سابق نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر صدیق حسن صاحب کا انتقال _ امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ مولاناحامد محمد خان کا اظہار تعزیت

 

معروف اسلامی اسکالر‘ عظیم دانشور و سابق نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر صدیق حسن صاحب کا آج 6 اپریل بروز منگل کیرلا کے کوذی کوڈمیں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ پروفیسر صدیق حسن صاحب کے سانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کر تے ہوئے امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ مولانا حامد محمد خان صاحب نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ مرحوم نے اپنی ساری زندگی اقامت دین کی راہ میں صرف کی۔ پروفیسر صدیق حسن صاحب انتہا ئی ذہین و فطین‘ بلند پایہ دانشوار اور پُر عزم شخصیت کے مالک تھے۔ خدمت خلق کے تحت جہاں اُنہوں نے بے انتہا غیر معمولی خدمات انجام دیں ہیں وہیں سماجی اور سیاسی میدان کے ماہرین میں بھی وہ شامل تھے۔آپ کی رحلت سے ملت اسلامیہ میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اِسے طویل عرصے تک محسو س کیا جاتا رہے گا۔ مولانا حامد محمد خان نے کہا کہ جناب صدیق حسن صاحب نے شمالی اور مشرقی ہندوستان کے اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے اور اُنہیں تعلیمی و معاشی سطح پر بلند کر نے کے لئے جو منصوبے بنائے اور کوششیں کیں وہ لائق تحسین ہیں۔ اُنہوں نے ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن کے بینر تلے جس ویژن کی بنیاد رکھی۔ اور جو تحریک چلائی جس کے تحت معاشی طور پر پسماندہ علاقوں میں اسکولس‘ مکانات‘ مساجد‘ کنویں اور طبی سہولیات کے مراکز قائم کیے گئے۔ یہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اور اس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ امیر حلقہ مولانا حامد محمد خان صاحب نے کہا کہ پروفیسر صدیق حسن صاحب کی طرح کی شخصیتیں صدیوں میں جنم لیتی ہیں پروفیسر صدیق حسن کا تعلق تھر سور ضلع کیرلا سے تھا اُنہوں نے عربی زبان سے پوسٹ گرائجویٹ کی تعلیم حاصل کی‘ کئی کتابیں تصنیف کیں اور کئی اہم کتابوں کے تراجم کیے۔ وہ ملیالم زبان کے روز نامہ مادھیامم کی پبلیشر اور چیرمین بھی رہے۔ دس سال تک جماعت اسلامی ہند کیرلا کے امیر حلقہ کی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد مرکز میں نائب امیر جماعت اسلامی ہند کی ذمہ داری نبھائی۔گذشتہ کچھ سالوں سے علیل رہنے کے بعد آج اُنہوں داعی اجل کو لبیک کہا۔ لواحقین میں اہلیہ کے علاوہ تین فرزندان اور ایک دختر شامل ہیں۔کیرلا میں ان کے آبائی مقام پر نماز جنازہ ادا کی گئی اور تدفین عمل میں آئی۔ امیر حلقہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے‘ ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔