مفتی عظیم الدین ؒ نتقویٰ وپرہیزگاری کا ایک بہترین نمونہ تھے بزم طلبائے قدیم ومحبان جامعہ نظامیہ جدہ کی جانب سے جلسہ تعزیت

جدہ۔ سعودی عرب (بذریعہ ای میل) حضرت مفتی محمد عظیم الدین نقشبندی ؒ صدر مفتی جامعہ نظامیہ نے علم و عمل‘ تقویٰ وپرہیزگاری کا ایک بہترین نمونہ پیش کرتے ہوئے رہتی دُنیا تک اپنی یادیں چھوڑکر گئے ہیں۔ مفتی صاحب ؒ ہمیشہ اپنے فتاوی کے ذریعہ امّت مسلمہ کے ہر چھوٹے بڑے مسئلہ کو حل فرماتے۔ حق گوئی میں آپکا کوئی ثانی نہیں تھا‘ کسی بھی مسئلہ کو پوری ذمّہ داری سے بیان فرماتے۔مفتی صاحب ؒ اکل حلال کے معاملہ میں اتنا احتیاط کیا کرتے کہ کسی بھی دعوت میں جاتے تو اپنے جانب سے نذارنہ پیش کیا کرتے‘ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا معاملہ ہے‘ تو جواباً فرمائے کہ بابا میں اسلئے ایسا کرتا ہوں کہ اگر داعی محفل کے مال میں ذرا برابر بھی خراب مال ہوا تو میں اپنے مال سے تناول کرنے کے حکم میں آجاؤنگا۔ ان خیالات کا اظہارمولاناڈاکٹر حافظ سید شاہ خلیل اللہ بشیراویس بخاری نقشبندی نے بزم طلبائے قدیم ومحبان جامعہ نظامیہ جدہ کے زیراہتمام جلسہء تعزیت حضرت مفتی عظیم الدین ؒ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حضرت سید عمادالدین احمد قادری معظم پاشاہ نے صدارت اور مولانا حافظ محمد عبدالسلام نقشبندی سرپرست بزم و مولانا حافظ محمد نظام الدین غوری صوفی قادری صدر بزم نے جلسہ کی نگرانی کی۔ محمد وجاہت علی فہد قادری کی قرأت اور محمد شاداب احمد قادری و سید صابر صابری کی نعت شریف سے جلسہ کا آغا ز ہوا۔ مولانا حافظ سید قادرمحی الدین قادری الموسوی الجیلانی مجتبیٰ پاشاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب ؒ اسلاف کی سیرتوں کا ایک نمونہ تھے‘ ہر ایک سے محبت سے پیش آتے اور خصوصاً ساداتِ کرام سے محبت کا اظہار فرماتے۔علمی لیاقت کا یہ معاملہ کہ ۷۱ سال کی عمر میں فتوی جاری فرمایااور طویل عرصہ تک صدر مفتی کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس موقع پر مولانا حافظ محمد نصیرالدین کامل جامعہ وسابق صدر بزم‘ مولانا ڈاکٹر حافظ حیدر علی خان کامل جامعہ نظامیہ‘ میر محمد علی‘ سید احتشام علی خان نائب معتمد حجاج کمیٹی بزم‘ جناب محمد عبدالمجیب صدیقی‘ جناب سید رفیع الدین نقشبندی‘جناب محمد عبدالمجید نقشبندی‘ مرزا عبدالرحمن بیگ اور جناب شاہ محمد شرف الدین شرفی وغیرہ موجود تھے۔ آخر میں صدرِ جلسہ کی دُعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔ جناب میر شجاعت علی شعیب‘ جناب حمایت علی‘ جناب محمد تقی الدین‘ محمد ایوب خان قادری‘ میر یونس علی انس وغیرہ نے انتظامات میں حصہ لیا۔