شادی کی تقریبات میں کوئی چیزـ’’ اسلامی ‘‘رہ ہی نہیں گئی ہے

تحریر :حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

 

مذہب اسلام میں نکاح کو عبادت قرار دیا گیا ہے، نکاح سنت ہے اور تمام انبیائے کرام نے اس سنت کو عبادت کی طرح اپنایا!۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ عبادت اصلیہ کلمہ، نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ جیسی اہم عبادات میں گواہی کی ضرورت نہیں رکھی گئی ہے۔ نمازیں ادا کرتے ہیں کہیں گواہ کی ضرورت نہیں؟لاکھوں لاکھ رقم خرچ کرکے حج ادا کرتے ہیں کسی گواہ کی ضرورت نہیں؟ لاکھوں کروڑوں کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کسی گواہ کی ضرورت نہیں؟پر نکاح ایسی عبادت اور سنت ہے کہ گواہوں کے بغیر نکاح ہی درست اور صحیح نہیں ہوگا۔ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے مجلسِ عقد میں کم ازکم دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا موجود رہنا ضروری ہے، یہ صرف سنت ہی نہیں بلکہ ضروری ہے،فقہ کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
حدیث پاک میں ہے:
*لا نکاح اِلا بشہود* ۔
یعنی گواہوں کے بغیر نکاح درست نہیں،پس جو نکاح گواہوں کے بغیر ہوا وہ فاسد ہے،(فتح القدیر/النکاح199/زکریا3,)
دوسری حدیث پاک میں اس طرح ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فر ما یا: ’’ کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کاحکم نہ معلوم کرلیا جائے۔‘‘ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اس(کنواری) کی اجازت کی کیا صورت ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فر ما یا کہ اس کی خاموشی اجازت ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کنواری لڑکی سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس نے نکاح کیا۔ لیکن کسی شخص حیلہ کرکے دو جھوٹے گواہ کھڑے کردیئے کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے اس کی مرضی سے اور قاضی نے بھی اس کے نکاح کا فیصلہ کردیا۔ حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے کہ گو اہی جھوٹی تھی اس کے باوجود اس لڑکی سے صحبت کرنے میں اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے بلکہ نکاح صحیح ہوگا۔(صحیح بخاری،حدیث:6968,)
*مقاصد نکاح اور اس کے فوئد:*
’’ایجاب و قبول‘‘ کے مخصوص الفاظ کے ذریعہ مرد و عورت کے درمیان ایک خاص قسم کا دائمی تعلق اور رشتہ قائم کرنا نِکاح کہلاتا ہے، جو دو گوا ہوں کی موجود گی میں ایجاب ( مقررہ طریقے کے مطابق عورت کا مرد سے خود یا بذریعہ وکیل اقرارِ زوجیت قبول کرنا،اختیار کرنا) وقبول کے صرف دو لفظوں کی ادائیگی سے منعقد ہوجاتا ہے۔ (1) نِکاح میں خطبہ،(2) ایجاب و قبول،(3) کم سے کم دو گواہ(4)اور مہر ضروری چیزیں ہیں۔ ایجاب و قبول کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔ اصل میں یہ دونوں فرض ہیں،(1) گواہ،( 2 ) ایجاب و قبول۔ باقی مستحب و مسنون ہیں،اس کے سوا نکاح ہو جائے گا، ہاں خلاف سنت ہو گا۔ اسلام نے” نکاح “شادی کو بہت ہی آسان بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کو عبادت کا درجہ دیا، تمام مذاہب میں اس کو حلال قرار دیا،قر آن مجید نے نکاح کو عظیم ترین نعمت اور اس کے فوائد بیان فر مائے۔
تر جمہ: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمھارے ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ اُ ن سے آرام پائو اور تمھارے آپس میں محبت رکھی بے شک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کر نے والوں کے لیے۔ (القر آن،سورہ روم30: آیت21, کنز الایمان)
یعنی نوع انسانی کے لیے نکاح ایسی عظیم ترین نعمت ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کو خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کو سکون کی زندگی حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی نشانی اور نعمت قرار دیا ہے۔ نکاح کو اللہ تعالیٰ نے عبادت کا درجہ دیا اور نکاح کے بہت فضائل وفوائد قرآن میں بیان فر مائے،21, جگہوں سے زیادہ نکاح کے مسائل مختلف طرح سے موجود ہیں،احادیث طیبہ کے ذخیرہ میں کثرت سے فضائل موجود ہیں،تفصیل کے لیے اسلامی کتب بہار شریعت،قانونِ شریعت وغیرہ کا مطالعہ فر مائیں۔
*شاد ی “نکاح” کوئی کھیل ،تماشہ یا تفریح نہیں؟:*
پیارے اسلامی بھائی اوربہنوں نکاح اسلام کا ایک مقدس متبرک رُکن ہے!۔اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا،افسوس صد افسوس آج مسلمانوں نے خود ہی اسے مُشکل بنالیا ہے(دوچار کو چھوڑ کر الاماشا اللہ) بے پناہ فضول خر چی، نام و نمود، دکھاوا،تماشہ،ناچ گانا،بینڈ باجا،نمائش،ریا کاری ان گنت ناجائز وحرام رسمیں، مانجھا، ساچق،کنگنابندھائی ، ہلدی،بارات،باراتی گھوڑے،دولہا پر روپیے بے تحاشہ لٹانا،والد والدہ یہانتک خواتین بہنوں کا بھی خوب خوب روپیوں کا لٹانا اپنی جھوٹی شان اور بر تری دکھانا ، جہیز طے کر کے پہلے لے لینا،نقدی لے لینا ،ولیکن حق مہر نقد نہ ادا کرنا اُدھار رکھدینا انتہائی دیدہ دلیری اور بے شر می کی بات ہے وغیرہ وغیرہ۔
*کلیجہ پھٹتا ہے لڑکی کو مہر دینے میں اور نکاح پڑھائی دینے :*
جبکہ دونوں ہی معاملے پہلے سے طے کر لینے میں کوئی شرعی قباحت نہیں،لڑکی بھی حقِ مہر پہلے طے کرسکتی ہے،قاضی بھی نکاح پڑھائی پہلے طے کرسکتا ہے۔حالاتِ حاضرہ کو دیکھتے ہوئے،لڑکیوں اور قاضیوں کوبھی ہوشیار ہوجانا بہتر ہوگا!۔
ابھی 2جنوری اور4جنوری کو دو سگے بھائیوں کے نکاح پڑھانے میں مجھے صرف اور صرف100₹, روپیے ملے، جبکہ دونوں باراتیوں میں کم ازکم محتاط اندازے کے مطابق 9سے8ہزار روپیے دولہوں پر لٹائے گئے استغفراللہ استغفراللہ۔ کیا تفصیل لکھوں شرم آتی ہے اور افسوس تو ہے ہی اللہ مسلمانوں کو سمجھ عطا فر مائے آمین۔ مسلمانوں کے بگڑ تے ماحول اسلام سے دوری،بے حسی اتنی بڑھ گئی ہے کہ خوف اس بات کا ہے کہ کہیں نکاح ہی پڑھانا بند نہ کردیں؟ نوجوانوں نے تو کورٹ،court Marriage, کی راہ نکال ہی لی ہے۔کورٹ میرج ایک ایسی شادی کو کہتے ہیں جس میں لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کرتی ہے۔( جبکہ اسلام میں کورٹ میرج کرنا ناجائز ہے ؟) کورٹ میرج کیا نکل گئے موج مستی کرنے ہنی مون منانے ہفتوں بعد لوٹے تو آکر نکاح پڑھانے کی یاد آتی ہے،حرام کاری،گناہ سے بچیں اس لیے ایسے نکاح جلد پڑھا دیے جاتے ہیں الامان والحفیظ۔
؎ جل رہا ہے آشیاں الا مان والحفیظ ٭ لٹ چکا ہے کارواں الا مان و الحفیظ
ہجر تیری سختیاں الا مان و الحفیظ ٭ وصل تیری مستیاں الا مان و الحفیظ
یہ زمانہ یہ جہاں کس روش پہ چل پڑا ٭ ٹھرے عیب خو بیاں الا مان و الحفیظ شکیل احمدؔ
*حقِ مہر ادا کرنا ضروری ہے، اُدھار کا چلن عام انتہائی شرمناک!:*
جہاں شادیوں میں فضول خرافات ورسم نے جگہ بنالی ہے، جن کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیںہے۔ وہیں نکاح کی اہم اور ضروری چیز رکن مہر کو بھی قریب قریب پس پشت(لا پر واہی، پر واہ نہ کرنا) ڈالدیا ہے، اُدھار کا چلن عام ہو گیا ہے،جو کہ انتہائی شرمناک اور افسوس ناک ہے۔ شادی کے لوازمات میرج ہال کا کرایہ ایڈوانس، باورچی کی مزدوری ایڈوانسں اور نقد سجائی کی رقم نقد وغیرہ وغیرہ مہر کی رقم اُدھار واہ رے مسلمان جو ضروری ہے وہ اُدھار؟۔ جبکہ حقِ مہر ادا کرکے فائدہ اُٹھانا باعث برکت ہے۔اُدھاری بر کت کہاں سے لائے گی،حرام و ناجائز رسموں پر بے دریغ خرچ کرنا اور بر کت کی اُمید رکھنا عبث اور فضول ہے،مہر کی رقم شوہر کو جلد سے جلد اداکرنا بہت ضروری ہے جو باعث برکت ہوتی ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ نے مہر کے بارے میں تفصیل سے کلام فر مایا ہے:’’ نکاح کے وقت ہی مہر ادا کر دی جائے یہ بھی درست ہے، والد کے توسط سے بیٹی(دُلہن) کو پہنچا دی جائے،براہ راست بیوی کو دینا زیادہ بہتر ہے، اور دینے کے وقت صاف صاف ایک دوسرے کو بتلا دیا جائے تاکہ بعد میں نزع واختلاف سے تحفظ رہے یہ عمدہ بات ہے‘‘(حجۃ البالغہ،ج:2,،ص:118,) مہر بوجھ سمجھ کر نہیں دینا چاہیے بلکہ عورت کا شرعی حق سمجھ کر دینا اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی نیت سے خوشی خوشی دینا چاہیے جیسا کہ رب تعالیٰ کا حکم ہے۔
تر جمہ : اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ خوش دلی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے پاکیزہ،خوشگوار (سمجھ) کر کھائو۔
مہر کی مستحق عورتیں ہیں نہ کہ ان کے سر پرست نہ ہی شوہر، لہذا اگر سر پرستوں نے مہر وصول کر لیا ہو تو انہیں لازم ہے کہ وہ مہر اس کی مستحق عورت کو پہنچادیں۔اسی طرح شوہر پر لازم ہے کہ اگر مہر نہ دیاہو تو جلد سے جلد عورت کو مہر اداکردے۔
*جہیز کی لعنت سے چھٹکارا صرف نوجوان مسلمان لڑکے ہی دلاسکتے ہیں:*
مہر نہ دینا،جہیز مانگنا یہ سب سماج کا ناسور بن گیا ہے،نہ جانے کتنی بچیاں بوڑھی ہوگئیں لیکن جہیز کے لالچیوں نے کچھ نہ سوچا نہ ہی خدا کا خوف کیا۔کتنی معصوم بچیاں جہیز کے چلتے جلائی جارہی ہیں،کتنی خود کشی کر رہی ہیں تازہ واقعہ گجرات کا ہے23ْْْ/ سال کی عائشہ جس کی شادی تین سال قبل عارف نام کے ایک لالچی لڑکے سے ہوئی،یہ بھکاری ہمیشہ عائشہ کے ماں باپ سے رقم کا مطالبہ کر تا رہتا اور جہیز کی خاطر عائشہ کو اذیت Torture, دیتے رہتا تھا،وہ بے چاری اس عذاب کو برداشت نہ کرسکی اور اسنے اپنے ماں باپ سے بات کی ویڈیو بنایا اور کہا میں سابر متی ندی میں کودنے جارہی ہوں ماں باپ نے بہت سمجھا یا اس کو بہت روکنے کی کوشش کی مگر وہ زندہ رہنے کو تیار نہیں تھی اور سابر متی ندی میں کود کر جان دے دی۔سابر متی کی لہروں کو جھنجھوڑ دیا اور ان گنت ماں باپ ودردمند دل والوں کو رُلادیا۔ عائشہ کے مرنے سے پہلے اس کی بات چیت کوجو ویڈیو وائرل ہوا اس کی وجہ اب ہر طرف عائشہ عائشہ کی موت کا تذکرہ ہورہا ہے۔
*جہیز کی لعنت کا خاتمہ نوجوان کریں!*
جہیز جیسے لاینحل مسئلے کو نہ ہی سماجی تنظیمیں اور نہ ہی علما ء حضرات حل کرسکتے ہیں۔ اس وقت ضرورت ہے کہ مسلم نوجوان اُٹھیں اور ایسی تنظیمیں بنائیں جو شادی میں جہیز نہ لینے کی قسم کھائیں اور ایسے لڑکوں کا بائیکاٹ کریں جو لڑ کی والوں سے جہیز کا مطالبہ کریں اور علماء وسماج کے ذمہ دار لوگ بھی ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں۔ کاش کہ لوگ قورمہ،بریانی کھانے کے بجائے ایسی شادیوں کو بائیکاٹ کرتے؟ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فر مائے آمین ثم آمین: 09279996221,
hhmhashim786@gmail.com,