نیشنل

27سالوں سے جیل میں مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے 94 سالہ شخص کو سپریم کورٹ کی عبوری راحت

27سالوں سے جیل میں مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے 94 سالہ شخص کو سپریم کورٹ نے عبوری راحت دی

مستقل پیرول پر رہائی کی درخواست پر حکومت سے جواب طلب کیا، گلزا ر اعظمی

 

ممبئی15/ مارچ( پریس ریلیز)گذشتہ 27 سالوں سے جیل میں بند عمر قید کی سزا کاٹ رہے ایک 94 سالہ ضعیف المعر شخص کو آج سپریم کورٹ آف انڈیا نے عبوری راحت دی ہے، عدالت نے عرض گذار ڈاکٹر حبیب احمد خان کی پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے انہیں چھ ہفتوں کی عبوری راحت دی جس کی وجہ سے اب انہیں جئے پور جیل نہیں جانا پڑیگاورنہ کل پانچ بجے تک جئے پور جیل میں خود سپردگی کرنے کا جئے پور ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا تھا۔
ڈاکٹر حبیب کی مستقل پیرول پر رہائی کی عرضداشت جمعیۃ علماء ہندکے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کی گئی تھی جس پر آج دو رکنی بینچ کے جسٹس موہن شانتا گوادر اور جسٹس ونیت شرن کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران عدالت نے کہا کہ عرض گذار کو پہلے جیل میں خود سپردگی کرنا پڑے گی اس کے بعد ہم اس کی مستقل پیرول پر رہائی کی درخواست کی سماعت کریں گے۔
سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے،ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے عدالت کو بتایا کہ عرض گذار اس کے گھر پر زیر علاج ہے اور اس کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ جئے پور جیل جاکر خود سپردگی کر ے لہذا عدالت کو اسے انسانی بنیادوں پر راحت دینا چاہئے۔
سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ماضی میں تین بار پیرول پر رہا کیا جاچکا ہے اور اس نے ہمیشہ وقت سے قبل جیل میں خود سپردگی کردی تھی نیز راجستھان پیرول قانون کے مطابق تین بار پیرول پر رہاہوچکے شخص کو مستقل پیرول پرر ہا کیا جاسکتا ہے لیکن راجستھان ہائی کورٹ نے عرض گذار کی مستقل پیرول پر رہائی کی درخواست مسترد کردی کہ عرض گذار کو ٹاڈا قانون کے تحت عمر قید کی سزا ہوئی ہے لہذا ہائی کورٹ کو مستقل پیرول پر رہائی کا پاور نہیں ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دے نے عدالت کو بتایا کہ عرض گذار ابھی جیل واپس جانے کی حالت میں بالکل بھی نہیں ہے، جیل حکام نے خود اپنی رپورٹ میں کہا ہیکہ عرض گذار کو مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے لہذا عرض گذار کو مستقل پیرول پر رہا کیا جائے۔
حالانکہ عدالت نے عرض گذار ڈاکٹر حبیب کو مستقل پیرول پر رہا نہیں کیا لیکن اسے عبوری راحت دیتے ہوئے چھ ہفتوں تک گھر پر رہنے کی اجازت دی اور یونین آف انڈیا کو حکم دیا کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر اپنا جواب داخل کرے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں اس معاملے کی سماعت بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ عمل میں آئی۔
اس ضمن میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ماضی میں تین مرتبہ ڈاکٹر حبیب کو 21 دنوں کے لیئے پیرول پر رہا کرایا گیا تھا لیکن ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی تاکہ انہیں مستقل پیرول پر رہا کرایا جاسکے کیونکہ واقعی میں ڈاکٹر حبیب کی حالت ا ب جیل میں رہنے لائق نہیں ہے، چلنے پھرنے سے معذور ہوچکے ہیں، بینائی بھی کمزور ہوچکی ہے اور بھی دیگر بیماریاں لاحق ہیں جن کا ان کے اہل خانہ علاج کررہے ہیں۔گلزاراعظمی نے کہا کہ انہیں امید ہیکہ عدالت صحت اور عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر حبیب کو مستقل پیرول پر رہا کرنے کا احکامات جاری کریگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button