جنرل نیوز

علماء کے درمیان

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

شعبۂ خواتین ، جماعت اسلامی ہند کی ملک گیر مہم ‘مضبوط خاندان ،مضبوط سماج’ (19 تا 28 فروری 2021) خواتین کے ذریعے اور خواتین کے درمیان چلائی گئی ، لیکن بعض ریاستوں میں ذمے دارانِ جماعت نے فیصلہ کیا کہ اس مہم میں علماء کو بھی شریک کیا جائے اور سماج میں بیداری لانے کے لیے ان کے ساتھ اشتراک کیا جائے _ اس سلسلے میں راقمِ سطور کو راجستھان اور اترپردیش کے بعض مقامات پر جانے کا موقع ملا _

20 فروری کو جے پور میں علماء کا ایک بڑا پروگرام شہر مفتی و قاضی مولانا محمد ذاکر کی صدارت میں ہوا _ اس میں مولانا سرفراز احمد فلاحی ناظم مجلس العلماء راجستھان ، مولانا محمد شمشاد ندوی استاذ جامعۃ الہدایۃ اور راقم نے خطاب کیا _ میں نے عرض کیا کہ علماء سماج میں سربرآوردہ مقام رکھتے ہیں _ اگر وہ خطباتِ جمعہ ، خطباتِ نکاح اور عمومی خطابات میں اسلام کی سماجی اور عائلی تعلیمات بیان کریں اور ساتھ ہی عملی نمونہ بھی پیش کریں تو بے جا رسوم کا خاتمہ ہوسکتا ہے _ اس پروگرام میں علماء اور ائمۂ مساجد بڑی تعداد میں شریک تھے _ اس موقع پر عائلی تنازعات کو حل کرنے کے لیے خاندانی مفاہمتی مرکز کے قیام کا اعلان کیا گیا _ جامعۃ الہدایۃ میں خاصے ندوی فضلاء ہیں _ پروگرام کے بعد وہ ہوٹل تشریف لائے اور ان کے ساتھ دیر تک گفتگو ہوتی رہی _

دوسرے دن سیکر پہنچے _ وہاں بعد نمازِ ظہر علماء و ائمہ کا پروگرام رکھا گیا تھا _ مولانا یونس ، صدر جمعیۃ العلماء ضلع سیکر ، مولانا نور الدین قاسمی اور دیگر علماء و ائمہ مساجد تشریف لائے تھے _ عمدہ تبادلۂ خیال ہوا _

ٹونک راجستھان کا قدیم اور تاریخی شہر ہے _ وہاں بعد نماز عشاء مسجد عبد الکریم میں علماء اور معززین شہر کا اجلاس ہوا _ مفتی عادل ندوی مہتمم جامعہ سید احمد شہید ، مفتی سعید احمد امام جامع مسجد قافلہ بازار ، مولانا عمر ندوی ، مولانا عامر ندوی اور دیگر معززین شہر کے ساتھ بہت اچھی نشست رہی _ اسی مسجد میں دار القضاء قائم ہے _ مفتی عادل نے دار القضاء کا معاینہ کروایا اور اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا _ مفتی سعید صاحب نے بتایا کہ غیر منقسم ہندوستان میں جماعت اسلامی کی تاسیس کے تھوڑے عرصے بعد ہی یہاں دار المطالعہ جماعت اسلامی قائم ہوگیا تھا _

اگلے دن (22فروری) کرمودہ کے مدرسہ انوار العلوم ( نور نگر) میں پروگرام طے کیا گیا تھا _ مدرسہ کے مہتمم مولانا نعمان قاسمی نے اپنے اسٹاف کے ساتھ ہمارا استقبال کیا _ مسجد میں پروگرام ہوا ، جس میں قرب و جوار کے علماء و ائمہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی _ مولانا سرفراز فلاحی نے مہم کا تعارف کرایا _ میں نے اسلام کی عائلی تعلیمات پر روشنی ڈالی _ بعد میں علماء نے بہت سے سوالات کیے ، جن کے جوابات دیے گئے _ پروگرام میں علاقے کی اکثر مساجد کے ائمہ اور علماء شریک ہوئے _

راجستھان سے واپسی کے بعد اگلے مرحلے میں اترپردیش (مغرب) کے متعدد مقامات پر جانا ہوا _ مولانا عتیق احمد شفیق اصلاحی سکریٹری حلقہ اور جناب محمد ضیاء خاں ناظم ضلع بریلی کی رفاقت حاصل رہی _ ضلع ہردوئی کا ایک شہر شاہ آباد ہے _ یہاں جماعت کا کام کافی پرانا ہے _ 25 فروری کو یہاں متعدد پروگرام رکھے گئے تھے _ دوپہر میں علماء کی نشست اور بعد نماز عشاء ایک مسجد میں خطابِ عام تھا _ اس میں مردوں کے ساتھ خواتین کی بڑی تعداد دیکھ کر بہت خوشی ہوئی _ راقم نے اسلام کی عائلی تعلیمات اور خوش گوار خاندان کی تدابیر پر اظہارِ خیال کیا _

26 فروری کا پورا دن ضلع بدایوں کے مشہور شہر ککرالہ میں گزرا _ یہاں بعض تحریکی بزرگوں کی خدمات بہت نمایاں ہیں ، جن میں حافظ عبد القیوم اہم ہیں _ انھوں نے 1956 میں ہی درس گاہ اسلامی قائم کی تھی _ پھر لڑکیوں کا مدرسہ جامعۃ الحسنات قائم کیا _ درس گاہ سے متصل ایک بڑی مسجد تعمیر کرائی _ ایک انٹر کالج قائم کیا ، جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جو ککرالہ کا سب سے بڑا کالج ہے _ یہاں دوپہر میں علماء کے ساتھ نشست ہوئی ، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء ، دینی تنظیموں کے ذمے دار اور ائمۂ مساجد شریک ہوئے _ بعد نمازِ عشاء خطابِ عام رکھا گیا تھا _ پوری مسجد کھچاکھچ بھر گئی تھی _ اسلام کی عائلی تعلیمات اور نظامِ وراثت پر راقم نے گفتگو کی _ اس کے بعد سامعین نے بہت سے سوالات کیے ، جن کے جوابات دیے گئے _ جامعۃ الحسنات کی معلّمات ، کالج میں گرلز سیکش کی معلّمات ، کالج کے اساتذہ اور سینیر طلبہ کے ساتھ بھی نشستیں رہیں _ جمعہ کا خطبہ دیا _ فجر کے بعد مختصر تذکیر کی _

دوسرے دن شب میں بدایوں شہر میں ایک بین مذاہب پروگرام طے کیا گیا تھا _ ککرالہ سے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک قصبہ بلہری پڑتا ہے _ وہاں درس گاہ اسلامی میں دوپہر میں ایک پروگرام طے تھا _ اس میں قصبہ کے لوگوں کے سامنے اختصار کے ساتھ اسلام کی عائلی تعلیمات پیش کرنے کا موقع ملا _ بدایوں میں سہ پہر کو پریس کانفرنس رکھی گئی تھی _ شب کے پروگرام میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی _ بڑا اچھا پروگرام ہوا _ مجھے خوش گوار خاندان کے قیام کے لیے اسلامی تعلیمات تفصیل سے پیش کرنے کا موقع ملا _

28 فروری کو سہارن پور میں علماء اور معززین کا پروگرام طے کیا گیا تھا _ یہ پروگرام دوپہر دو بجے براؤن ووڈ پبلک اسکول کے ہال میں منعقد ہوا _ مولانا عتیق شفیق اصلاحی نے جماعت کی مہمات کا تعارف کرایا _ میں نے اصلاحِ معاشرہ کے کام میں علماء کی ذمے داریاں یاد دلائیں _ مولانا فتح محمد ندوی ، مولانا خالد ندوی ، مولانا اطہر حقانی، ڈاکٹر خلیل اور اسکول کی پرنسپل مخترمہ صبوحی افتخار نے بھی اظہارِ خیال کیا _ سب نے متفقہ طور پر کہا کہ موجودہ دور میں علماء کو عملی نمونہ پیش کرنے کی ضرورت ہے _

یہ بات خوش آئند ہے کہ جماعت اسلامی کے اصلاح معاشرہ کے کاموں میں علماء کا تعاون مل رہا ہے _ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء جماعت کے کاموں کو قدر و تحسین کی نظر سے دیکھ رہے ہیں _ اس کے ساتھ اشتراک کررہے ہیں اور اس کی سرگرمیوں میں اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں ، فالحمد للہ علی ذلک _

متعلقہ خبریں

Back to top button