مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ _ کرنل پروہت کے گھر سے ضبط کی گئی سی ڈی کے متعلق سرکاری گواہ نے عدالت میں گواہی دی


ممبئی 8 / مارچ ( پریس ریلیز)مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی سماعت روز بہ روز کی بنیاد پر ممبئی سٹی سول اینڈ سیشن عدالت میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت میں جاری ہے، آج اس معاملے میں قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے گواہ نمبر 167 کو عدالت میں گواہی کے لیئے پیش کیا۔ دورا ن گواہی عدالت میں گواہ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ سال 2008 میں انسداد دہشت گرد دستہ ATS نے اسے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں گرفتار ملزم کرنل پروہت کے گھر کی تلاشی کے لیئے بطور پنچ بننے کی گذارش کی تھی جسے اس نے قبول کرلیا تھا۔
خصوصی این آئی اے جج پی آر سٹرے کو خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سرکاری گواہ نے بتایا کہ پونے میں واقع کرنل پروہت کے گھر کی تلاشی کے دوران انہیں دو سی ڈی ملی تھی جسے پولس نے اس کی موجودگی میں ملزم کے گھر سے ضبط کیا تھا اور اس کی موجودگی میں ہی دونوں سی ڈی کو سیل کیا گیا تھا جس کے بعد پولس نے پنچ نامہ تیار کیا تھا جس پراس نے اور ایک دیگر پنچ نے دستخظ کیئے تھے، سرکاری گواہ نے بتایا کہ پنچ نامہ پر گھر میں موجود کرنل پروہت کی بہن نے بھی دستخط کیا تھا۔دوران گواہی آج وعدالت میں پنچ گواہ نے دونوں سی ڈی کی شناخت کی اور پنچ نامہ پر موجود اس کی دستخط کی بھی تصدیق کی۔
آج عدالتی کارروائی اس وقت کچھ دیر کے لیئے تھم گئی جب دو سی ڈی میں سے ایک سی ڈی کی سیل کھلی ہوئی تھی جس پر عدالت نے اعتراض کیا کہ ایک سی ڈی کی سیل کیسے کھلی ہوئی ہے؟، عدالت کو سرکاری وکیل نے بتایاکہ مداخلت کی درخواست پر ہائی کورٹ نے سی ڈی کی سیل کھولی تھی جس پر خصوصی جج نے عدالت میں موجود ایڈوکیٹ شاہد ندیم سے دریافت کیا۔ ایڈوکیٹ شاہدندیم نے عدالت کو بتایا کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت کی ضمانت عرضداشت پر بحث کے دوران بم دھماکہ متاثرین کی درخواست پر ہائی کورٹ نے سی ڈی کو طلب کیا تھا اور اس کی سیل کھولی گئی تھی جس کے بعد سے ایک سی ڈی کی سیل کھلی ہوئی جس کا ذکر عدالتی ریکارڈ پر موجود ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) کی جانب سے بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شاہدندیم کی یقین دہانی کے بعد عدالت نے سرکاری گواہ کے بیان کا اندراج کیا۔واضح رہے کہ استغاثہ کا دعوی ہیکہ متذکرہ دونوں سی ڈی میں ملزم کرنل پروہت و دیگر ملزمین کے درمیان ہونے والی بم دھماکوں کی سازشی میٹنگ کا ذکر ہے۔
سرکاری گواہ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے اختتام کے بعد سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے وکیل جے پی مشرا نے گواہ نمبر 167 سے جرح کی اور اس پر الزام عائد کیا کہ آج وہ اے ٹی ایس کے دباؤ میں عدالت میں جھوٹی گواہی دے رہا ہے نیز اس نے پولس اسٹیشن میں بیٹھ کر پہلے سے تیار شدہ پنچ نامہ پر دستخط کیا تھا۔ دفاعی وکیل نے سرکاری گواہ پر مزید الزام عائد کیا کہ وہ پولس کے ہمراہ کرنل پروہت کے گھر گیا ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس کی موجودگی میں پولس نے کرنل پروہت کے گھر سے سی ڈی بر آمد کی تھی۔
آج گواہ استغاثہ سے دفاع کی جرح نا مکمل رہی کیونکہ کرنل پروہت نے اس کے وکیل کی غیر موجودگی کی وجہ سے عدالت سے وقت طلب کیا جسے عدالت نے منظور کرلیا۔