جنرل نیوز

تلنگانہ کے علماء اور سماجی کارکنان نکاح کی رسوم مٹانے کے لیے ہوئے سرگرم عمل

 

حیدرآباد _  13 مارچ ( پریس ریلیز) نکاح کو آسان بنانے اور بیجا رسوم ورواج کو مٹانے کے مقصد سے اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے گزشتہ دنوں مہاراشٹر اور گجرات کے علمائے کرام، ائمہ مساجداور سر کردہ افراد کی آن لائن میٹنگ لی گئی ،اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے مورخہ 11؍مارچ 2021ء بروزجمعرات صبح ۱۰ ؍بجےمولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب (کل ہند کنوینر اصلاح معاشرہ کمیٹی )کی نگرانی میںصوبہ تلنگانہ کے علمائے کرام ،ائمہ مساجد اور سرکردہ افراد کی زوم پر ایک آن لائن مشورتی نشست منعقد ہوئی ،جس کی سرپرستی حضر ت مولانا امیر اللہ خان صاحب او ر حضرت مولانا سید مظہر قاسمی صاحب نے فرمائی ،جب کہ صدارت کے فرائض معروف عالم دین حضرت مولانا حسام الدین جعفر پاشا صاحب (رکن آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ)نے انجام دیئے ، آغاز میں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نےاس مشورتی نشست کےاغراض ومقاصد بیان کیے ، انہوں نے کہا کہ اسلام میں نکاح بالکل آسان ہے اور مہر اور ولیمہ کے علاوہ کوئی خرچ نکاح میںنہیں رکھاگیا ہے ،ان دونوں اخراجات کے علاوہ جو خرچ ہیں، وہ سب ضرورت سے زائد اور اسلامی احکامات کے خلاف ہیں، انہوںنے بتایاکہ نکاح کو مہنگا کردینے کے بہت ہی برے نتائج سامنے آرہے ہیں، ارتداد کی جو لہر پھیل رہی ہے، اس کے پیچھے اور اسباب کے علاوہ یہ سبب بھی ہے کہ نکاح کا نظام دشوار کیا جارہاہے اور بہت سی مسلمان لڑکیوں کو شکل وصورت کی کمی اورغربت یادوسرے اور اسباب کی وجہ سے بار بار مستر د کیاجاتاہے جس کےنتیجے میں وہ غیر مسلموں کی طرف راغب ہورہی ہیں،یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے جس پر ہر عالم دین اور سماجی کارکن کو فکر مند ہوجانا چاہئے ،وقت آگیا ہے کہ ہم تمام علمائے کرام، ائمہ مساجد،سماجی کارکنان اور ملت کا درد رکھنے والوں سے ہاتھ جوڑ کر یہ گزارش کریں کہ اسلامی معاشرے میں رسوم ورواج کی جو آگ لگی ہوئی ہے، اس کو بجھانے کے لیے ہر شخص آگے آئے ،اور اپنی بساط بھر جو کوشش کرسکتا ہےضرور کرے ،انہوں نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں شادیوں کے زیادہ مہنگے ہونے پر بھی اظہار تشویش کیا اور یہ کہا کہ خود ان دونوں ریاستوں میں بھی نکاح کے مہنگا ہونے کی وجہ سے ہزاروں بن بیاہی بیٹیاں بیٹھی ہوئی ہیں اور اب ان کی عمریں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ نکاح کرنا ان کے لیے مشکل ہوگیا ہے ،اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے ہم سب کو اصلاح کا علم اپنے ہاتھ میں اٹھانا ہوگا۔
میٹنگ میں شریک تمام ہی حضرات نے نکاح کو آسان بنانے اور بیجا رسوم و رواج کو مٹانے کے سلسلے میں منعقد کی گئی اس مشورتی نشست کےانعقاد کی تحسین کی اور اسے وقت کی ضرور ت قرار دیا،ساتھ ہی اپنی جانب سے مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے اپنے ہر ممکن تعائون کایقین دلایا۔ حضرت مولانا حسام الدین جعفر پاشاصاحب نے فرمایا کہ موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ علمائے کرام اور مختلف علاقوں کے ذمہ دار افرادمل کر کمیٹیاں قائم کریں، جن کے ذریعے اپنے اپنے علاقے کے مسلمانوں کو موجودہ رسوم ورواج کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ حضرت مولانا مظہر قاسمی صاحب نے کہاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اس ملک کے مسلمانوں کے لیے اللہ تعالی کا عطیہ ہے،اور اس کی آواز میں بڑی طاقت ہے، اگر بورڈ کی طرف سے منظم طریقے پر تحریک چلے گی تو کامیاب اور موثر ہوگی ان شاءاللہ، اس سلسلے میں علمائے کرام اور ائمہ مساجد بنیادی کردار اداکر سکتے ہیں۔ حضرت مولانا امیر اللہ خان صاحب نے خواتین کی ذہن سازی اور تر بیت کے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں اور اپنی خدمات پیش کرنے کا اظہار کیا،جناب مفتی عرفان صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ نوجوان لڑکیوں اور خواتین کی دینی تعلیم وتربیت کے لیے مکاتب نسواں قائم کیے جائیں۔ اسی طرح معلمات خواتین کے دینی اجتماعات کے ذریعے عام مسلمان خواتین کے سامنے نکاح کا اسلامی نظام پیش کریں۔ مفتی مجیب الرحمن قاسمی صاحب نے خواتین کے لیے باضابطہ کورس مرتب کرنے کی رائے دی *،اخیر میں اتفاق رائے سے صوبہ مہاراشٹر اور گجرات کی طرح تلنگانہ میں بھی دس روزہ مہم چلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ بات بھی طے کی گئی کہ آئندہ تین دن میں مولانا حسام الدین جعفر پاشاصاحب کی نگرانی میں وہاں کے مزید علماء اور خواص سے مشورہ کرکے لائحہ عمل طے کیاجائےگا،سر دست یہ بات طے کی گئی ہے کہ آئندہ تین جمعہ تک تمام مساجدمیں نماز جمعہ سے قبل اسی موضوع پر تقریر ہواور چھوٹی چھوٹی ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں جو ان خاندانوں میں جہاں نکاح ہونے والے ہیں، وہاں پہنچ کرنکاح کے اسلامی نظام کو پیش کریں ۔*
میٹنگ میں صوبہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع سےاچھی خاصی تعداد میں علماءکرام ،ائمہ مساجد، ممتازشخصیات اورسرکردہ افراد شریک ہوئے جن میں مولانا مسعود احمد قاسمی صاحب،مفتی عبدالباقی صاحب ،مفتی مجیب صاحب ،مفتی عمران صاحب (کاما ریڈی) مفتی عرفان عالم قاسمی صاحب (ذمہ دار سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ) مولانا شعیب صدیقی صاحب ،مفتی مبشر صاحب،مفتی فیاض عالم صاحب وغیرہ قابل ذکر ہیں، یہ میٹنگ دوپہر میںایک بجے حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی دعا پر اختتام کو پہنچی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button