جنرل نیوز

بہو کی حمایت میں

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

میری بہت سی بیٹیوں کو شکایت ہے کہ میں ہمیشہ ان کے فرائض اور ذمے داریوں ہی پر کیوں زور دیتا ہوں ، ان کے حقوق کیوں نہیں بیان کرتا؟ اور سسرالیوں کو ان حقوق کی ادائیگی کی تاکید کیوں نہیں کرتا؟ ان کی شکایت کسی حد تک بجا ہے ، لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر میری بیٹیاں ہی میرے رابطہ میں آتی ہیں _ وہ مجھ سے سوال کرتی ہیں کہ خوش گوار خاندان کی تشکیل میں وہ کیا رول ادا کرسکتی ہیں؟ اس لیے ان کے سامنے ان کے حقوق بیان کرنے کے بجائے ان کے فرائض بیان کرتا ہوں _ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عائلی زندگی میں فرائض اور حقوق کے درمیان توازن کے بغیر خوش گواری قائم نہیں رہ سکتی اور اگر ابتدائی دنوں میں قائم ہوجائے تو دیرپا نہیں رہ سکتی _ آج میں سسر اور ساس سے مخاطب ہوں کہ بہو کے سلسلے میں ان سے کیا رویّہ مطلوب ہے؟ اور انہیں کیسے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟

ایک لڑکی نکاح کے بعد ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوتی ہے _ وہ اپنے ماں باپ ، بھائی بہن اور دیگر رشتے داروں کو چھوڑ کر آتی ہے _ سسرال میں اسے نئے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے _ اگر یہ نئے لوگ اس سے پیار و محبت اور اپنائیت سے پیش آئیں تو لڑکی کا اپنے حقیقی رشتے داروں سے بچھڑنے کا غم بہت ہلکا ہوسکتا ہے _ اگر ساس ماں بن جائے ، سسر باپ بن جائے ، نند بہن بن جائے اور دیور بھائی بن جائے تو لڑکی کو احساس ہوگا کہ وہ اگرچہ اپنوں سے بچھڑ گئی ہے ، لیکن اپنوں جیسے لوگوں کے درمیان آگئی ہے _ سسرالی رشتے دار حقیقی رشتے دار نہیں بن سکتے ، لیکن ان جیسا بننے کا مظاہرہ تو کرسکتے ہیں _

لڑکی کو سب سے زیادہ سابقہ اپنی ساس سے پیش آتا ہے _ اگر ساس کا اس کے ساتھ محبّت آمیز رویہ ہو تو وہ زندگی کے تمام سرد و گرم ہنسی خوشی برداشت کرلے گی _ اسے احساس ہوگا کہ اسے ساس کی شکل میں ایک مضبوط سہارا حاصل ہے _ وہ خود کو بہت طاقت ور محسوس کرے گی _ لیکن اگر ساس کا رویہ حقارت آمیز ، بات بات پر ٹوکنے والا اور اس کے کاموں میں خامیاں نکالنے والا ہو تو اس کا دل ٹوٹ جائے گا اور اجنبیت کی اونچی دیوار ان کے درمیان حائل ہوجائے گی _

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ بہو کو کسی بات پر ٹوکا ہی نہ جائے ، اس کی کسی کوتاہی پر اس کی سرزنش نہ کی جائے ، اسے سلیقہ نہ سکھایا جائے اور اس کی دینی و اخلاقی تربیت نہ کی جائے _ ضرور کی جائے ، لیکن اس کا تذکرہ اس طرح کیا جائے جیسے بیٹی کا کیا جاتا ہے _ اسے اس طرح مخاطب کیا جائے جیسے بیٹی کو کیا جاتا ہے _ الفاظ ایک جیسے ہو سکتے ہیں ، لیکن ان کی ادائیگی کا انداز اور مخاطب کرنے کا اسلوب سننے والے کو بتادیتا ہے کہ اس میں خیر خواہی پوشیدہ ہے یا طنز و تعریض ، سلیقہ سکھایا جا رہا ہے یا طعنہ دیا جا رہا ہے _

چند دنوں قبل ایک خاتون میرے پاس اپنا مسئلہ لے کر آئیں _ ان کی سسرال میں شوہر کے علاوہ صرف ساس سسر تھے _ انھوں نے ساس سسر کی خدمت کو اپنا فریضہ جانا ، لیکن چند ہی ماہ میں ان کی ساس نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی _ بہت دیر تک سوتی ہو ، بہت کھاتی ہو ، سر میں درد کا بہانہ کرکے پڑی رہتی ہو ، کام چور ہو ، فیشن کرتی ہو ، زبان دراز ہو ، اور نہ جانے کیسی کیسی باتیں _ بالآخر وہ خاتون آٹھ ماہ سے اپنے میکے میں ہیں اور ان کی ازدواجی زندگی خطرے میں ہے _

میری شادی ہوئی تو میری امّی جان نے اپنی بہو پر محبتیں نچھاور کیں اور اسے بیٹی سے زیادہ پیار دیا _ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری اہلیہ نے بھی ان کا خیال رکھنے اور ان کی خدمت کرنے کی حتی الامکان کوشش کی _ اب وہ خود ساس بن گئی ہیں تو یہی رویہ ان کا اپنی بہو کے ساتھ ہے _ ہر گھر میں کچھ نہ کچھ کھٹ پٹ ہوہی جاتی ہے _ کبھی ایسا ہوتا ہے تو یہ تحقیق کرنے کے بجائے کہ بہو اور بیٹے میں سے کس کی غلطی ہے؟ ہم دونوں بہو کی حمایت میں ہوتے ہیں اور بیٹے کی سرزنش کرتے ہیں _ بہو کی آنکھ میں ایک آنسو یا اس کا مُرجھایا ہوا چہرہ ہمیں پریشان کردیتا ہے اور جب تک ہم اسے خوش نہیں دیکھ لیتے ، ہمیں چین نہیں آتا _

جس گھر میں بہو کی عزّت و توقیر نہ ہو اسے اسلامی گھر نہیں کہا جاسکتا _ جس گھر میں بہو خوش نہ ہو اسے مثالی گھر نہیں کہا جاسکتا _ اس پہلو سے ہم میں سے ہر شخص کو اپنا اور اپنے گھر کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنا احتساب کرنا چاہیے _

متعلقہ خبریں

Back to top button