بھینسہ میں مستقبل میں فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے بڑے پیمانے پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے: وزیر داخلہ


حیدرآباد _ 8 مارچ ( پریس ریلیز) وزیر داخلہ محمد محمودعلی نے  کہا کہ بھینسہ میں کل رات پیش آیا واقعہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے آج ضلع ، نرمل کے کلکٹر ،ضلع ایس پی اور ڈی سی پی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے وہاں کے حالات سے آگاہی حاصل کی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بھینسہ کے حالات پر قابو پالیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھینسہ میں کل رات دو موٹر سیکل سواروں کے درمیان رسہ کشی ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے معمولی سا واقع فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرگیا۔اس تشدد میں چند لوگ زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیاگیا ہے۔علاوہ ازیں مالی نقصان بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔بھینسہ شہر ایک حساس شہر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔یہاں پر ماضی قریب میں بھی فساد برپا کیا گیا تھا۔ انہوں نے موجودہ حالات بتاتے ہوئے کہا کہ بھینسہ شہر میں فی الوقت دفعہ144 لگایا گیا ہے اور تمام دکانوں کو بند کر وایا گیا ہے تاکہ بھینسہ شہر پر پوری طرح قابوپایا جاسکے۔بھینسہ میں امن برقرار رکھنے لے لیے بڑی تعداد میں پولیس دستہ کا بندوبست کیا گیا ہے۔محمد محمود علی نے کہا کہ یہاں پر وقتاََفوقتاََ فرقہ وارانہ فسادات رونما ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے بھینسہ کے عوام کو پریشانی ہورہی ہے۔اسی لیے بھینسہ میں عنقریب بڑی تعدادمیں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، تاکہ وہاں پر پیش آنے والے واقعات کو ریکارڈ کرتے ہوئےمسائل کو فوراً حل کیا جاسکے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ بھینسہ شہر میں امن و امان کو برقرار رکھیں، بھائی چارہ کو پروان چڑھائیں اور ہر قسم کے فساد، جھگڑے اورتشدد پھیلانے سے باز آئیں۔انہوں نے تیقن دیا ہے کہ پولیس تحقیقات کے بعدخاطیوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی ۔