سماجی برائیوں اور نکاح کے سلسلے میں پائی جانے والی ناہمواریوں کے خلاف جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت

نئی دہلی، 9مارچ (پریس ریلیز) : اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کی نگرانی میں مورخہ 7؍مارچ بروز اتوار صبح دس بجے زوم پر ایک آن لائن مشورتی نشست منعقد ہوئی ، آغاز میں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ) نےکہاکہ یہ میٹنگ نکاح کو سادہ اور آسان بنانے اورنکاح کے سلسلے میں پائی جانے والی خرابیوں اور برائیوں اور جہیز کے جبری لین دین کو مٹانے کے سلسلے میں غور وخوض کرنے کی غرض سے منعقد کی گئی ہے تاکہ شادی بیاہ کی غلط رسومات کو ختم کیا جاسکے اور اسلامی شریعت کے صاف شفاف نظام کو معاشرہ میں نافذ کیاجاسکے ،انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بے دینی اور بے عملی کی وجہ سے بڑے نقصان سامنے آرہے ہیں جن رسوم ورواج کو مٹانے کے لئے رسول اللہ صلعم تشریف لائے تھے مسلمانوں نے ان رسوم ورواج کو دوبارہ اپنے اوپر لاد لیاہے ،احمدآباد کی عائشہ نامی خاتون کی خودکشی کے واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ہوئے موصوف نے کہاکہ علماء کرام،ائمہ مساجد اور معاشرہ کے سرکردہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کےلئےوہ اصلاحی کوششوں کا حصہ بنیں،مولانا محترم نے نکاح کو سادہ اور آسان بنانے کے لئے پورے صوبہ میں دس روزہ مہم چلانے کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں شرکاء میٹنگ سے تجاویزطلب کی ، میٹنگ میں شریک تمام ہی حضرات نے اس تجویز کی تائید کی اور اپنی جانب سے بھی مختلف تجاویز پیش کیں۔
حضرت مولانا عبدالحمید ازہری صاحب نےاپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اس وقت ملک کے حالات انتہائی نازک ہیں اس لئے تمام ہی علماء کرام ، ائمہ مساجد اور سرکردہ افراد کو اپنی اپنی جگہ اصلاحی کوششوں کو تیز کردینا چاہئے ، حضرت مولانامحمد ادریس عقیل ملی قاسمی صاحب نے دس روزہ مہم کی تائید کرتے ہوئے اسےوقت کی ضرورت قرار دیا، مولاناعبد القوی فلاحی صاحب نے کارنر میٹنگوں کے انعقاد کا مشورہ دیا،جناب عبدالرءوف شیخ صاحب (ریٹائرڈ کمشنر ناگپور)نے اس پر زور دیا کہ دس روزہ مہم کے بعدبھی اس تحریک کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھاجائے ،حضرت مولانا محفوظ الرحمٰن فاروقی(رکن بورڈ) نے نکاح سے متعلق تربیتی کورس اور رسالہ مرتب کرنے کی تجویز پیش کی۔جناب فرید شیخ صاحب (رکن بورڈ وصدر امن کمیٹی ،ممبئی) نےدس روزہ مہم کوممبئی میں مؤثر بنانےکے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔
مولانا رفیع الدین اشرفی صاحب نے نوجوان جوڑوں کے لئے تربیتی پروگرام منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ،مولانا محمدحذیفہ وستانوی صاحب (نائب ناظم جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا)نے دینی تعلیم کی کمی کو بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضور صلعم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکو جہیز دیاتھا اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے،حضرت مولانا معزالدین صاحب (امیر شریعت مراٹھواڑہ )نے امام مسجد اور محلہ کے سرکردہ افرادپر مشتمل اصلاحی کمیٹیاں قائم کرنے پر زور دیا،مولانا نظام الدین فخرالدین صاحب(رکن بورڈ)نے کہاکہ آج نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو مغربی تہذیب کے نقصانات اور سنتوں کی برکات سے واقف کرانے کی ضرورت ہے ۔اخیر میں پیش کی گئی تجاویزپر غورو خوض کرنے کے بعداتفاق رائے سے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی گئی :
(1)مورخہ 14مارچ 2021ء بروز اتوارسے 23؍مارچ تک نکاح کو سادہ اور آسان بنانے کےسلسلے میں دس روزہ مہم چلائی جائے گی۔
(2)آئندہ تین ہفتوں تک مسلسل نماز جمعہ سے قبل مساجد میں آسان نکاح کی ترغیب اور جہیز کی مذمت کے عنوان پر خطاب کیاجائےگا۔
(3)جس نکاح میں جہیز کا مطالبہ اور جبری لین دین کیا جائے یارسوم ورواج اور خرافات کو شامل کیاجائے اس میں علماء،ائمہ اور قاضی حضرات شریک نہ ہوں اورنکاح بھی نہ پڑھائیں۔
(4)اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکی طرف سے تین روزہ کانفرنس برائے آسان اور مسنون نکاح منعقد کی جائے گی ،ابھی ریاست کے حالات کے پیش نظر یہ کانفرنس آن لائن منعقد کی جائے گی ۔انشاء اللہ
(5)اصلاح معاشرہ کمیٹی کی طرف سے نوجوان لڑکوں ،لڑکیوں کے لئے میاں بیوی کے حقوق اورخوشگوار ازدواجی زندگی کے سلسلے میں تربیتی کورس مرتب کیا جائے گااور الگ الگ اضلاع میں تربیتی ورکشاپ لیے جائیں گے ۔
(6)قریبی مدت میں دس روزہ مہم کو کامیاب بنانے کے لئےآل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ذمہ داران مہاراشٹر کے تمام اضلاع کا دورہ کرکے فضاسازی کریں گے ۔
(7)سوشل میڈیا کے ذریعہ آسان اور مسنون نکاح کی مہم کو تقویت پہونچائی جائے گی ۔اس سلسلے میں اہم اور مختصرمضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرائے جائیں گے اورچھوٹے چھوٹے پمفلٹ اوراسٹیکرزکے ذریعے بھی بیداری لانے کی کوشش ہو گی ۔ ان شاء اللہ الرحمن
اس میٹنگ کی سرپرستی ممتازعالم دین مولانا عبدالاحد ازہری صاحب( رکن تاسیسی آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ)نیز مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی (شیخ الحدیث معہد ملت )اورمولانا مفتی معزالدین قاسمی (امیر شریعت مراٹھواڑہ )نے فرمائی،جبکہ صدارت کے فرائض بزرگ عالم دین اور ملی رہنمامولانا عبدالحمید ازہری صاحب (رکن بورڈ) نےانجام دیئے ،میٹنگ میں صوبہ مہاراشٹر کے 35 اضلاع سے چار سو سے زائد علماءکرام ،ائمہ مساجد، ممتازشخصیات ،سرکردہ افراد اوردانشورا ن قوم وملت شریک ہوئے جن میں مفتی سعید الرحمٰن فاروقی (رکن بورڈ)مولانا نسیم الدین مفتاحی صاحب (استاذجامعہ اسلامیہ کاشف العلوم )مولانا عبدالرشید مدنی صاحب (نائب امیر شریعت مراٹھواڑہ) جناب عبدالوہاب پاریکھ صاحب (رکن بورڈ)جناب مولانامحمود دریابادی صاحب (رکن بورڈ)جنا ب مفتی حامد ظفر صاحب رحمانی (استاذحدیث معہد ملت )جناب فیروز اعظمی صاحب (جماعت اسلامی)جناب شکیل فیضی صاحب (جمعیت اہلحدیث )جناب مولانا جمال عارف صاحب ندوی (ناظم جامعہ ابوالحسن علی ندوی ) جناب مولانا عبدالرشید مفتاحی (پونہ)جناب زاہد بھائی (صدر ایکشن کمیٹی ، پونہ) مولانا جمال ناصر ایوبی صاحب( جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء مالیگائوں)مولاناعبدالحمید قاسمی نقشبندی (ستارا)قاضی فیاض عالم صاحب ( قاضی شریعت ممبئی)مولانا مفتی فیروز قاسمی ،مولانا مفتی قاسم جیلانی (جمعیۃ علماءدھولیہ)جناب ایڈوکیٹ افتخار شیخ ، مولانا مفتی محمدایوب صاحب ، مولاناسید آصف ندوی ،مولانا مفتی محمد حسنین محفوظ نعمانی صاحب (مالیگاؤں)جناب ضیاء الدین صدیقی (وحدت اسلامی) مولانا محمدسرورقاسمی ،مولانا جنید الرحمٰن آزاد قاسمی، مولاناکریم الرحمن ندوی، مولانامفتی محمد قاسم جیلانی(دھولیہ) مفتی مسعود قاسمی(دھولیہ)ڈاکٹر بشیر صاحب (دھولیہ) مولاناقاری اسعد صاحب (ناندیڑ)جناب عارف حسین سجاد حسین صاحب (شیعہ اثناعشری جماعت)وغیرہ بطور خاص لائق ذکر ہیں۔یہ میٹنگ دوپہر میں ڈھائی بجے حضرت مولانا معزالدین صاحب کی دعا پر اپنے اختتام کو پہنچی۔مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے شرکاء میٹنگ اور بطور خاص میٹنگ کے منتظم جناب مولاناشعیب صدیقی صاحب(اورنگ آباد) کاشکریہ ادا کیااور بتایا کہ دس روزہ مہم میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کاجلد ہی اعلان کیا جائے گا۔اسی طرح انہوں نے مہاراشٹر کے تمام علماء ائمہ ،سماجی کارکنان اور مختلف اداروں ،تنظیموں اور کلبوں کے ذمہ داران سے گذارش کی ہے کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اوراسے کامیاب بنانے کی جدوجہد کریں۔