جنرل نیوز

بدلے ہوئے زمانے کے شاہد ہیں ہم

 

از: ڈاکٹرتبریز حسین تاج
صحافی واسکالر حیدرآباد

زمانہ بدل گیااور ہم نے کیا کیا دیکھااس بارے میں آج کے اس مضمون میں تفصیلی گفتگوکریں گے۔کیونکہ ہم ہی ایسے شاہد ہیں جس نے بدلے ہویئے زمانے کو بالکل قریب سے دیکھا ہے۔کیونکہ کئی صدیوں تک لوگوں کی طرز زندگی میں کوئی خاص بدلاؤ نہیں آیا تھا۔ لیکن ہمارے اِس دور میں انقلابی تبدیلیاں تیزی کے ساتھ رونماں ہوئی ہیں۔
سب سے قبل اپنے بچپن کی یادوں سے مضموں کی شروعات کرتا ہوں۔میرا تعلق تلنگانہ ریاست کے نارائین پیٹ سے ہے لہذا گاؤں کے حالات کی منظر کشی ہی کررہا ہوں جو اُس وقت ہوا کرتی 0تھی۔بڑے صحن اور بڑے بڑے ہوا دار مکانات ہوا کرتے تھے۔تازی ہوا صحن میں خوبصورت پودے پھولوں کے بیل بوٹے ہوا کرتے تھے۔ہر صبح وشام ہواؤں میں خوشبوبکھرا کرتی تھی۔گھروں میں غسل خانے تو ہوا کرتے تھے جوکافی حدتک گھروں کی مستورات کے استعمال تک ہی محدود ہوا کرتے تھے۔ جبکہ مرد حضرات اور بچے باؤلیوں کو جاکر تیراکی کیا کرتے تھے۔ورزش کی ورزش غسل کا غسل ہوا کرتاتھا۔ آج ہمارے گاؤں میں بھی باؤلیوں کے نام بچ گئے ہیں لیکں کہیں بھی کوئی باؤلی نہیں ہے۔پہلے پانی گرم کرنے کیلئے پیتل سے بنے ایک مخصوص برتن کا استعمال کیا جاتا تھا۔وقت بدلہ اُس کی جگہ الکٹریک ہیٹرنے لی۔اور اب الکٹریک ہیٹربھی نہیں رہے تقریباً گھروں میں گیزرلگائے گئے ہیں۔اب گیزر میں بھی ڈیجیٹل طرز کے گیزر بازاروں میں دستیاب ہیں۔
پہلے گھروں میں مسالے اور چٹنی پیسنے کیلئے پتھر کی وکلی کا استعمال ہوا کرتا تھا۔گھرکی عورتیں موسل(لکڑی کا موٹاڈنڈا) سے مسالے پیسہ کرتی تھیں۔ جسکا ذائقہ بھی بہت لذیز ہواکرتا تھا۔آج اس کی جگہ گرائنڈرنے لی ہے۔
پہلے یہ کہاوت عام تھی کہ ہر گھرمٹی کاچولہا کیونکہ تمام گھروں میں مٹی سے بنائے گئے چولہے ہی ہواکرتے تھے۔ جس میں ایندھن کے طورپر لکڑی، بھونسے کا استعمال ہوا کرتا تھا۔ جبکہ ہندوگھروں میں سوکھے گوبر کو بھی ایندھن کے طورپرچولہے میں استعمال کیا کرتے تھے۔لکڑی کی چولہے کی جگہ مٹی کے تیل کا چولہا آیا۔جس میں برنراور بتیوں والا چولہا ہوا کرتا تھا۔بعض گھروں میں الکٹریک کے چولہے بھی آئیے لیکن اب سب گھروں میں گیاس کے چولہے ہیں۔ایک دور تھا چولہا سلگانا بڑا کمال سمجھاجاتا تھا لیکن آج بٹن دباتے ہیں چولہا سلگ جاتا ہے۔
گاؤں میں کپڑوں کو دھونے کیلئے کھاری مٹی کی اوپری پرت کے سفوف کا استعمال کیا جاتا تھا جسے ساؤڑ کہا کرتے تھے۔ہم نے ساؤڑبھی دیکھاsurfبھی دیکھا۔آج کل کپڑے دھونے کا روایتی انداز بدل گیا ہے۔پہلے ہاتھ سے دھویا کرتے تھے۔ اب واشنگ مشن ہے۔شروعاتی دور میں ہم نے بیسک طرزکی واشنگ مشن دیکھی۔ رفتہ رفتہ یہ بھی بدل گئی۔ اب جدید ٹیکنک سے آراستہ واشنگ مشن گھروں میں دستیاب ہیں۔ جوکپڑے دھوتی بھی ہیں سوکھاتی بھی ہیں۔
ہم نے تو مٹی کے چراغ نہیں دیکھے ہیں البتہ لعل روشنی والے بجلی کے بلب ہوا کرتے تھے۔ پھر اِن بلبوں کی جگہ سفید رنگ والی ٹیوب لائٹ نے لیا۔زیادہ روشنی کیلئےhalogen bulbکا استعمال ہوا کرتا تھا۔لیکن اب گاؤں میں بھی LED Bulb لگ گئے ہیں۔پہلے بجلی کے جو بٹن ہوا کرتے تھے وہ کالے رنگ کے گول مضبوظ بٹن ہوا کرتے تھے۔دیوار پر کلپ جوڑ کروائرنگ کی جاتی تھی۔ اب switch board بدل گیا ہے۔
بچپن میں مٹی کے ظروف ہوا کرتے تھے۔میں نے مٹی کا گلاس، مٹی کا کٹورا، مٹی کا برتن مٹی کا لوٹا مٹی کا گھڑا اورمٹی کارنجن اپنے گھر میں دیکھا ہے۔اب یہ گھروں میں دور دور تک کہیں دکھائی ہی نہیں دیتے ہیں۔ البتہ رمضان کے موقع پر گاؤں کی چند مسجدوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔
میرے بچپن میں باسی کھاناکھانے کا تصور نہیں تھاسب تازہ تازہ کھایا جاتا تھا۔کیونکہ اُس وقت Refrigerator یعنی فریج نہیں ہوا کرتا تھا۔لوگ روز کی روز ترکاری اور گوشت لایا کرتے تھے۔فریج کے آنے کے بعد لوگوں کی طرز زندگی میں بھی آسودگی آگئی ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انسان کی حرکت بھی فریز ہورہی ہے۔
میرے بچپن میں ہمارے میں گھر میں ایکRadio ہوا کرتا تھا جو philipsکمپنی کا تھا۔جس میں بیٹری کے چار سل استعمال کیے جاتے تھے۔جس میں خبریں اور گانے سہانے وودھ بھارتی کی نشریات سناکرتے تھے۔ Radio کی جگہ بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن نے لی۔ٹی وی کے لئے گھر کے اوپر بڑا اینٹنالگایا جاتا تھا۔ بُش کی مدد سے ٹی وی چل تی تھی۔ پورے گھر میں ایک ٹی وی اور وہ بھی بہت بڑی ہوا کرتی تھی۔ اطراف واکناف کے لوگ بھی ٹی وی دیکھنے کیلئے آتے تھے۔رفتہ رفتہ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی جگہ کلر ٹی وی نے لی۔اب ٹی وی میں کافی بدلاؤآگیا ہے۔ ٹی وی کاحجم اور وزن کم ہوا ہے۔اب گھر کے ہر کمرے کی دیوار پر ٹی وی لگ گئی ہے۔اب تو فولڈ ہونے والی ٹی وی بھی بازار میں دستیاب ہے۔
ہم نے بچپن میں ٹیپ ریکارڈ اور کیسٹ دیکھے۔کیسٹ میں دونوں جانب الگ الک ریکارڈنگ کی گنجائش تھی۔پھر بازار میں Walkman آگیا۔نوجوانوں کے ہاتھوں میں Walkman ہوا کرتا تھا۔ٹیکنیکی انقلاب نے ایک ساتھ سونامی کی طرح آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سب چیزیں ماضی کی حصہ بن گئیں۔cd player آنے کے بعد سی ڈی اور ڈی وی ڈی کی مانگ بڑھ گئی۔پھر سیل فون نے تو سب کچھ بدل ڈالا۔سیل فون سے پہلے پیجربھی ہم نے دیکھا
سیل فون کے بعد گاؤں میں پوسٹ آفیس کا رول بدل گیا ہے۔پہلے پوسٹ مین کا بے قراری سے انتظار ہوا کرتا تھا۔ سب کے خطوط ایک بستے میں لگاکر آیاکرتا تھا۔ منی آڈر وغیرہ آتی تھی۔ تار یعنی ٹیلی گرام اب پوری طرح ختم ہوگئی ہے۔ پوسٹ مین اگر تار لاتا توگھر میں گھبراجاتے تھے۔ہمارے گھر بنگلور سے شائع ہونے والا ہفتہ وار نشیمن منگوایا جاتا تھا مجھے نشیمن کا بڑا انتظار رہتا تھا۔
میں یہاں ایک بات کہنا ضرور چاہتا ہوں Privacy کا اتنا خیال نہیں تھا۔ جب شہر سے کسی کا خط آتا تھا تو گھروالے سب مل کر پڑتے تھے۔اگر سمجھ لو کہ خط میں بھول کر کسی کا نام نہیں لکھاجاتا تو بس ناراض گی کا عالم ہی کچھ اور ہوتا۔آج تو منظرہی الگ ہے privacyاتنی کے ہر ایک کا اپنا ایک فون اور اُس کابھی Passwordہوتا ہے۔
فون بھی ہمیں کئی اقسام کے دیکھے ہیں۔ پہلے فون ڈائلنگ نمبر کا تھا۔ پھر آپریٹرکی مدد والا فون آیا۔ایس ٹی ڈی بوتھ کا چلن عام تھا۔ ایس ٹی ڈی بوتھ بھی ایک اچھا سا کاروبار تھا۔ آئی ایس ڈی کالس پر کمیشن ہوا کرتا تھا۔کوئن باکس کا چلن بھی تھا۔اب سب کچھ بدل گیا۔ نہ ایس ٹی ڈی بوتھ ہے اور نہ ہی کوائن باکس۔ہم نے انٹرنیٹ کا ٹوجی 3G،4Gکا دور دیکھ رہے ہیں جلد ہی 5Gدستیاب ہونے والا ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ سیل فون میں ایک نیا فیوچر دستیاب ہورہا ہے۔
کھان پان بھی بدلتے وقت کے ساتھ بدل گیا ہے۔ دعوتوں کا انداز بدل گیا ہے۔پہلے گاؤں کی شادیاں آج کل کی شادیوں سے بالکل مختلف ہوا کرتی تھیں۔ میرے بچپن میں ظہر کی نماز سے قبل دوپہر کا کھانا ختم ہوجاتا تھا۔ دولہے والوں کے مہمانوں کا کھانا دولہے کے پاس اور دولہن والوں کے مہمانوں کا کھانا دولہن والوں کے پاس ہوا کرتا تھا۔نارائین پیٹ کا مخصوص کھانا بگارا کھانا دالچہ ہوا کرتا تھا۔ بعض دعوتوں میں بیگن کا سوکھا سالن بھی بنایا جاتا تھا۔شادی گھر کے پاس ہی ہوا کرتی تھی۔ بارات میں ڈھول باجے ہوا کرتے تھے۔دولہے کے دوستوں کا رقص وغیرہ بارارت میں دیکھائی دیتا تھا۔شادی والے گھر کو برقی قمقہوں سے سجایا جاتا تھا۔ مائک لگایا جاتا تھا گانے بجائے جاتے تھے۔گھر میں مہندی کی رسم ہلدی کی رسم اداکی جاتی تھی۔ہلدی کی رسومات میں چوکی بھرنا تیل چڑانا وغیروغیرہ شامل تھے۔ لیکن اب ثقافتی اور روایتی شادیاں ختم ہوگئیں ہیں۔نکاح سنت کے مطابق مسجد میں تو ہورہا ہے لیکن نکاح کے بعد آتش بازی اور ڈی جے کے ساتھ دولہا فنکشن ہال جارہا ہے۔دولہے والوں کے مہمانوں کی ضیافت بھی دولہن والے ہی کررہے ہیں۔ڈنر میں ہمہ اقسام کے کھانے بنائے جارہے ہیں۔ مٹن بریانی کے بشمول مٹن سوپ، مٹن مسالہ مرغ مسلم، سرخ مرغ ہرامرغ نہاری کباب شامی بوٹی کباب بکرا مسلّم وغیرہ بنائے جارہے ہیں۔لڑکی کی شادی پہلے آسان تھی اب مشکل ہوتی جارہی ہے۔
بات اب اسکول کی کرتے ہیں۔ پہلے اسکول میں بلاک بورڈ ہوا کرتا تھا اب ڈیجیٹل بورڈ آگیا ہے۔بلاک بورڈ اور استاد کی کہانیوں سے طلباء کے ذہنوں میں تخیل پیدا ہوتا تھا۔اُڑان بھرنے یا راکٹ کاسبق پڑھایا جاتا تو بچے اپنے ذہنوں میں اپنے انداز سے امیج پیدا کرلیتے تھے۔روایتی کلاسوں کی جگہ آن لائن اور ڈیجیٹل کلاس نے لی ہے۔پہلے استاد بچوں کو سزائیں دیتے تھے۔ لیکن اب سزائیں نہیں دی جاسکتی ہیں۔
کھیتی باڑی کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ پہلے مزدور ہاتھوں سے فصل بویا کرتے تھے۔ اب مزدوروں کی جگہ مشن آگئے ہیں فصل بونے سے لیکر فصل کی کٹائی اور اجناس کی پیکنگ سب مشن کے ذریعے ہورہی ہے۔یہ بھی بدلاؤہم نے دیکھا ہے۔طرز تعمیر بدل گئی ہے۔ پہلے مٹی اور پتھر سے مکان بنائے جاتے تھے۔ کاویلو کی چھت ہوا کرتی تھی۔ اب سمنٹ کے پختہ مکانات تعمیر ہورہے ہیں۔زیادہ طر مشینوں کا استعمال ہورہا ہے۔
بینکنک نظام میں بھی کافی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ پہلے سب آف لائن ہوا کرتا تھا لیکن آج سب کچھ آن لائن ہورہا ہے۔ڈاٹا کی بنیاد پر آن لائن معاملات کی سہولت دستیاب ہے۔شائد 50برس قبل ایساتصور بھی لوگوں کے ذہنوں میں نہیں تھا۔ اس مضمون کی آئندہ قسط جلد پیش کی جائیگی۔۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button