چیف جسٹس آف انڈیا، مجرمین کو سزا سنائیں _ ان کا تحفظ نہ کریں

از: ڈاکٹر تبریز حسین تاج
صحافی واسکالر حیدرآباد

 

محترم چیف جسٹس آف انڈیا کے نام میرا پیام
یہ خبرہے کہ ہندوستان کی عدالتِ عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس، جسٹس شرد بوبڈے نے عصمت ریزی کے ملزم کو متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے پر جیل کی سزا نہ دینے کی عجیب وغریب تجویز دی ہے۔میڈیاکے مختلف گوشوں میں آئی اطلاعات کے مطابق یہ تجویز اُنہوں دو دن قبل ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم کو ایک لڑکی کی عصمت ریزی کے کیس میں دی تھی کہ اگر وہ متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے رضامند ہوتاہے تو ایسی صورت میں اُسے جیل بھی نہیں ہوگی اور ملازمت بھی بچ جائے گی۔ایک ذمہ دار ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے مجھے آپنے آئین کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ اس پر میں اپنی رائے رکھوں۔کیونکہ میرے ملک کا دستور آرٹیکل 19کی روح سے مجھے آزادنہ طورپر اپنے خیالات کے اظہار کاموقع فراہم کرتا ہے۔یہی میرے اِ س جمہوری ملک کی خوبصورتی اور اِس کاحُسن ہے۔محترم عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا میں آپ کی اِس رائے سے ہرگز اتفاق نہیں کرسکتاہوں کہ زانی کی مثاثرہ سے شادی کرائی جائے۔میرا یہی موقف ہے کہ عصمت ریزی کے مجرمین کو جرم ثابت ہونے پرانھیں سرعام سزائی دی جانی چاہئے۔محترم عزت مآب چیف جسٹس صاحب آپ سے میرا یہ استفسارہے کہ آپکی اس تجویز سے سماج میں کیا پیام جائیگا۔کیا ہم عصمت ریزی سے پاک سماج بناپائیں گے۔ کیا ہماری بیٹیاں محفوظ رہیں گی۔کیونکہ آپ کی تجویز سے بدماشوں کے حوصلے بلند ہونگے۔وہ اِس اُمید پر کسی بھی لڑکی کی عصمت کو تار تار کریگا کہ اُس سے شادی پر اُسے سزا نہیں ملے گی۔میں تمام اُن تمام خواتین اور رضاکار تنظیموں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے آپ سے غیر ذمہ دارانہ تجویز واپس لینے یاپھر عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
محترم ، جسٹس شرد بوبڈے صاحب آپ چیف جسٹس آف انڈیا کے جلیل القدر عہدے پر فائز ہیں۔ ہندوستان کے ایک سو بیس کروڑ لوگوں کو آپ سے انصاف کی قوی اُمید ہے۔کیونکہ دستورہند کے مطابق شہریوں کے بینادی حقوق کے تحفظ کیلئے آپ کی چھوکٹ ہی آخری منزل ہے۔ہمار کامل یقین ہے کہ آپ انصاف دیں گے۔یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس با وقار عہدے پر فائز فرد کا قول وفعل قوم کے لئے انصاف کی ترجمانی کی علامت ہوتا ہے۔اس عہدے پر آپ جو بھی تاثر پیش کریں گے وہ اپنی ایک مسلمہ حیثیت رکھتا ہے۔
ہر سماج میں شادی دو بالغ افراد کے بیچ رضامندی کا نام ہے۔ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت دونوں کا ایک دوسرے کیلئے قبول کرنا ہی شادی ہے۔اِس میں سے کوئی بھی ایک اگر ایک دوسرے کو قبول نہیں کرتا یاکرتی ہے۔وہ شادی نہیں تسلیم کی جائیگی۔قبول نہ کرنے والے فرد پر کی جانے والے جبر کا نام ہی عصمت ریزی ہے۔عصمت ریزی کے بعد جس لڑکی کے خواب چکناچور ہوگئے۔ سماج میں رسوائی ہوئی کیا وہ مثاثرہ لڑکی اپنی مرضی کے بغیر جبرکرنے والے کے ساتھ شادی رچاکر خوش رہے سکتی ہے۔کیا آپ نے تجویز دینے سے قبل مثاثرہ لڑکی کی رائے لی تھی۔کیا اُس نے اس بدماش کے ساتھ شادی کرنے سے راضی ہوگئی تھی۔
محترم چیف جسٹس صاحب آپ بھی یہ جانتے ہیں کہ ملک کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔وہ اپنی بہن بیٹیوں کی عزت و عصمت لوٹنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ ہم نے نربھیا کے معاملے میں پوری قوم کو ایک دیکھا ہے۔اگر کوئی بھی کسی معصوم لڑکی کی عصمت کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے تو اُسے پھانسی پر لٹکانا چاہئے تاکہ دوسرا ایسی حرکت کرنے سے قبل اپنے انجام کے بارے میں سوچ کر کانپ اُٹھے۔لیکن تیز گام انصاف کے نام پر ہمیں ملزم کو فوری طور مجرم بھی قربارنہیں دینا چاہئے بلکہ اس طرح کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے ملزم کو بھی آئین کے مطابق فراہم کردہ آزادانہ قانونی لڑائی کا موقع دینا چاہئے۔ تاکہ جذبات میں انصاف کا قتل بھی نہ ہوسکے۔کیونکہ بعض اوقات
جھوٹے الزامات لگا کر بھی کسی معصوم شخص کو پھانسایا جاسکتا ہے۔آپ ملک کے اس جلیل القدر عہدے پر فائز ہیں۔آپ کو یہ سب کچھ معلوم ہے۔کیونکہ ملک میں انجام دیئے جانے والے اس نوعیت کے تقریباًمعاملے آپ کے اجلاس کے روبرو پیش کیے جاتے ہیں۔ میرے اِس کھلے مکتوب میں بس یہی آپ سے التماس ہے کہ آپ مجرم ثابت ہونے پر اُنھیں سزا ئیں سنائیں۔ملزمین کا تحفظ مت کریں۔ اگرعدالتوں سے ملزمین کو تحفظ ملنا شروع ہوجائیگا تو ہر کوئی عصمت ریزی کرکے گرفتاری سے بچنے اورتحفظ کیلئے عدالتوں سے رجوع ہوگاتو پھر انصاف کہاں ملے گا۔میڈیا میں آپکی تجویز کی خبر پڑھنے کے بعد ایک بٹیاکا باپ ہونے کے ناطے میں فکر مند ہوگیا ہوں کہ مستقبل میں اس تجویز کا سماج میں کیا اثرپڑیگا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا ہوں کہ آپ یہ تجویز کس تناظر میں د ی ہے لیکن میرا تو بس یہی ماننا ہے کہ جوبھی تناظر میں آپ نے تجویز دی ہو وہ ملک میں خواتین کے تحفظ کے حق میں نہیں ہے۔برائے کرم اس ملک میں خواتین کی عظمت وعفت کی حفاظت کیلئے ایسی تجویز کو واپس لیں۔۔۔
ٓٓآپ کا مخلص ایک ہندوستانی شہری جئے ہند جئے جئے ہند