نکاح مشکل ہونے سے ہزاروں لڑکیاں ارتداد کا شکار ہورہی ہیں، معاشرے کو جہیز کی زنجیروں سے آزاد کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!

 

 

  نکاح مشکل ہونے سے ہزاروں لڑکیاں ارتداد کا شکار ہورہی ہیں، معاشرے کو جہیز کی زنجیروں سے آزاد کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!
مرکز تحفظ اسلام ہند کے اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مفتی افتخار احمد قاسمی اور مولانا مقصود عمران رشادی کا خطاب!

بنگلور، 6 /اپریل (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان و مسنون نکاح مہم کی ملک گیر تحریک کے پیش نظر مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن اصلاح معاشرہ کانفرنس کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اسلام میں نکاح ایک عبادت ہے۔ نکاح انسانی فطرت کا وہ تقاضا ہے جس کے ذریعے آدمی انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کرتا ہے۔ اور یہی نکاح کا پہلا مقصد ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نکاح کا آغاز رشتوں کے انتخاب سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دینداری کی بنیاد پر رشتوں کے انتخاب کرنے میں کامیابی رکھی ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اولاد کا طلب کرنا نکاح کا دوسرا مقصد ہے۔ اور صالح اولاد تبھی ملے گی جب بیوی دیندار ہوگی۔ لیکن افسوس کا مقام ہیکہ اللہ تعالیٰ نے جس نبی کریم ؐکی حیات طیبہ اور اسوہ حسنہ کو پوری کائنات کیلئے نمونہ بنایا آج خود مسلمان اسے چھوڑ کر اغیار کے طور طریقوں کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی کو تباہ و برباد کررہا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ جس نکاح کو اسلام نے آسان بنایا آج ہم نے اسے مشکل سے مشکل ترین بنا دیا ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔ لیکن غیر شرعی رسوم و رواج، فضول خرچی اور جہیز کے لین دین نے تو معاشرے کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس نکاح کی ذمہ داریاں مرد پر رکھی تھیں، آج ہم لوگوں نے وہ ساری ذمہ داریاں لڑکی والوں پر ڈال دی۔ یہی وجہ ہیکہ ایک طرف جہاں ہزاروں بیٹیاں بن بیاہی اپنے گھروں میں بیٹھی ہیں۔وہیں نکاح کے مشکل ہونے کی وجہ سے دوسری طرف ہزاروں بیٹیاں ارتداد کا شکار ہوچکی ہیں۔ جس کے ذمہ دار امت کا وہ نوجوان طبقہ ہے جنکے مطالبات آسمان چھو رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ نکاح سے غیر شرعی رسوم و رواج بالخصوص جہیز کے لین دین کو ختم کرتے ہو اسے آسان و مسنون طریقہ پر انجام دیں، اسی میں خیر و خوبی، بھلائی اور کامیابی ہے۔

اصلاح معاشرہ کانفرنس کی پانچوں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا محمدمقصودعمران رشادی صاحب نے فرمایا کہ اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا تھا آج معاشرے نے اسے اتنا ہی مشکل بنا دیا ہے۔ شادی بیاہ میں بیجا رسوم و رواج اور جہیز کے لین دین نے امت کے ہزاروں گھرانوں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ بالخصوص مالداروں کی شادیوں میں ہونے والی فضول خرچی اور لین دین کی وجہ سے امت کے غریب گھرانوں کی ہزاروں بیٹیاں جہیز کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آج امت کی حالت ایسی ہوچکی ہیکہ وہ فضول خرچی اور غیر شرعی رسوم و رواج کو گناہ ہی نہیں سمجھتی، جس کی وجہ سے یہ لوگ بے تحاشا ان گناہوں میں پڑ کر عیاشی کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مالدار ہونا بری بات نہیں ہے بلکہ مال و دولت کو غلط جگہوں پر استعمال کرنا اور فضول خرچی کرنا بری بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح ایک عبادت ہے اور عبادت میں نمائش نہیں کی جاتی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ محترم ہے جو تقویٰ والا ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ ہماری کامیابی و کامرانی نبی کریم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنے میں ہی ہے اور دین و شریعت سے علاحدہ ہوکر نکاح کرنے سے کامیابی اور سکون کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ جہیز کے مطالبات بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہیکہ لڑکیوں کو وراثت سے بیدخل کردیا جارہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ معاشرہ کے نوجوان کھڑے ہوکر جہیز کی ان زنجیروں کو توڑکر معاشرے سے اس لعنت کو ختم کریں اور کسی کے دباؤ میں نہ آکر نکاح کو نبوی طریقہ کے مطابق انجام دیں، اس سے نکاح بھی آسان ہوگا، ازدواجی زندگی بھی خوشگوار ہوگی اور ایک بہترین معاشرہ بھی بنے گا۔

مفتی افتخار احمد قاسمی اور مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے ملکی سطح پر جاری آسان و مسنون نکاح مہم میں بھر پور تعاون کرنے کیلئے امت مسلمہ بالخصوص نوجوانان ملت سے اپیل کی۔ قابل ذکر ہیکہ دونوں حضرات نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔