میں آن لائن اور آف لائن دونوں صورتوں میں ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مقالے سنے گئے۔ پہلی مرتبہ یہ تجربہ کیا گیا کہ ایک مقالہ آن لائن جب پڑھاگیا تو اس کو پروجیکٹر کے ذریعہ جلسہ گاہ میں موجود سامعین بغیر کسی خلل کے سنتے رہے اور اسی طرح دوسرا مقالہ جو آف لائن جلسہ گاہ میں پڑھا گیا اسے آن لائن میں جڑے شرکا نے بخوبی سماعت کی اور ایک خوشگوار ماحول بنا رہا۔ اس نشست میں پہلا مقالہ ”ڈاکٹر وحید کوثر کی انشاپردازی: بزم آئینہ کے اداریے کے حوالے سے“ ڈاکٹر شاہجہاں بیگم، لیکچرار، ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیو رسٹی کرنول، ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری، گورنمٹ ڈگری کالج، رائی چوٹی نے ”حیدرآباد دکن کے ایک مایہ ناز انشا پرداز: علامہ اعجاز فرخ‘ اورڈاکٹر کے ایچ کلیم اللہ، پرنسپل، مظہر العلوم کالج آمبور نے ”اردو میں انشا پردازی کی روایت: ایک جائزہ“،محترمہ تزئین جمال، مرودھر کیسری جین کالج وانمباڑی نے’مولوی یعقوب اسلم عمری بحیثیت انشاپرداز“  محترمہ عائشہ صدیقہ، ریسر اسکالر، شعبہ عربی فارسی و اردو مدراس یونی رسٹی نے ”خطیب قادر باشاہ: ایک منفرد انشا پرداز“ آن لائن سے جناب مسرت حمزہ لون ، رحمت آباد  رفیع آباد  بارہمولہ کشمیرنے ”مولانا ابوالکلام آزاد بحیثیت انشا پرداز“  محترمہ نادرہ بیگم، شعبہ اردو، اسلامیہ ویمنس کالج، وانم باڑی نے ”ارشید احمد صدیقی کی انشاپردازی: مختصر جائزہ“، محترمہ انیسہ، محترمہ فوزیہ حبیب ا سلامیہ ویمنس کالج، وانم باڑی نے”اکبر زاہد کے افسانوں میں انشاپردازی“ پر اپنے مقالے پیش کیے۔  تیسری نشست کی صدارت ڈاکٹر  ڈاکٹر حیات افتخار، سابق صدر شعبہ اردو، قائد ملت کالج مدراس نے کی اوراس سیشن میں ڈاکٹر محمد نثار احمد، شعبہ اردو، شری وینکٹیشورا یونیو رسٹی، تروپتی، آندھرا پردیش نے ’ڈاکٹر محی الدین قادری زور بحیثیت انشاپرداز: فن انشاپردازی کے حوالے سے‘ محمد منیر الدین عمری، جامعہ دارالسلام عمرآباد نے ’مولانا حبیب الرحمن زاہد اعظمی کی انشاپردازی‘، جناب نذیر احمد، آمبور نے ”مولانا حفیظ الرحمن اعظمی اور ان کی انشاپردازی‘  جناب غیاث احمد، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، نیو کالج، چنئی نے ”ڈاکٹر وزیر آغا اور انور سدید کے انشائیوں میں جمالیات کا عنصر‘ ڈاکٹر مسعودہ تسکین، شعبہ اردو، قائد ملت کالج، میڈواکم نے ”علامہ شاکر نائطی کی انشاپردازی‘  ڈاکٹر ایس محمد یاسر، عبد الحکیم کالج، میل وشارم نے ’اردو میں انشاپردازی‘کے حوالے سے اپنے مقالے پیش کئے۔ چوتھی نشست کی صدار ت ڈاکٹر کے ایچ کلیم اللہ، پرنسپل، مظہر العلوم کالج آمبور نے کی جس میں ڈاکٹرمحمد مدثر، جمال محمد کالج، ترچنا پلی نے ”علامہ غضنفر حسین شاکر نائطی بحیثیت انشاپرداز‘،آن لائن سے جناب ساجد حسین ندوی، شعبہ اردو، نیو کالج،نے’عبد الماجد دریابادی کی انشا پردازی‘،نازیہ، ریسرچ اسکالر  مدراس یونیو رسٹی  نے ”ڈاکٹر فرزانہ فراح کی انشاپردازی: طنز و مزاح کے حوالے سے“ جناب نور اللہ نے  ’مہدی افادی کی انشاپردازی: خطوط کے حوالے سے‘  جناب تمیم احمد، ریسرچ اسکالر، کویمپو یونی ورسٹی، شیموگہ کرناٹک نے ”ڈاکٹر بشیر الحق قریشی کی انشاپردازی“ کے عنوان پر اپنے گرانقدر مقالے پیش کئے۔سمینارکے پہلے دن شام کے 4  تا 6بجے  ایک’شامِ غزل‘ کا انعقاد ہواجس کی صدارت جناب علیم صبا نویدی نے کی جبکہ پروفیسر نسیم الدین فریس،صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز انڈولوجی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی وسٹی، حیدرآباد، جناب حسن فیاضؔ اور ڈاکٹرمحمد نعیم الرحمن، وائس چیرمین تمل ناڈو اسٹیٹ اردو اکیڈمی بطور مہمانان اعزازی  شریک رہے۔ اس محفل میں شاہد مدراسی، ڈاکٹر امان محمدی، محمد حنیف کاتب، امتیاز احمد امتیازیؔ، ڈاکٹر پروین ؔ فاطمہ،اکبرؔ زاہد،اسانغنی مشتاق رفیقی،  مدراسی نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرہ کا آغاز نعت شریف سے ہوا جب کہ اس کی نظامت کے فرائض جناب شاہد ؔمدراسی نے انجام دئے۔اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر قاضی حبیب احمد نے کی اوراس اجلاس میں اپنے خصوصی خطاب میں دو روزہ قومی سمینارمیں پیش کئے گئے مقالوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ ایک نئے اور اہم موضوع پر گفتگو کا آغاز ہوگیا ہے اور اب اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مقالہ نگاروں کو مقالے سیمینار میں پڑھنے سے پہلے اس کے تلفظ کی اصلاح کرلینا چاہیے، ایک دو مرتبہ ریہرسل بھی کرلینا چاہیے تاکہ صحیح تلفظ کے ساتھ اغلاط سے پرہیز کرتے ہوئے سامعین کو سناسکے۔ اس اجلاس میں جناب پروفیسر نسیم الدین فریس،صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز انڈولوجی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی وسٹی، حیدرآباد نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیمینار کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سیمینار کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کی اور مقالہ نگاروں کو اسناد بھی تقسیم کئے۔ سیمینار ڈائرکٹر جناب ڈاکٹر امان للہ ایم بی نے مقالہ نگاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ان مقالات کو یکجاکرکے  اور مزید ماہرین ادب سے مضامین لکھواکر بہت جلد انہیں کتابی شکل دے دی جائے گی تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں اس سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔یہ دوروزہ قومی سمینار نہایت ہی کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔